عدالتی نا انصافی اور اظہار خیال کی آزادی پر پابندی!

از:- سرفراز احمد قاسمی حیدرآباد

برطانیہ کے مشہور مفکر جان اسٹوارٹ مل نے لکھا تھا کہ تاخیر سے دیا گیا انصاف دراصل ناانصافی ہی ہے،ہمارے ملک میں آج بھی انگریزوں کا نافذ کیا گیا نظام عدل جاری ہے،آزادی کے تقریبا 80 سال مکمل ہونے جارہے ہیں لیکن ہندوستان میں آج تک ایک بھی ایسا وزیراعظم پیدا نہیں ہوا جو دنیا کے قدیم ترین نظام عدل جو کہ ہندوستانی ہی ہے کو نافذ کرنے کی کوشش کرتا،اس کا نتیجہ بد ہے کہ آج ہندوستان کی عدالتوں میں پانچ کروڑ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں،جو انصاف چند دنوں میں مل جانا چاہیے،اسے ملنے میں 30 30 اور 40 40 سال لگ جاتے ہیں، کئی معاملوں میں تو جج، وکیل اور مدعی سب مرجاتے ہیں، کئی لوگ برسہا برس جیل میں سڑتے رہتے ہیں اور جب ان کا فیصلہ آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے گناہ تھے آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ایسا اس لیے بھی ہوتا ہے کہ بیچارے جج کیا کریں؟ ایک ہی دن میں وہ کتنے مقدمے سنیں،ملک کی عدالتوں میں ابھی بھی ہزاروں عہدے خالی پڑے ہیں،لاء کمیشن کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ابھی تقریبا 20 ہزار جج ہیں،ان کی تعداد 2 لاکھ ہونی چاہیے،اتنے ججوں کی ضرورت ہی نہیں ہوگی،اگر لاء کمیشن کی فکرٹھیک ہوجائے،اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ ہمارا پورا عدالتی نظام آنکھ بند کرکے چل رہا ہے،اگر ہندوستان کی عدالتیں ہندوستانی زبانوں میں بحث اور فیصلے کرنے لگے تو فیصلے بھی بہت جلد ہوں گے اور 20 30 ہزار جج ہی ہندوستان کے لیے کافی ہونگے،ہندوستان میں 18 لاکھ وکیل ہیں وہ کم نہیں پڑیں گے،اگرعدالتوں میں ہندوستانی زبانیں چلیں گی تو مؤکلوں کو بحث اور فیصلوں کو سمجھنا بھی آسان ہوگا اور ان کی دھوکہ دہی بھی کم ہوگی لیکن یہ انقلابی تبدیلی لانے کی ہمت کون کرسکتا ہے؟وہی لیڈر کر سکتا ہے جو احساس کمتری کا شکار نہ ہو اور جس کے پاس ہندوستان کو سوپر پاور بنانے کا ویژن ہو،اگر آزاد ہندوستان میں ہمارے پاس ایسے کوئی بڑے لیڈر ہوتے تو یہاں کا عدالتی نظام کب کا سدھرجاتا لیکن ہمارے زیادہ تر لیڈر تو بیوروکریٹس کی غلامی کرتے ہیں،یہ غلامی خفیہ اور غیرمرئی ہے،عوام کو یہ بات آسانی سے معلوم نہیں ہوتی،لیڈروں کو بھی یہ فطری معلوم ہوتا ہے اگر وہ بھی یہ سمجھ جاتے تو کیا ہندوستان کی پارلیمنٹ اب بھی اپنی بنیادی قوانین،انگریزی میں بناتی اور پاس کرتی،جو ممالک انگریزوں کے غلام نہیں رہے اگر آپ ان پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے قانون اپنی زبان میں ہی بناتے ہیں،اس لیے ان کے عوام کو فراہم کیا جانے والا انصاف،سستا،قابل رسائی اور بروقت ہوتا ہے،وہاں انصاف کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا نہیں ہوتا،نہ جانے ہندوستان میں وہ دن کب آئے گا؟ہندوستان کی جدید سیاسی تاریخ میں عمر خالد کا نام اس عدالتی جبر اور سیاسی انتقام کا استعارہ بن چکا ہے جو وطن عزیز کی جمہوری روح کو جھلسارہا ہے،تہاڑ جیل کی کال کوٹھری میں گزرنے والے 1825 سے زائد ایام اس آئین کی پامالی کے نوحے ہیں،جس نے ہرشہری کو حیات و آزادی کی ضمانت دی تھی،ستمبر 2020 سے لے کر آج یعنی 2026 کے آغاز تک،عمر خالد کو بغیر کسی ثابت شدہ جرم کے سلاخوں کے پیچھے رکھنا اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ اب یہاں قانون کا راج نہیں بلکہ راج کا قانون رائج ہوچکا ہے،یہ ایک ایسا المیہ ہے جہاں ضمانت کو ایک رعایت کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور جیل کو ایک مستقل سزا بنا دیا گیا ہے،حالانکہ ابھی ٹرائل کا باقاعدہ آغاز تک نہیں ہوا،پھر ضمانت نہ دینے کا مطلب کیا ہے؟ بین الاقوامی افق پر اس معاملے نے جوارتعاش پیدا کیا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اب ہندوستان کے داخلی معاملات میں انسانی حقوق کی پامالی کو عالمی سطح پر نظرانداز کرنا ناممکن ہو گیا ہے،30 دسمبر 2025 کو 8 امریکی ڈیموکریٹک قانون سازوں جن میں جم میک گورن،جیمی راسکن،پر میلا جے پال اور راشدہ طالب جیسے بلند آہنگ نام شامل ہیں،نے ہندوستان کے سفیر و نئے موہن کواترا کو جو مکتوب لکھا وہ صرف ایک سفارتی خط نہیں بلکہ ہندوستان کے نظام عدل پر ایک تازیانہ ہے،ان عالمی رہنماؤں نے دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ یو اے پی اے(UAPA) جیسے سخت قوانین کا استعمال سیاسی مخالفین کی آواز دبانے کے لئے کرنا کسی بھی مہذب جمہوریت کو زیب نہیں دیتا،نیو یارک کے میئر زہران ممدانی کا عمر خالد کو ذاتی خط لکھنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ نوجوان اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جاچکا ہے،دوسری جانب حکمراں جماعت بی جے پی کا رد عمل اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے،اس عالمی تشویش کو راہل گاندھی کی بیرون ملک ملاقاتوں یا کسی بین الاقوامی سازش سے جوڑنا دراصل حقائق سے فرار کی ایک بھونڈی کوشش ہے،پردیپ بھنڈاری جیسے سیاست دانوں کا یہ واویلا کہ ملک کو بدنام کیا جارہا ہے،اس وقت مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے،جب خود ملک کے اندر عدالتی عمل سست روی کا شکار ہو،دہلی پولیس کے دعوے کے مطابق اگر ثبوت اتنے ہی پختہ ہیں تو پھر پانچ سال تک ٹرائل شروع کیوں نہیں ہوسکا؟ تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یو اے پی اے کی دفعات کو ایک ایسے آہنی پنجرے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے جس کی چابی انتظامیہ نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے اور عدلیہ محض تماشائی بنی ہوئی ہے،31 اکٹوبر 2025 کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا بے نتیجہ رہنا،اس مایوسی میں مزید اضافہ کرتا ہے جو انصاف کے متلاشی خاندانوں کا مقدر بن چکی ہے،سپریم کورٹ میں اپنے بیٹے کی ضمانت مسترد ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے عمر خالد کے والد ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ نے ملزمین میں فرق کیا ہے،اس نے انہیں دو مختلف گروپس میں بانٹا ہے،حالانکہ ان سبھی کے خلاف درج ہونے والا کیس ایک ہی ہے،پھر فیصلہ الگ الگ کیوں؟آئی اے این ایس سے بات چیت میں ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے سات ملزمین کو دو زمروں میں بانٹنے کی منطق پر سوال اٹھایا،انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس نے تو اس کیس میں کوئی تفریق نہیں برتی،عمر خالد اور شرجیل امام کو نظریاتی آرکیٹیکٹ قرار دیا گیا جبکہ دیگر کو ان کے ماننے والے بتایا گیا،تاہم ایسا دعوی دہلی پولیس کی چارج شیٹ میں نہیں کیا گیا،سپریم کورٹ نے پیر کے دن عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا اور دیگر پانچ ملزمین گلفشاں فاطمہ،میراں حیدر،شفاء الرحمن،محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو مشروط ضمانت منظور کی تھی،قاسم رسول الیاس نے اپنے بیٹے عمر خالد کا پرزور دفاع کیا جو پانچ سال سے جیل میں بند ہے،انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے کیونکہ فسادات کے وقت وہ نہ تو دہلی میں تھا اور نہ ہی اس نے ایسی کوئی بات کہی تھی جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ بے چینی پھیلی ہو،عمر نے شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کیا تھا،ہرشہری اور ہرایک کو یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ آیا جمہوریت میں اسے اختلاف رائے کا حق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شخصیت پرستی کی نفسیات اور ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ

