حکومت کو مذہبی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے: اودھیش پرساد

لکھنؤ: نمائندہ سیل رواں

شنکراچاریہ تنازع: سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے شنکراچاریہ تنازع پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حکومت یا سرکاری عہدیدار کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ طے کرے کہ کون شنکراچاریہ ہے اور کون نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی عہدوں اور روحانی مناصب کا فیصلہ سرکاری سرٹیفکیٹ سے نہیں بلکہ عوامی عقیدت اور مذہبی روایت سے ہوتا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے یہ بیان اس تنازع کے پس منظر میں دیا جس میں Yogi Adityanath اور Avimukteshwaranand Saraswati کا نام سامنے آیا ہے۔

اودھیش پرساد نے کہا کہ شنکراچاریہ کا منصب کسی سیاسی مداخلت یا حکومتی اعلان کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک روحانی اور مذہبی روایت کا تسلسل ہے جسے سماج تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو مذہبی معاملات کو سیاسی عینک سے دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سماج خود یہ طے کرتا ہے کہ اس کا مذہبی پیشوا کون ہے۔ ایسے معاملات میں سرکاری بیانات سے غیر ضروری تنازع جنم لیتا ہے اور مذہبی جذبات مجروح ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

سیاسی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے اوادھیش پرساد نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بھی اعتماد کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ سماجی انصاف کی بنیاد پر بننے والا اتحاد مستقبل میں کامیابی حاصل کرے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاستی سیاست میں مذہبی اور سیاسی موضوعات پر گرما گرمی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