از:- محمد عمر فراہی
ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان میں پہلے دور کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دوسرے دور کے مذاکرات کی ناکامی کا اشارہ پہلے سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو چکا ہے ۔ابھی تک کی خبروں کے مطابق ایران کا کوئی وفد پاکستان نہیں پہنچا ہے ۔اس بات کا احساس دونوں ممالک کے سیاستدانوں کو بھی ہے لیکن دنیا میں امریکہ اور ڈالر چاہے بہت طاقتور کیوں نہ ہوں اور اس کے بغیر سیاسی کاروبار کا تصور بھی محال ہے لیکن ڈالر کے مقابلے میں عام انسانی معاشرے میں تہذیب و اخلاق اور شرم و حیا کی جو بالادستی اور اس کی جواب دہی کا احساس تھوڑا بہت زندہ ہے اسی تقاضے کو پورا کرنے کے لئے اکثر جابروں اور طاقتوروں کو بھی بات چیت اور امن مذاکرات وغیرہ کی ڈرامے بازی بھی کرنی ہی پڑتی ہے ورنہ امریکہ اور اسرائیل کسی بھی طرح کے امن اور مصالحت پر یقین رکھتے تو وہ ایران کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ ہی کیوں کرتے ؟
مصالحت یا صلح کی کوشش وہیں کامیاب ہوتی ہے جب دونوں فریق اس کے لئے مجبور ہوں یاجنگ کسی ایک فریق کے اچانک جذباتی اشتعال آمیز رویے یا جارحیت کی وجہ سے شروع ہو چکی ہو جیسا کہ ابھی پچھلے دنوں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار دن کی جنگ ٹرمپ کے ایک ٹویٹ پر اپنے انجام کو پہنچی ۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی نوعیت اس سے بالکل مختلف ہے ۔صہیونی مقتدرہ پچھلی کئی دہائیوں سے جس میں افغانستان کی سرد جنگ اور 9/11 کے بعد تباہ کئے گئے مسلم ممالک کو بھی شامل کر لیں منصوبہ بند طریقے سے اپنے نیو ورلڈ آرڈر کی بالادستی کے لئے ہر اس ریاست کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے جو ان کے راستے کی اڑچن ہیں ۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر صہیونی طاقتیں ایران کے خلاف جنگ کے لئے اتنا متشدد کیوں ہیں ۔اس کا جواب یہ ہے کہ جب یہ طاقتیں روس کے خلاف افغانستان میں مصروف تھیں تو اچانک آیت اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب نے ان کی نیند اڑا دی ۔آیت اللہ خمینی نے اس انقلاب کے بعد سے ہی امریکہ اور اسرائیل کے نیو ورلڈ آرڈر اور ڈالر کے خلاف آزادانہ فیصلہ کرنا شروع کر دیا تھا اور آیت اللہ خمینی کا ایرانی انقلاب کو اسلامی انقلاب سے منسوب کرنا ان کے لئے اور بھی کسی یورینیم کی افزودگی سے کم نہیں تھا کیوں کہ یہ ہر اس انقلاب کو Radical Islam سے منسوب کرتے ہیں جو سیاست میں اسلام کی بالادستی کا قائل ہے ۔
اس کے بعد آیت اللہ خمینی نے بیت المقدس کی آزادی کے لئے یوم القدس کا جو نعرہ دیا اس نعرے کو اسرائیل نے اپنے لئے ایٹم بم سے بھی زیادہ اس لئے مہلک سمجھا کیوں کہ یہ نعرہ نہ صرف عالم اسلام کو متحد کر رہا تھا اس نعرے نے عالم عرب کی توجہ فلسطینی مزاحمت کی طرف موڑ دیا۔خاص طور سے عرب عوام نے فلسطینی تحریکوں کی جس طرح دل کھول کر مدد کی اسرائیل کے خلاف حماس ایک طاقتور عسکری تنظیم کے طور پر ابھر کر آئی اور وہ اسرائیل کے لئے ابھی بھی ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے اسی ایرانی انقلاب کے بعد ہی خلیج کے خود ساختہ شاہوں کو ورغلانا شروع کیا کہ اگر ایران کا یہ سیاسی اسلامی انقلاب تمہاری سرحدوں میں بھی اثر انداز ہونا شروع ہو گیا تو تمہاری بھی خیر نہیں ۔