گزشتہ سال ستمبر میں ایک شخص کو مقدمات چلائے بغیر غیرمعینہ مدت تک حراست میں رکھنے پر سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کی سخت سرزنش کی تھی،سرینڈر گڈ لنگ کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریاست سے سوال کیا تھا کہ آپ مقدمہ چلائے بغیر کسی کو کب تک اورکتنے دنوں تک جیل میں رکھ سکتے ہیں؟جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بینچ نے مقدمہ چلائے بغیر طویل عرصے تک لوگوں کو جیل میں رکھنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا،انھوں نے سوال کیا کہ مقدمہ میں تاخیر کی آخر کیا وجہ ہے؟ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ زیر غور کیس 2016 میں سورج گڑھ میں آتش زنی سے تعلق رکھتا ہے،سینئر وکیل آنند گروور، انسانی حقوق کے وکیل سرینڈر گڈ لنک کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل زائد از 6 سال سے سلاخوں کے پیچھے ہے،سورج گڑھ کیس میں وہ ابھی بھی جیل میں ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ مقدمہ کی کاروائی کو الزامات وضع کرنے کے مرحلے پر روک دیا گیا ہے،اس کیس میں جون 2019 میں چارج شیٹ داخل کی گئی تھی گروور نے دونوں کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل نے کورے گاؤں بھیما کیس میں زیر دریافت قیدی کی حیثیت سے جیل میں سات سال گزارے ہیں،انہوں نے کہا کہ بنیادی یہ حقائق یہ ہیں کہ درخواست گزار ایک وکیل ہیں وہ بے حد کامیاب وکیل رہے ہیں اور یہ بات بڑی غیر معمولی اور افسوسناک ہے کہ کسی وکیل کو اس طرح کے کیس میں قید رکھا جائے،جبکہ قومی تحقیقاتی ایجنسی ان کے کیس کی تحقیقات کررہی ہے۔سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں حکومت سے یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ مقدمہ چلائے بغیر آپ کسی کو کتنے سال جیل میں رکھ سکتے ہیں؟ اور کیوں انھیں جیل میں رکھا جائے؟اعداد و شمار کی زبان میں بات کی جائے تو صورتحال مزید بھیانک نظر آتی ہے،ملک میں اظہار خیال کی آزادی پر جس طرح کے منظم اور خطرناک حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں وہ نہ صرف آئینی اقدار کے لیے لمحہ فکریہ ہیں بلکہ جمہوری نظام پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں،
فری اسپیج کلیکٹو کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اظہار رائے پر حملوں کی تعداد 14875 تک جا پہنچی ہے۔جب ایک ہی سال میں 8 صحافی قتل کردیے جائیں،117 افراد کو محض اختلاف رائے پر پابند سلاسل کردیا جائے اور ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو سینسرشپ کی بھینٹ چڑھا دیا جائے تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوی کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے،رپورٹر زود آؤٹ بارڈر اور ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹیں چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہندوستان میں صحافت کا دم گھوٹا جارہا ہے اور غیر ملکیوں کے لیے بنائے گئے نئے ضوابط( میگریشن اینڈ فارنرز آرڈر 2025) دراصل دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ایک نیا حربہ ہے۔سینکڑوں گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اختلافی آوازوں کے لئے فضا تیزی سے تنگ کی جارہی ہے،حالانکہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اظہار خیال کی آزادی کو آئینی تحفظ حاصل ہے،باوجود اس کے گزشتہ سال کے اعداد و شمار اس حق پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں،اظہار خیال کی آزادی سے متعلق معاملات کی نگرانی کرنے والی تنظیم فری اسپیچ کلیکٹو کی تازہ رپورٹ میں جس طرح کے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں یہ محض اعداد نہیں بلکہ جمہوریت کے اس بنیادی ستون کی کمزوری کا کھلا اعتراف ہے،جس کے بغیر کسی بھی جمہوری نظام کا تصور ممکن نہیں ہے۔یہ واقعات محض انفرادی جرائم نہیں بلکہ صحافت اور آزادئ رائے پر منظم دباؤ کی علامت ہے،فری اسپیج کلیکٹو نے کہا ہے کہ اظہار رائے سے متعلق 40 حملوں میں سے 33 صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا،جبکہ ہراسانی کے 19 میں سے 14 واقعات بھی صحافیوں سے جڑے تھے،اسکے علاوہ صحافیوں کو دھمکیاں دیے جانے کے 12 واقعات بھی رپورٹ میں درج ہیں،تنظیم کے مطابق گزشتہ سال کے دوران 117 گرفتاریاں عمل میں آئی،جن میں 8 صحافی شامل تھے،رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کشمیر کے عرفان معراج اور جھارکھنڈ کے روپیش کمار بدستور غیر قانونی سرگرمیاں( روک تھام) ایکٹ( یو اے پی اے) کے تحت