صحابہ کرام کا قرآن سے تعلق

صحابہ ؓکے ایمان اور جاں نثاری کا راز صرف اور صرف یہی تھا کہ وہ قرآن شریف کے احکامات کو خالص طور پر اپنی ذات پر لاگو کرنے کا جذبۂ بے پناہ رکھتے تھے۔ جب وہ نطقِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے صدائے وحی سنتے توسرتاپا گوش بر آواز ہوجاتے ، پھراِسے اپنی زندگی میں نافذ کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں فرماتے،اُن کا یہ جذبۂ فداکاری اُنہیں مضطرب کردیتا کہ اللہ کے کلام کو قرآن سے بے خبر بندوں تک کس قدر جلد اور کیسے پہنچا دیاجائے !!

صحابہ کرام کا قرآن سے تعلق Read More »

—— مظلوم کیوں ہیں!!

وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کی افادیت اپنی جگہ جو شریفوں کیلئے تو یاددہانی کا کردار ادا کرسکتی ہے لیکن جس انسانی معاشرے سے خدا کا خوف اٹھتا چلا جا رہا ہو کیا اسے اپنے ہی لوگوں کیلئے حیوانوں سے کم خطرناک تصور کیا جانا چاہئے ۔؟ جدید لبرل ماحول میں اب جو نسل پروان چڑھ رہی ہے اسے دیکھ کر کوئی بھی باشعور انسان کہہ سکتا ہے کہ اس نسل کی اصلاح کیلئے علماء اور صالحین کی نصیحت کافی نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کے موجودہ لبرل سیاسی نظام اور اس نظام پر مسلط حکمرانوں سے کسی خیر اور صالح معاشرے کی تخلیق کی امید بھی کی جاسکتی ہے ۔علامہ اقبال کہتے ہیں کہ خود بے اختیار صالحین کو اختیار کیلئے ایک مقصد اور نصب العین کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے ۔

—— مظلوم کیوں ہیں!! Read More »

سحری جگانے والے: رسول اللہ کی حیات مبارکہ میں بھی آتے تھے۔

تاریخ کے اوراق کی گرد کو اگر جھاڑ کر دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے کہ ایک صحابی ” سیدنا بلال بن رباہ ” رض وہ پہلے شخص تھے جو روزوں کی فرضیت کے بعد مدینہ کی گلیوں میں سحری کے وقت آوازیں لگا لگا روحانیت کا سماں باندھ دیتے تھے اور لوگوں کو سحری کے لیے جگایا کرتے تھے۔

سحری جگانے والے: رسول اللہ کی حیات مبارکہ میں بھی آتے تھے۔ Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