از:- عبد الاحد رحمانی ازہری
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر
یکم جولائی 2026ء سے اتراکھنڈ حکومت نے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو ختم کردیا اور اس کی جگہ اتراکھنڈ اسٹیٹ اتھارٹی فار مائناریٹی ایجوکیشن قائم کردی، جس سے جہاں اتراکھنڈ کے بورڈ کے مدارس تباہ ہوگئے وہیں آزاد اور غیر امداد یافتہ مدارس بھی چپیٹ میں آچکے ہیں، اتراکھنڈ حکومت کا یہ فیصلہ پورے ملک کے دینی تعلیمی نظام کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر آج اس ناانصافی کی چنگاری کو صرف اتراکھنڈ تک محدود سمجھ کر نظر انداز کردیا گیا تو بعید نہیں کہ کل یہی آگ ایک ایک کرکے دوسری ریاستوں تک پہنچے اور پھر ہر ریاست کے چھوٹے بڑے تمام مدارس اس کی لپیٹ میں آجائیں ، آسام کے مدارس تو بہت پہلے سے ہی ظلم کے نوالے بن چکے ہی ۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جب کسی ظلم، زیادتی یا ناانصافی کو ابتدا ہی میں نہیں روکا جاتا تو وہ آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
موجودہ حالات، سیاسی ماحول اور ماضی کے متعدد واقعات کے تناظر میں بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب حکومت مختلف معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل پر عوامی سوالات اور تنقید کا سامنا کر رہی ہو، تو ایسے حساس مذہبی معاملات کو سامنے لاکر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی اس کے ذریعے ان حلقوں کو بھی خوش کرنے کی سعی کی جاتی ہے جو مسلم مخالف سخت گیر پالیسیوں کو پسند کرتے ہیں۔ حکومت اس نتیجہ سے انکار کرسکتی ہے، لیکن موجودہ حالات اور ماضی کے متعدد واقعات کو دیکھتے ہوئے اس خدشے کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
خواہ اس فیصلے کے پس منظر میں جو بھی محرکات ہوں، اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اب اہلِ مدارس کیا کریں؟ کیا ہم صرف مذمتی بیانات جاری کرکے خاموش ہوجائیں؟ کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ چونکہ یہ اتراکھنڈ کا معاملہ ہے، اس لیے باقی ریاستوں کے مدارس محفوظ ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اگر آج ہم نے اس چنگاری کو بجھانے کی فکر نہ کی تو کل اس کی تپش ہر ریاست میں محسوس ہوگی۔
یہ وقت جذباتی نعروں سے زیادہ حکمت، اتحاد، قانونی جدوجہد اور منظم منصوبہ بندی کا ہے۔ اگر پوری ملت ایک آواز بن جائے تو جمہوری نظام میں بڑے سے بڑا فیصلہ بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔
اس سلسلہ میں میرا خیال ہے کہ درج ذیل لائحہ عمل یا کوئی اور مزید مضبوط لائحہ عمل تیار کرکے ظالمانہ فیصلہ واپس کروانے کی جد و جہد کو پوری مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانا چاہئے۔
-
1۔ پورے ملک کی تمام ملی اور دینی تنظیمیں متحد ہوں
ملک کی تمام دینی تنظیمیں، ملی ادارے، خانقاہیں، مساجد، تعلیمی ادارے اور مسلم قیادت فوری طور پر ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم کریں۔ اختلافات کو چند ماہ کے لیے ہی سہی، ملت کے اجتماعی مفاد پر قربان کردیا جائے۔
-
2۔ "تحفظِ مدارس قومی ایکشن کمیٹی” قائم کی جائے
ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں علماء، اصحاب ثروت، سینئر وکلاء، سابق جج، ماہرینِ تعلیم، صحافی اور سماجی شخصیات شامل ہوں، جو پورے ملک میں اس تحریک کی قیادت کرے۔
-
3۔ سپریم کورٹ تک مضبوط قانونی جنگ لڑی جائے
ماہر وکلاء کے ذریعے فوری طور پر قانونی کارروائی کی جائے۔ چونکہ یہ فیصلہ آئینی حقوق، خصوصاً مذہبی اور تعلیمی آزادی سے متصادم ہے لہذا عدالتوں میں پوری قوت کے ساتھ اس معاملہ کو رکھا جائے۔
-
4۔ حکومت سے مسلسل مذاکرات کیے جائیں:
