تحریر: مسعود جاوید
مصر ، ایران اور یمن کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جغرافیائی طور پر بہت اہم اور اسٹریٹیجک آبی گزرگاہوں کی شکل میں نعمت غیر مترقبہ سے نوازا ہے۔ مصر کو آبی گزرگاہ "قناة السويس” سے، ایران کو آبی گزرگاہ آبنائے”ھرمز” سے اور یمن کو آبی گزرگاہ "باب المندب” سے ۔خام تیل ۔پٹرول، گیس ، پیٹروکیمیکل اور دیگر مصنوعات و خام اشیاء کی نقل و حرکت دنیا کے زیادہ تر ملکوں میں انہی آبی گزرگاہوں سے ہوتی ہے۔ اگر اس پر کنٹرول جغرافیائی طور پر جس ملک کے حصے میں ہے اس کی بجائے کوئی دوسرا ملک چاہے تو کیا یہ مقامی لوگوں کے لیے قابل قبول ہوگا؟ ظاہر ہے نہیں ۔ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے مال بردار جہازوں سے متعلق ملک ٹول ٹیکس بھی وصول کرتا ہے۔ چنانچہ مصر اور وسطی امریکہ میں پاناما گزرگاہ ٹیکس سے ہزاروں ڈالر ماہانہ کماتے ہیں ۔
1981 میں پٹرولیم سے مالا مال خلیجی ممالک نے جی سی سی یعنی گلف کوآپریٹیو کونسل تشکیل دی ۔۔۔ یہ تنظیم جیسا کہ نام سے ظاہر ہے خلیجی ممالک ؛ سعودی عرب ، امارات ، قطر، بحرین، کویت اور عمان پر مشتمل ہے تاہم اسٹریٹیجک طور پر اس تنظیم نےکوئی قابل ذکر کارنامہ یا فیصلہ نہیں کر پایا۔ (ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اپنے ملکوں کو دنیا کے محفوظ ترین ملکوں میں شامل کیا ہے۔ مثال کے طور پر دبئی دنیا بھر کے امیر ترین لوگ نہ صرف گھومنے پھرنے چھٹیاں گزارنے بلکہ انویسٹمنٹ کرنے آئے ہیں) ۔ اگر یہ چاہتے تو یورپ کی طرح ایک کرنسی یورو اور کسی ایک ملک کا ویزہ خلیجی تعاون کونسل کے ہر رکن ملک کے لئے قابل قبول ہو ایسا نظام رائج کرتے۔
ان خلیجی ممالک میں نظام ریاست و حکومت monarchy یعنی بادشاہی ہے یعنی جمہوریت کے برعکس ۔ گرچہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خلیجی حکومتیں ہر طرح کے اقدامات کرتی ہیں بلکہ صحیح معنوں میں یہ رفاہی ریاستیں (ویلفیئر اسٹیٹ ) ہیں۔ کمی ہے تو صرف عوامی رائے ،الیکشن اور ووٹنگ کے ذریعے حکمران کا انتخاب کی۔
یہ چھ ممالک بطور اقتصادی اور تجارتی ترقی ، کم و بیش یکساں ہیں ۔ اس خلیجی تنظیم میں شرکت کے متمنی پڑوس کے عرب ممالک ؛ عراق، مصر، اردن اور یمن تھے جن کی مالی حالت اور سیاسی نظام ریاست خلیجی ممالک کے متماثل نہیں تھے۔ خلیجی ممالک میں آٹوکریسی شاہی / خاندانی نظام ہے تو غیر خلیجی ممالک میں جمہوریت ‘گرچہ بہت کمزور’ ہے۔ شاید اسی لیے ان کو خلیجی تعاون کونسل میں شامل نہیں کیا گیا ۔
عراق اور ایران جنگ کے بعد ١٩٨٩ میں عراق کی پہل پر عراق، مصر ، اردن اور یمن نے "عرب تعاون کونسل” اے سی سی کی داغ بیل ڈالی ۔ اس میں ایک بند یہ بھی لکھا گیا کہ ان ممبر ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ چاروں پر حملہ سمجھا جائے گا اور چاروں ممبر ممالک مشترکہ طور پر دفاعی کارروائی کریں گے۔ یعنی نیٹو کی طرح دفاعی اتحاد۔
ظاہر ہے یہ بند بہت سے ممالک کو پسند نہیں آیا ہے گا۔ اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد عراق نے کویت پر حملہ کیا اور اب کویت کی طرف سے جواب حملہ کی باری تھی۔ ایسے وقت میں عرب تعاون کونسل کے لئے صورت حال پیچیدہ ہوگئی ۔ ایک طرف ان ممبر ممالک کے خلیجی ممالک سے نہ صرف اچھے تعلقات بلکہ مالی امداد اور دوسری طرف نو تشکیل شدہ اے سی سی کے بند کا "مشترکہ دفاع” کا عہد ۔۔ ظاہر ہے خلیجی ممالک بالخصوص کویت کے پاس دفاع کرنے کے لئے وافر فوج اور اسلحے نہیں تھے۔ اس نے امریکہ سے مدد مانگی۔
اے سی سی بالخصوص یمن نے کویت اور خلیجی ممالک سے کہا کہ عرب ، بغیر کسی خارجی مداخلت کے ، عراق – کویت تنازعہ حل کرے ۔ ثالثی کی پیشکش بھی کی گئی ۔۔لیکن کویت نے امریکی مدد لینا مناسب سمجھا ۔۔۔ "عرب تعاون کونسل” نے رکن ملک مصر سے کہا کہ وہ امریکی بحری بیڑوں کو آبی گزرگاہ سویس قناة سے گزرنے کی اجازت نہ دے ۔۔۔۔ مصر نے نومولود "عرب تعاون کونسل ” سے کنارہ کشی کر لی۔
اس طرح چار عرب ملکوں پر مشتمل نو تشکیل تنظیم "عرب تعاون کونسل ” ختم ہو گئی اس کے بعد امریکی بحری بیڑے آئے اور جزیرہ عرب میں ٹھکانے بنائے اور پھر جو کچھ ہوا وہ خونی تاریخ کا حصہ ہے۔
تاریخ میں یہ بھی درج ہے کہ تیل کی دولت سے مالا خلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے کی بجائے غیروں سے دفاعی معاہدے پر زیادہ انحصار کیا۔
لیکن ملک کی زمین اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے اسی مٹی کے جیالوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وطن کے جوانوں میں جو جذبہ اور وطن عزیز کے لئے مٹنے کا جنون ہوتا ہے وہ غیروں کی افرادی قوت اور اسلحہ جاتی لیاقت میں کہاں ! بھاڑے کے ٹٹو کب تک!
اس جیو پولیٹیکل صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات سمجھنے کی کوشش کریں گے تو سمجھ میں آئے گا کہ حالیہ جنگ عربی مقابل فارسی یا شیعہ مقابل سنی کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔ یہ ان ملکوں کے جغرافیائی ، اقتصادی اور سیاسی مسائل ہیں اس لیے اسے اسی عینک سے دیکھیں بلا وجہ اللہ اور رسول کا واسطہ دے کر عربوں کے خلاف ورغلانے یا مملکت توحید کا حوالہ دے کر شیعوں کے خلاف محاذ آرائی کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ویسے بھی ہمارے اور آپ کے بھڑاس نکالنے سے جنگ کے زمینی حالات پر ذرہ برابر فرق نہیں پڑے گا ۔ تو خواہ مخواہ اتحاد امت کی بجائے انتشار امت کا سبب نہ بنیں۔