کولکاتا/سیل رواں:
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج نے ریاست کی سیاست میں ایک بڑا ہلچل پیدا کر دیا ہے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے روایتی مضبوط گڑھوں میں بھی نمایاں دراڑ ڈال دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بی جے پی نے جنوبی اور شمالی راڑھ بنگا کے ان علاقوں میں کامیابی حاصل کی ہے، جو طویل عرصے سے ٹی ایم سی کے ناقابلِ تسخیر قلعے سمجھے جاتے تھے۔ اس پیش رفت نے ریاست کے سیاسی توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور پہلی بار بی جے پی کو اقتدار کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کی اس کامیابی کے پیچھے طویل مدتی حکمت عملی، بوتھ سطح پر مضبوط تنظیم سازی اور “نیا بنگال” کا بیانیہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پارٹی نے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بھرپور مہم چلائی اور خاص طور پر خواتین ووٹروں کو متاثر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی کی پیش قدمی دیکھنے میں آئی، جو ماضی کے انتخابی رجحانات سے مختلف ہے۔ تجزیہ کار خواتین ووٹروں کو اس انتخاب میں “فیصلہ کن عنصر” قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی قیادت نے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے ہیں اور بعض مقامات پر بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
ابتدائی رجحانات کے مطابق بی جے پی ریاست میں پہلی بار حکومت سازی کی پوزیشن میں نظر آ رہی ہے، جو نہ صرف مغربی بنگال بلکہ ملکی سیاست کے لیے بھی ایک بڑی تبدیلی اور اپوزیشن کے لیے سخت دھچکا تصور کی جا رہی ہے۔
مغربی بنگال میں گزشتہ تقریباً پندرہ برسوں سے ٹی ایم سی برسر اقتدار رہی ہے۔ ایسے میں اس انتخابی نتیجے کو ایک تاریخی سیاسی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ قومی سیاست پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