اسی سوچ کی بنیاد پر صدام حسین کو ایک سازش کے تحت ایران پر حملے کی دعوت دی گئی اور پھر ایران کے خلاف خلیج کے سارے حکمرانوں نے صدام حسین کی جو مدد کی اس جنگ میں عراق تو ٹوٹ ہی گیا امریکہ نے ایران پر مختلف پابندیاں لگا کر اسے بھی کسی حد تک کمزور کر دیا ۔یہ بات بھی صحیح ہے کہ ایران نے عراق کے خلاف خلیج کی جنگ میں امریکہ اور اسرائیل دونوں سے ہتھیار خریدے لیکن وہ امریکہ اور اسرائیل کے ناپاک ارادوں سے بھی واقف تھا ۔اس کے بچنے کی ایک ہی صورت تھی کہ وہ بھی اسرائیل کی طرح خفیہ طریقے سے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لے ۔اس نے ایسا کیا بھی ۔بظاہر ایران کا مقصد اپنے اس جوہری پلانٹ سے بجلی پیدا کرنا تھا لیکن کہتے ہیں نا کہ چور کی داڑھی میں تنکا ۔اسرائیل جو کہ خود خفیہ طریقے سے ایٹم بم بنا چکا ہے اور ایران سے خوفزدہ بھی ہے وہ کیسے یقین کر لے کہ ایران اپنے اس افزودہ یورینیم سےایٹم بم نہیں بنائے گا۔ اس نے امریکی حکمرانوں پر مسلسل دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ ایران کو یورینیم کی افزودگی سے باز رکھے ۔اوبامہ نے اپنی حکومت میں بڑی چالاکی سے ایران کو اس بحران سے نکال لیا اور بائیڈن نے بھی ایران کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کرنے سے گریز کیا لیکن ڈونالڈ ٹرمپ جسے موساد نے اپسٹین فائل میں جکڑ رکھا ہے وہ اسرائیل کے خلاف کیسے جا سکتا ہے ۔
یہاں پر ایک بات اور بھی دھیان میں رہے اور اب یہ بات بالکل واضح بھی ہو چکی ہے کہ ایران کی اصل دشمنی امریکہ سے نہیں بلکہ اسرائیل سے ہے اور اسرائیل صرف ایک ریاست نہیں ایک عالمی نظریہ ہے جو اپنے نیو ورلڈ آرڈر کی بالادستی کے لئے امریکہ کو بھی استعمال کر رہا ہے اور اس کی بقاء مسلسل جنگ میں ہی ہے یا یوں کہہ لیں مسجد اقصی کے مقام پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا اس کا منصوبہ اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جبکہ کوئی مسلم ملک اسے روکنے کی جرأت نہ کر سکے۔
ایران اور اسرائیل کی اس جنگ اور مذاکرات کے پورے منظر نامے میں امریکہ صرف ایک چہرے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو یا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اپنے نظریاتی اختلاف صرف دنیا کو دکھانے کے لئے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ سب صہیونی تھنک ٹینک کی مرضی کے خلاف آزادانہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں ۔جہاں تک ایران اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ڈرامے بازی کا سوال ہے یہ مذاکرات بھی امن کی بجائے مستقبل کی جنگ کی منصوبہ بندی کا ہی حصہ ہیں ۔دوسرے لفظوں میں کہیں تو امریکہ اور اسرائیل ان مذاکرات سے صرف چہروں کی لکیر کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں کہ ان کا دشمن کہاں تک تھک چکا ہے ۔یعنی ایران اگر تھوڑا بھی لچک کا مظاہرہ کرتا ہے تو انہیں یہ اندازہ لگانے میں بہت مشکل نہیں ہو گی کہ وہ ایران پر اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لئے مزید دباؤ بناتے جائیں اور اگر اس کا رخ سخت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی اس کی پشت پناہی کر رہا ہے اور پھر وہ اسی لحاظ سے اپنی مستقبل کی حکمت عملی تیار کر سکیں ۔
