اپنے حج کو ضائع ہونے سے بچائیں زائرین

از:- عبدالغفار صدیقی

اسلامی تہذیب وعبادات میں غیر اسلامی رسوم و رواج کے داخل ہونے اور بعض برائیاں پیدا ہونے سے ان کی روح نکل گئی ہے۔پیدائش سے لے کر وفات تک سیکڑوں ایسی رسمیں ہیں جن کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں۔خالص وہ اعمال جن کا تعلق اللہ کی پرستش سے ہے ان میں بھی بہت سی ایسی باتیں شامل کردی گئی ہیں جن کی وجہ سے ان کا اجر ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ان میں سے حج بھی وہ اہم عبادت ہے جس میں جانے اور ان جانے میں ہماری طرف سے ایسے اعمال سرزد ہوجاتے ہیں جو ہمارے حج کو مقبول سے غیر مقبول بنادیتے ہیں۔جب آپ ایک بڑی رقم خرچ کرکے،سفر کی تکلیف برداشت کرکے،اپنے عزیزوں کوچھوڑ کر،شدت کی اس گرمی میں حج کے لیے گئے ہیں تو اپنے حج کی حفاظت بھی کیجیے۔اس موقع پر آپ نے اپنی جان کابھی رسک اٹھایا ہے۔لاکھوں کی بھیڑ میں خود کوسنبھال کر رکھنا خودایک عظیم مجاہدہ ہے۔کوئی بھی حادثہ آپ کی جان لے سکتا ہے۔اس کے باوجود بھی آپ کی بعض نادانیاں آپ کے حج کے ثواب کو کم کرنے یا محروم کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔

انسان کی نیکیوں کو ضائع کرنے والی سب خطرناک شئی ریاکاری ہے۔ہرانسان چاہتا ہے کہ اس کی شہرت ہو،اس کا نام بلند ہو،لوگ اس کی تعریف کریں،اس کے نام کے جھنڈے گاڑے جائیں،اس کو اعزازات سے نوازا جائے،بعض اوقات اس کی یہ خواہش اس کے ذریعہ کیے گئے نیک عمل کو ضائع کردیتی ہے۔اگر یہ شہرت و نام وری انسان کے کاموں کے عوض از خود ہو،سماج یا حکومت اس کے کام سے خوش اور متاثر ہوکر کوئی اعزاز عطا کرے،اور وہ بادل ناخواستہ اس کو اللہ سے ڈرتے ہوئے قبول کرے تو کوئی حرج نہیں،لیکن دور حاضر میں اعزازات کے حصول کے لیے لوگ منصوبہ بندی اورسازشیں تک کرنے لگے ہیں،اپنے ہی پیسوں کے پھول خرید کر گل پوشی کراتے ہیں،جو معیوب ہی نہیں گناہ بھی ہے۔جس دین میں کسی کے منہ پر اس کی بے جا تعریف و تحسین کرنے کو ناپسند کیا گیا ہو اس دین میں اپنے منہ میاں مٹھو بننے یا پیسے دے کر اپنی تعریف کرانا کیسے قبول کیاجاسکتا ہے؟

آپ ریاکاری کا شکار کب اور کیسے ہوجاتے ہیں؟آپ کو پتا بھی نہیں چلتا۔آپ حج کرتے ہیں تو آپ کا جی چاہتا ہے کہ لوگ آپ کو حاجی کہہ کر پکاریں۔بعض ناعاقبت اندیش لوگ خود ہی اپنے نام کے ساتھ حاجی کا لاحقہ لگالیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک بنئے سے بہت سا سامان ادھار لے رکھا تھا۔اتفاق سے وہ حج کرنے چلا گیا۔حج سے واپس آکر بنئے کی دوکان پر پہنچا اور بولا:”لالہ جی! میرے حساب والا کھاتہ نکالیے۔“ بنیا بہت خوش ہوا۔اس نے سوچا،صاحب حج سے آئے ہیں تو شاید نیک ہوکر آئے ہیں،ان کو احساس ہوا ہو کہ قرض ادا کردینا چاہئے،وہ خوشی خوشی کھاتہ لایا،ان صاحب کے نام کاصفحہ کھولا،پیسے جوڑ کر بتانے والا ہی تھا کہ وہ بول اٹھے:”ذرا میرے نام کے ساتھ حاجی لکھ لو۔“