جذباتی ٹکراؤ کے بجائے مدلل اور باوقار انداز میں وزیراعلیٰ، متعلقہ وزراء اور حکام سے ملاقاتیں کی جائیں اور انہیں بتایا جائے کہ مدارس ملک کے دشمن نہیں بلکہ قوم کے معمار ہیں اور جنگ آزادی کے حصہ دار رہے ہیں۔
-
5۔ پورے ملک میں عوامی بیداری مہم چلائی جائے:
ہر ضلع، ہر شہر اور ہر قصبے میں جلسے، سیمینار، پریس کانفرنسیں اور عوامی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ لوگوں کو مدارس کی حقیقی خدمات سے آگاہ کیا جاسکے اور مدارس کے خلاف اٹھنے والے فتنے سے باخبر کیا جاسکے۔
-
6۔ سوشل میڈیا پر منظم مہم:
ہزاروں نوجوانوں پر مشتمل ایک میڈیا ٹیم بنائی جائے جو مختلف زبانوں میں مدارس کی خدمات، آئینی حقوق اور اس فیصلے کے ممکنہ اثرات کو مہذب، مدلل اور مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرے۔
-
7۔ تمام انصاف پسند اہلِ وطن کو ساتھ لیا جائے:
یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ آئین، مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور تعلیمی آزادی کا مسئلہ ہے۔ اس لیے ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ، جین، دلت، آدیواسی اور ہر انصاف پسند شہری کو اس آواز کا حصہ بنایا جائے۔
-
8۔ ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی کو جواب دہ بنایا جائے
ہر حلقے کے احباب اپنے منتخب نمائندوں سے سوال کریں کہ وہ اس مسئلے پر کیا موقف رکھتے ہیں۔ انہیں اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو اٹھانے پر مجبور کیا جائے۔
-
9۔ ملک گیر دستخطی مہم:
لاکھوں شہریوں کے دستخطوں پر مشتمل یادداشت صدرِ جمہوریہ، وزیرِ اعظم، گورنر اور وزیراعلیٰ کو پیش کی جائے تاکہ معلوم ہو کہ یہ چند اداروں کا نہیں بلکہ عوامی تشویش کا معاملہ ہے۔
-
10۔ پُرامن اور آئینی احتجاج:
ملک بھر میں مکمل امن، نظم و ضبط اور قانون کی پابندی کے ساتھ احتجاج، دھرنے، خاموش مارچ، دعائیہ اجتماعات اور یادداشتیں پیش کی جائیں تاکہ دنیا دیکھے کہ مدارس انصاف اور آئین کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
-
11۔ ہر مدرسہ اپنی قانونی بنیاد مضبوط کرے
یہ وقت صرف دوسروں کو دیکھنے کا نہیں بلکہ اپنے گھر کو بھی مضبوط بنانے کا ہے۔ تمام مدارس اپنی رجسٹریشن، ٹرسٹ، وقف، زمین، مالی ریکارڈ اور دیگر قانونی امور کو مکمل درست کریں تاکہ کسی کو قانونی بہانہ نہ مل سکے۔
آخری بات:
میرے بھائیو! اگر آج بھی ہم نے مسلکی، جماعتی اور شخصی اختلافات میں وقت ضائع کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ یہ وقت ایک دوسرے پر تنقید کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کرنے کا ہے۔
آج اتراکھنڈ ہے، کل کوئی اور ریاست ہوسکتی ہے۔ آج ایک مدرسہ بورڈ ختم ہوا ہے، کل کہیں اور مدارس کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آج ہی عہد کریں کہ ہم اس چنگاری کو یہیں بجھا کر دم لیں گے، اسے پورے ملک میں آگ بننے نہیں دیں گے۔
ایک دفعہ اور بھی ماضی میں پڑی قوت کے ساتھ یہ چنگاری اٹھی تھی اللہ غریق رحمت کرے امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو کہ انہوں نے اپنے مخلص رفقاء اور پورے ملک کے علماء و دانشور ان کو ساتھ لیکر ایسی تحریک چلائی اور خانقاہ رحمانی مونگیر میں ایسی عظیم الشان کانفرنس منعقد کی کہ حکومت وقت کانپ اٹھی اور قدم پیچھے کرنے پر مجبور ہوگئی۔
ہم حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اتراکھنڈ میں مدارس سے متعلق اپنے فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کرے، تمام متعلقہ فریقوں سے بات چیت کرے اور ایسا حل اختیار کرے جو آئینِ ہند، انصاف، مذہبی آزادی اور تعلیمی حقوق کے مطابق ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمارے مدارس، ہماری دینی شناخت اور ہمارے ملک میں انصاف، آئینی آزادی اور باہمی احترام کی فضا کو ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین۔