ایک سوال جو ہم پہلے بھی کر چکے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کو اگر تیل کے بحران یا معاشی بدحالی کا خطرہ لاحق ہوتا تو وہ جنگ شروع ہی کیوں کرتے ؟ آبناۓ ہرمز تو پہلے سے ہی کھلا تھا اور ایران نے اس کے باوجود کہ اسرائیل نے اس کے کئی فوجی جنرل اور سائنسدانوں کا قتل کر دیا تھا پچھلے تیس سالوں سے جنگ سے گریز کرتا رہا ہے ۔
انہیں یقیناً پتہ تھا کہ ایران آبناۓ ہرمز کو بند کرے گا مگر جس جنگ کو شروع کرنے کے لئے امریکہ اور اسرائیل تیس سال سے گھیرا بندی کر رہے تھے اور وہ حملے کی پہل نہیں کر رہے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایران کے پاس جوہری بم نہ موجود ہوں یا اگر وہ جنگ شروع کرتے ہیں تو کہیں اس کی حمایت میں کوئی اور ملک تو کھڑا نہیں ہوتا ہے۔ اتفاق سے غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل اور امریکہ کو یقین ہو گیا کہ جب مسلم ممالک غزہ کے مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش رہے تو وہ ایران کے خلاف بھی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ۔پچھلی بارہ دنوں کی جنگ کے لئے بھی اسرائیل نے بار بار ایران کو مشتعل کیا کہ وہ جنگ کا آغاذ کرے اور وہی ہوا جو ایک بار پھر ٹرمپ کے ٹویٹ پر بند تو ہو گئی لیکن امریکہ اور اسرائیل دونوں نے اندازہ لگا لیا کہ ایران کمزور ہو چکا ہے ورنہ جس طرح امریکہ نے اپنے بی ٹو بمباروں سے ایران کے نیوکلیر پلانٹ کو تباہ کیا تھا ایران کو اسی وقت اسرائیل کو تباہ کر دینا چاہئے تھا مگر وہ ایسا نہیں کر سکا کیوں کہ وہ تنہا اسرائیل سے جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ایران حقیقت میں جنگ نہیں چاہتا تھا ۔
اب ایک بار پھر ایک مہینے کی جنگ کے بعد پاکستان نے دونوں فریق کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی کوشش کی ہے اس کا مقصد بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس وقفے میں کچھ پیچھے ہٹنے کا من بنا لیں ۔پاکستان نے ایران اور مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں جلنے سے بچانے کی ایک اچھی کوشش تو کی ہے لیکن یہ جنگ بھی اسی صورت میں رک سکتی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کو یہ اندازہ ہو جائے کہ چین اور روس ایران کی پشت پناہی کر رہے ہیں ۔دیگر صورت میں وہ ایران کو پوری طرح تباہ کئے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔لیکن غزہ کی مزاحمت ایران پر اسرائیلی حملے اور پھر جواب میں ایران کی طرف سے آبناۓ ہرمز کے بند ہونے اور ہمت کا مظاہرہ کرنے سے یوروپی یونین میں دراڑ ضرور پڑ چکی ہے ۔اس وقت امریکہ اور اسرائیل پہلی بار اپنے مغربی اتحادیوں کی حمایت سے محروم ہیں ۔پھر بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب تک روۓ زمین پر اسرائیل کا وجود قائم ہے دنیا امن کی طرف لوٹے گی !!