ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں

بیسویں صدی میں جن تین شخصیات نے مذہب کے نام پر راشٹرواد کا نعرہ دی۔ا ان میں اقبال کے سوا ریاست اسرائیل کے نظریہ ساز ہرتزل اور ہندو راشٹر کے خالق ویر ساورکر یا تو مذہب بیزار تھے یا انہیں مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ ہاں اگر مذہب کے نام پر پاکستان کی تخلیق میں محمد علی جناح کو بھی شامل کر لیا جاۓ تو یہ تینوں شخصیات ایک لبرل سوچ کی حامل تھیں ۔ خیر میں بحث کر رہا تھا ہندو مذہب کے بارے میں کہ ان کی کتابوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ان کی تعلیمات بھی آسمانی کتابوں کے جیسی ہی ہے ۔قرآن میں چار کتابوں کا تذکرہ آتا ہے ۔ان چار کتابوں میں زبور اور زبور کی قوم کا کہیں پتہ نہیں ہے ۔قران میں جب اللہ تعالٰی یہود و نصارٰی کے ساتھ اہل ایمان کا تذکرہ کرتا ہے تو صائبین کا بھی ذکر کرتا ہے۔ علامہ حمیدالدین فراہی نے کہیں پر صائبین کو ہی ہندو قوم بتایا ہے اور ہندؤں کی وید کو

ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں Read More »

منیش سسودیا پانچ دنوں کے لیے ریمانڈ پر بھیجے گئے۔​

دلی کے نائب وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے دوسرے نمبر کے لیڈر منیش سسودیا کوپانچ دنوں کے لیے سی بی آئی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ راؤس اوینیو کورٹ نے سنایا ہے۔ واضح ہو کہ سی بی آئی نے کورٹ سے منیش سسودیا مزید تفتشیش کے لیے پانچ دنوں کی ریمانڈ کا مطالبہ کیا تھا۔

منیش سسودیا پانچ دنوں کے لیے ریمانڈ پر بھیجے گئے۔​ Read More »

تعلیمی ادارے تجارت بھی اور خدمت بھی​

آج مسلمانان ہند بالخصوص ہندی بیلٹ شمالی ہند کے مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں بات نہیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پرائیویٹائزیشن کے اس دور میں تعلیمی اداروں کا قیام اگر متوسط اور ادنیٰ طبقات کی قوت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاۓ تو خدمت خلق بھی ہے اور منفعت بخش بھی۔اقلیتی اداروں کے لئے حکومت سے مالی تعاون بھی ملتا ہے ۔

تعلیمی ادارے تجارت بھی اور خدمت بھی​ Read More »

ہم کہاں جا رہے ہیں

کچھ دنوں پہلے ایک فلم ریلیز ہوئی۔ نام ہے پٹھان۔ آپ میں سے جتنے بھی سوشل میڈیا سے ذرہ برابر بھی لگاؤ رکھتے ہیں۔ اس کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ یہ فلم ریلیز سے قبل ہی کئی طرح کے اعتراضات اورمخالفت میں گھر گئی۔ بھاجپا کے کئی نام ور چہروں نے کھلے عام فلم پٹھان کی مخالفت میں بیانات دیے اور بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا۔ اس فلم کی ہیروئن دیپکا پاڈوکون کے لباس کو لے کر خوب چرچا ہوئی۔ بھگوا بکنی پہننے کی وجہ سے اس بات کا غوغا کیا گیا کہ بھگوا بکنی پہن کر خاص مذہب کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ لہذا جب تک بھگوا بکنی والی سین کو ہٹایا نہیں جاتا۔ہم مخالفت کرتے رہیں گے۔

ہم کہاں جا رہے ہیں Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