علماء و دانشوران کا اجتماع، ملت کی خدمت اور پیغامِ جمعیت کو گھر گھر پہنچانے کے عزم کا اعادہ
پورنیہ/امور:
دینی و ملی بیداری کی علامت اور اکابرین کی امانت سمجھی جانے والی تنظیم جمعیت علماء ضلع پورنیہ (مشرقی زون) کے زیرِ اہتمام آج ایک باوقار اور بامقصد تنظیمی نشست ایکس لینٹ ایجوکیشن سینٹر، آم گاچھی، امور میں منعقد ہوئی۔ اس مجلس میں امور بلاک کے مغربی زون کی نو پنچایتوں کے ذمہ داران، علماء کرام، حفاظ اور اہلِ فکر و دانش کی نمایاں شرکت نے اجتماع کو سنجیدگی، وقار اور فکری حرارت عطا کی۔
نشست کا مقصد تنظیمی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانا اور دینی و سماجی خدمات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا تھا۔ اسی پس منظر میں جمعیت علماء ضلع پورنیہ (مشرقی زون) کے سیکرٹری مولانا ابوصالح قاسمی کی موجودگی میں باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے امور بلاک کو دو حصوں مغربی اور مشرقی زون میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ کام میں آسانی، رفتار اور نظم و ضبط پیدا ہو اور ہر سطح پر ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ممکن ہو سکے۔
بعد ازاں مغربی زون کی نو پنچایتوں کے ذمہ داران اور علماء کی موجودگی میں باقاعدہ انتخابی عمل انجام پایا، جس کی نگرانی اور کارروائی کی ترتیب مولانا عارف حسین ندوی، ناظمِ تنظیم و ترقی نے انجام دی۔
انتخاب کے نتیجے میں مفتی شوکت عالم صاحب قاسمی صدر، جناب طارق انور صاحب سکریٹری، مفتی مشیر احمد صاحب نائب صدر، مولانا سرفراز احمد ندوی نائب سکریٹری اور مفتی طارق انور صاحب قاسمی خزانچی منتخب ہوئے، جب کہ مجلسِ عاملہ میں ڈاکٹر شمیم احمد، حافظ مزمل عالم، مولانا نصیرالدین، مولانا توصیف احمد، مولانا عبد الودود اور مولانا منتصر احمد کو شامل کیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوصالح قاسمی جنرل سیکریٹری جمعیت ضلع پورنیہ نے کہا کہ جمعیت کا پیغام محض اجلاسوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے گھر گھر پہنچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منظم جدوجہد اور اجتماعی ہم آہنگی کے بغیر ملت کی صحیح رہنمائی ممکن نہیں، اسی لیے تنظیمی تقسیم اور ذمہ داران کا تقرر ایک ناگزیر قدم ہے۔
مولانا عارف حسین ندوی ناظم تنظیم و ترقی نے اپنے فکر انگیز خطاب میں جمعیت کی تاریخ، خدمات اور اس کے فکری ورثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت ہمارے اکابر و اسلاف کی امانت ہے۔ ہمیں انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اخلاص، دیانت اور قربانی کے جذبے کے ساتھ ملت کی رہنمائی کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وارثینِ رسول ہیں، اس لیے ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی اور ملی مفاد کو ترجیح دینا ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔
اجلاس میں مولانا توصیف ندوی، مولانا سرفراز ندوی اور مفتی شوکت قاسمی نے بھی اپنے خیالات پیش کیے اور اتحاد، نظم اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
مجلس میں مولانا نصیرالدین قاسمی، ڈاکٹر شمیم احمد، مولانا عبد الودود، مولانا منور حسین، حافظ محمد مشفق، قاری افروز عالم ، مفتی طارق انور اور حافظ محمد شاکر سمیت کثیر تعداد میں علماء، حفاظ اور اہلِ دانش شریک رہے، جس سے اجتماع کی معنویت اور وقار میں مزید اضافہ ہوا۔
نشست کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جمعیت علماء کے پلیٹ فارم سے دینی، تعلیمی اور سماجی خدمات کے دائرے کو مزید وسعت دی جائے گی اور ملت کی رہنمائی کا فریضہ پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جاتا رہے گا۔