حج کے سفر روانہ ہوتے وقت بیشتر لوگ خود ہی اپنے اعزہ و رشتہ داروں سے ملاقات کرتے ہیں۔اس کے لیے وہ دوردراز تک کا سفر کرتے ہیں۔ہمارے ایک دوست حج کوگئے ہیں۔انھوں نے حج سے پہلے بجنور سے ممبئی اور احمد آباد کا سفر اسی لیے کیا کہ اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرلیں۔حالانکہ شریعت نے ایسی کوئی ہدایت نہیں دی ہے۔اگر کوئی رشتہ دارناراض ہے تو اس کی ناراضی دور کرنے کے لیے یہ زحمت اٹھائی جاسکتی ہے۔ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔اسی طرح واپس آنے کے باوجود بھی یہ خواہش دل میں انگڑائی لیتی ہے کہ لوگ ہم سے ملنے آئیں،ہمیں مبارک باد دیں۔ہمارے ایک عزیز حج کرکے واپس آئے۔لوگوں نے مبارکبادیاں دیں،ایک دن میں ان کے ساتھ موٹر سائکل پر کہیں جارہا تھا،راستے میں ایک معزز شخصیت سے ملاقات ہوئی۔علیک سلیک کے بعد حج سے واپس آنے والے ہمارے عزیز نے شکایت کی کہ:”حج سے واپسی کے بعد سب لوگ ملنے آئے مگر آپ ہم سے ملنے نہیں آئے۔“

حج سے واپسی پر صرف نام میں اضافہ نہیں ہوتا،بلکہ لباس اور وضع قطع بھی کچھ دن تک بدلی بدلی نظر آتی ہے۔سرپر ٹوپی،گلے میں عرفاتی رومال،ہاتھ میں تسبیح اسی کے ساتھ اگر جناب گنجے بھی ہوں تویہ وہ حلیہ ہے جسے آپ دیکھ کر پہچان لیجیے گا کہ موصوف حج کا فریضہ ادا کرکے آئے ہیں۔ یہ بھی دراصل ریا کی ہی ایک قسم ہے۔

حج سے واپسی کے بعد تعارف کراتے وقت بھی کچھ لوگ حاجی لگانا باعث اجر سمجھتے ہیں۔اسی طرح کا ایک واقعہ مرحوم سالک دھام پوری(اللہ مغفرت فرمائے) نے سنایا کہ”ایک بار میں ٹرین میں سفر کررہا تھا،سامنے ایک باریش شخصیت جلوہ فرما تھی،میں نے سلام کیا اور ان سے ان کا نام معلوم کیا،بڑے تپاک سے بولے:”حاجی۔۔۔۔۔“۔انھوں نے جوابا ًمیری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے کہا۔:”میں نمازی۔۔۔۔۔۔۔۔“۔اب وہ خفا ہوگئے،بولے یہ نمازی کیا ہوتا ہے،میں نے کہا کہ جو حاجی ہوتا ہے،جناب میں برسوں سے سجدے میں سر رگڑ رہا ہوں،میں آج تک نمازی کہلانے کا اختیار حاصل نہ کرسکا،اور ایک بار کے حج سے آپ حاجی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:

  • حیرت اس بات پر ہے کہ جس ذات اقدس سے حج کی رسومات اور شعائر زندہ و پائند ہ و موسوم ہیں اس ذات کے نام کے ساتھ ہم کبھی حاجی نہیں لگاتے،ہم کبھی حاجی ابراہیم علیہ السلام نہیں کہتے،نہ لکھتے ہیں۔جو پیغمبر اپنی جان دینے کے لیے تیار ہوگئے۔ان کے نام کا لاحقہ حاجی نہیں بن سکا۔جو ذات خاتم النبیین کہلائی،جس کے ننانوے نام باری تعالیٰ نے بیان کیے،جنھوں نے حج کے آداب ہمیں سکھائے،جنھوں نے کعبہ ہی نہیں عرش اعظم کی زیارت کی،ان کے نام کا جز حاجی نہ ہوسکا۔ہم میں سے کون ہے جو رسول اکرم ﷺ کا اسم مبارک لیتے وقت کہتا ہو ”حاجی حضرت محمد ﷺ“۔روایات کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر،نبی اکرم ﷺکے بعد ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرام،پھر تابعین و تبع تابعین و اولیاء کرام کی ایک کثیر تعداد ہے۔کیا ہم کسی کے ساتھ حاجی لکھتے ہیں۔؟ نہ حاجی معین الدین چشتیؒ،نہ حاجی نظام الدین اولیاء۔نہ اپنے فقہاء کے نام کے ساتھ حاجی لگاتے ہیں،میں نے کسی کتاب میں حاجی امام ابو حنیفہ لکھا نہیں دیکھا اور نہ کسی واعظ کی تقریر میں سنا۔وغیرہ وغیرہ۔آخر ان لوگوں کے ساتھ جب ہم حاجی نہیں لکھتے اور نہ ان کا ذکر کرتے وقت حاجی کا اضافہ کرتے ہیں تو پھر ان کے قدموں کی دھول،ہم جیسے ایرا غیرا نتھو خیرا کو کیا حق ہے کہ ہم اپنے نام کے ساتھ حاجی لگائیں۔آج بھی پوری عرب دنیا میں شاذو نادر ہی کوئی اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھتا ہو۔

    ریاکاری کے زمرے میں اب اسمارٹ فون نے بھی اپنی جگہ بنالی ہے۔بیشتر حجاج ہر روز کئی کئی بار اپنے فوٹو اور سیلفی سوشل میڈیا سائٹس پر اپ لوڈ کررہے ہیں،واٹس ایپ گروپ پر شیئر کررہے ہیں۔یہاں تک خواتین بھی اپنے فوٹوز ڈال رہی ہیں۔انھیں بے حجابی کا بھی احساس نہیں ہے۔

    کیا ہماری حرکتیں ریا و نمود میں شامل نہیں ہیں؟کیا ہمیں اس باب میں وہ مشہور حدیث نہیں پہنچی ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے اور جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں جگہ دی ہے۔جس میں ایک شہید،ایک عالم اور سخی کو صرف اس لیے جہنم میں بھیج دیا جائے گا کہ انھوں نے یہ عمل صرف دنیا میں نام وری کے لیے کیا تھا۔ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تمہیں شہید،عالم اور سخی کہہ دیا گیا، پھر حکم دیا جائے گا کہ انہیں منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ انھیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم)

    اس حدیث میں بطور مثال تین افراد کو پیش کیا گیاہے۔ورنہ معاملہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس نے کوئی خیرا ور بھلائی کا کام کیا،پھر اس کی نیت دنیا میں شہرت طلبی کی رہی تو اس کا حشر بروز حساب یہی ہوگا۔کیا حج کرنے اوراپنے نام کے ساتھ حاجی لکھنے کے پیچھے ہماری یہی نیت نہیں ہے کہ لوگ ہمیں حاجی کہیں اور ہمارے احترام میں اضافہ کریں۔ہمارا کیا حال ہوگا جب اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھے گا کہ تم نے میرے مال کا کیا کیا؟ہم جواب دیں گے بارالٰہا! ہم نے تیرے مال سے تیرے گھر کا حج کیا،تیرے رسولؐ کے روضہ کی زیارت کی۔اللہ فرمائے گا کہ یہ تو نے اس لیے کیا کہ لوگ تجھے حاجی کہیں،سو تجھے حاجی کہہ دیا گیا۔اب تیرے حج کا کوئی ثواب ہمارے دفتر عمل میں نہیں ہے۔اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ہیں جن میں ریا و نمود،دکھاوا،شہرت طلبی کی مذمت کی گئی ہے۔اول تو ہماری عبادتیں اس معیار مطلوب پر پوری نہیں اترتیں جو اللہ و رسول کو مطلوب ہے۔ہم عجمی لوگ تو دوران حج اداکیے جانے والے عربی زبان میں دعائیہ کلمات کا مطلب تک نہیں سمجھتے، بظاہر کچھ رسوم ادا کرکے آجاتے ہیں۔نہیں معلوم بارگاہ ایزدی میں حج مقبول بھی ہوتا ہے کہ نہیں،دوسری طرف ہم خواہ مخواہ حج مقبول کو بھی اپنی نادانیوں سے غیر مقبول کی فہرست میں شمار کرادیتے ہیں۔

    فضول خرچی بھی ہمارے دور میں حج کا لازمہ بن گئی ہے۔موجودہ دور میں سرکاری طور پر حج کے مصارف میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ عام مسلمان حج کا ارادہ نہیں کرسکتا۔اسی کے ساتھ ہمارے اہل مال لوگوں نے اس میں بعض فضول خرچیاں شامل کرکے سفر حج کو مزید مہنگا کردیا ہے۔تمام اعزہ سے ملاقات کے لیے جانے اور پھر روانگی کے وقت تمام اعزہ کے آنے جانے پر ہی ایک بڑی رقم خرچ ہوجاتی ہے۔اسی کے ساتھ سفر حج پر جانے سے پہلے دعوت عام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بعض بڑی دعوتوں میں کئی ہزار لوگ شریک ہوتے ہیں۔ہمارے شہر میں ایک صاحب نے تین ہزار لوگوں کی پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا۔ظاہر ہے اس پر کم و بیش چھ لاکھ روپے خرچ ہوئے ہوں گے۔اس کے علاوہ تحائف کے تبادلہ پر بھی اچھی خاصی رقم خرچ کی جاتی ہے۔حج کرنے والے افراد کا بیشتر وقت اسی منصوبہ بندی میں گزرجاتا ہے کہ ”کس کے لیے کیا لے جائے۔“یہ تمام مسرفانہ سرگرمیاں حج کی روح کو متاثر کرتی ہیں اور اجر کو کم کردیتی ہیں۔

    میں سمجھتا ہوں اس کی بڑی وجہ مقاصد عبادت سے ناواقفیت ہے۔حج تربیتی کیمپوں میں حج کرنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے،میدان حج میں نام نہاد معلمین بھی ظاہری اعمال کی درستی پر توجہ رکھتے ہیں۔حج کے مقاصد کیا ہیں؟حج کیوں کیا جاتا ہے؟اس کاروح و قلب پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں،دنیا کی زندگی میں حج کیا تبدیلیاں پیدا کرتا ہے؟اس پر شایدکئی گفتگو نہیں کرتا۔جب کہ اصل غوروفکر کرنے کے اصل موضوعات یہی ہیں۔

    اے عازمین حج! اپنی نیکیاں ضائع مت کیجیے۔آپ خوش نصیب ہیں کہ اللہ کے گھر کی زیارت کررہے ہیں،بیت اللہ کے گرد طواف کررہے ہیں،روضہ رسول کا دیدار کرکے درووسلام کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔اسے اپنی نادانیوں سے کیوں ضائع کرنے پر آمادہ ہیں۔آپ کی تصویر احباب کے دلوں میں موجود ہے،کراماً کاتبین آپ کی فلم بنانے کے لیے کافی ہیں۔بطور یادگار یا ڈٖاکیومنٹ ضرورت کے تحت دوچار فوٹوبنالیجیے۔اپنے وقت کو اللہ کی عبادت میں گزاریے۔اپنے گناہوں کو معاف کرایے،اپنی غلطیوں کا ادراک کرکے توبہ کیجیے۔اپنے دل کو مثل آئینہ بنا کر واپس آئیے۔میری دعا ہے کہ آپ کا حج مقبول ہو اور آپ بسلامت اہل خانہ میں واپسی کریں۔

    ایک تبصرہ چھوڑیں

    آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

    اوپر تک سکرول کریں۔