حراست میں ہیں،عرفان معراج مارچ 2023 سے اور روپیش کمار جولائی 2022 سے جیل میں ہیں،اپوزیشن جماعتیں ان اعداد و شمار کو محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سیاسی طرز عمل قرار دے رہی ہیں،اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق قانونی دفعات سنسرشپ اور گرفتاریوں کے ذریعے اختلافی آوازوں کو دبایا جارہا ہے،رپورٹ میں درج 208 مقدمات یعنی مخالفین کو ہراساں کرنے کے لیے قانونی کاروائیاں خدشات کو تقویت دیتے ہیں،اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جب قانون خود خوف کی علامت بن جائے تو شہری آزادی محض کاغذی دعوی رہ جاتی ہے۔اظہار خیال کی آزادی کے حقوق کے ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں سنترشپ اور انٹرنیٹ کنٹرول کے واقعات کسی بھی جمہوری ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں،فری اسپیج کلیکٹو کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں 11385 سنسر شپ کے واقعات اور 3 ہزار 70 انٹرنیٹ کنٹرول کے معاملات(جس میں انٹرنیٹ بندش اور موبائل ایپس بلاک کرنا شامل ہے) ریکارڈ کیے گئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات معلومات کے آزاد بہاؤ کو روک کر عوامی مکالمے کو محدود کرتے ہیں،رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ گجرات میں اظہار خیال کی آزادی کی سب سے زیادہ 108 خلاف ورزیاں ہوئیں،اس کے بعد اتر پردیش میں 83 اور کیرالہ میں 78 واقعات پیش آئے،یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاستی سطح پر بھی آزادی اظہار کے تحفظ میں شدید عدم توازن پایا جاتا ہے،فری اسپیج کلیکٹو نے تعلیمی اداروں میں سنگین سنسرشپ کے کم از کم 16 واقعات کی بھی نشاندہی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جب نفرت میرٹ پر غالب آ جائے

رپورٹ میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 اور نومبر میں وضع کیے گئے اس کے قوانین پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے،تنظیم کے مطابق یہ قوانین صحافت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور حق معلومات کے قانون کو کمزور کر کے ہندوستان کے شفافیت کے نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں،ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر معلومات تک رسائی محدود ہوئی تو احتساب کا پورا ڈھانچہ کمزور پڑجائے گا،فری اسپیج کلیکٹو کی رپورٹ کسی سیاسی بیان بازی کا حصہ نہیں بلکہ ایک دستاویزی حقیقت ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اظہار خیال کی آزادی ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے،اپوزیشن کے خدشات ہوں یا ماہرین کی آراء دونوں اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو جمہوریت کا دائرہ سکڑ کر رہ جائے گا،عمر خالد کا مقدمہ صرف ایک فرد کی آزادی کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ اس سوچ کے خلاف مزاحمت ہے،جو اختلاف کو غداری قرار دیتی ہے، کیا ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں جے این یو جیسے تعلیمی اداروں سے اٹھنے والی سماجی انصاف کی آوازوں کو یو اے پی اے کی بھٹی میں جھونک دیا جائے گا؟ کیا عدلیہ اپنی اس تاریخی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوگی؟ جس کا مقصد کمزور کی طاقتور سے حفاظت کرنا ہے،آج اگر عمر خالد،شرجیل امام اور خالد سیفی جیسے کارکنان کو منصفانہ ٹرائل اور ضمانت کا حق نہیں ملتا ہے تو تاریخ یہ لکھنے پر مجبور ہوگی کہ 21کیسویں صدی کے ہندوستان میں انصاف صرف طاقتور کی لونڈی بن کررہ گیا تھا،بین الاقوامی دباؤ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دہائیاں اس وقت تک بے اثر رہیں گی جب تک ہندوستان کا اپنا ضمیر بیدار نہیں ہوتا،وقت آگیا ہے کہ حکومت اور ریاست سیاسی انتقام کی عینک اتار کر آئین کی روشنی میں فیصلے کرے،ورنہ یہ قید خانے صرف انسانوں کو نہیں بلکہ جمہوریت کے مستقبل کو بھی دفن کردیں گے۔

(مضمون نگار،معروف صحافی،تجزیہ نگار اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