از:- سرفراز احمد قاسمی حیدرآباد
ملک میں اس وقت جو حالات چل رہے ہیں اور جس طریقے سے دستوری وجمہوری اصولوں کو پامال کیا جارہا ہے،ہرطرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے،ایسے ماحول میں لوگوں کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے اور یہ سوال شدت اختیار کرنے لگا ہے کہ کیا واقعی ہندوستان سے جمہوریت کا خاتمہ ہوچکا ہے؟اور کیا بھارت کے جمہوری نظام کو پوری قوت کے ساتھ پاؤں تلے کچل دیا گیا؟ گزشتہ ہفتے سینئر کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عاجزی و انکساری ہی لوگوں کو سمجھنے اور ان کا احترام کرنے کا جواب ہے،ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ملک میں برسر اقتدار لوگوں کی جانب سے جمہوریت پر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں اور یہاں کی جمہوریت خطرے میں ہے،تمل ناڈو کے پہاڑی علاقے میں واقع ایک نجی اسکول میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اس معلوماتی دور میں آئی ٹی،اے آئی،روبوٹکس،ڈیٹا اور بیٹا سمیت تمام معلومات دستیاب ہیں،اس کیمپس کو خوبصورت ماحول میں ایک خوبصورت اسکول اور ایسے ماحول میں غیر معمولی تعلیم قرار دیتے ہوئے مسٹر راہل نے طلبہ کے ساتھ بات چیت کے دوران،ان سے پوچھا کہ ان کا اچھا استاد کون ہے؟ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ ڈاکٹر عالیہ ٹیچر ہیں،جب گاندھی نے طالب علم سے پوچھا کہ وہ ایک اچھی ٹیچر کیوں ہے؟ تو اس نے کہا کہ وہ پیار اور محبت سے پڑھاتی ہیں اور ہمیں مہربانی کے ساتھ اپنے مضامین سمجھاتی ہیں،معلومات اور علم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کانگریس رہنما نے کہا کہ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس طرح کے ماحول کی ضرورت ہے،محبت اور احترام کا ماحول،ایک دوسرے کو سننے کا ماحول اور مہربانی کا ماحول،انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسا ہندوستان تیار کرنا چاہتے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بہت مہربان ہوں،ایک دوسرے کا احترام کریں،ایک دوسرے کی زبانوں،مذاہب اور روایات کا احترام کریں،ملک میں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں،ہندوستان سب کا ہے اور اس وقت ہندوستان میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ سماجوادی پارٹی لیڈر اکھلیش یادو نے گزشتہ ہفتے اپنے بیان میں کہا کہ بی جے پی دوبارہ فرضی ووٹ بنانے میں لگی ہے اور جمہوری نظام کو ناپاک کرنے پر آمادہ ہے،بی جے پی کے لوگوں نے اگر ووٹ بنوانے میں ہیرا پھیری کی تو فرضی ووٹ بنوانے والوں افسران اور ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی،اکھلیش یادو خصوصی گہری نظرثانی(ایس آئی آر) کے تحت ووٹروں کی فہرست پر تبادلہ خیال کررہے تھے،پارٹی کے ریاستی دفتر میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے بڑی تعداد میں کارکنوں اور لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کا فارمیٹ سماجوادی پارٹی کے تمام بی ایل اے اور بوتھ انچارجوں کو بھیجا جارہا ہے،یادو نے کہا کہ 2027 میں سماجوادی پارٹی کی حکومت بنانے کے لیے کارکن متحد ہو کر گھر گھر جائیں اور لوگوں سے رابطہ کر کے پارٹی کی پالیسیوں اور پروگراموں کے بارے میں بتائیں،انہوں نے ریاست کی معزز عوام سے بی جے پی کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی،انہوں نے کہا کہ ریاست کی عوام اور ووٹر،بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں،بی جے پی زمینی مافیا کے کردار میں ہے، ریاست بھر میں سرکاری اور غریبوں کی زمینوں پر بی جے پی کے لوگ غیر قانونی طور پر قبضہ کررہے ہیں،بدعنوانی اور لوٹ مارعروج پر ہے،ہر محکمے میں کرپشن ہورہی ہے،بی جے پی حکومت نے بدعنوانی کی حد کردی ہے،2027 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا پتہ نہیں چلے گا، یادو نے کہا کہ ووٹر لسٹ کے لیے کیا جانے والا ایس آئی آر ہی این آر سی ہے،جو کام وزارت داخلہ کا تھا،اسے بی جے پی حکومت،الیکشن کمیشن سے کرارہی ہے،ایس آئی آ ر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں کئی خامیاں سامنے آرہی ہیں،وزیراعلی نے خود تسلیم کیا ہے کہ چار کروڑ ووٹ یوپی سے کٹ رہے ہیں،بی جے پی ووٹر لسٹ میں ہیراپھیری کی کوشش کررہی ہے،انہوں نے ووٹر لسٹ کے حوالے سے مرکزی اور ریاستی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار میں بڑا فرق بتایا،الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق ووٹر لسٹ میں 12 کروڑ 56 لاکھ ووٹر ہیں جبکہ ریاستی الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ میں صرف دیہی علاقوں میں 12 کروڑ 29 لاکھ ووٹر ہیں،اس میں شہری ووٹروں کی تعداد شامل کرنے پر جملہ رائے دہندے 17 کروڑ سے زیادہ ہورہے ہیں، آخر ایسا کیسے ہورہا ہے کہ ووٹر لسٹ بنانے والے بی ایل او اور افسران و ملازمین جب وہی ہیں تو ووٹروں کی تعداد اور انکے اعداد و شمار الگ الگ کیوں ہیں کیا یہ جمہوری نظام کو ناپاک کرنے کی کوشش ہورہی ہے؟۔
مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے چیف جسٹس سے دستور اور جمہوریت کے تحفظ کا مطالبہ کیا،انہوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت سے کہا کہ وہ ملک کے دستور،جمہوریت اور عدلیہ کا تحفظ کریں،ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ کی جلپائی گوڑی سرکٹ بینچ کی نئی عمارت کے افتتاح کے ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کانت سے کہا کہ وہ ملک کی عوام کا،ایجنسیوں کی جانب سے غلط انداز میں نشانہ بنائے جانے سے تحفظ کریں،انہوں نے چیف جسٹس سے کہا کہ براہ مہربانی دستور، جمہوریت، عدلیہ، تاریخ، جغرافیہ اور ملک کی سرحدوں کی تباہی سے حفاظت کریں،ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے دستور کے محافظ ہیں،ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں،عدلیہ میں کوئی بھی آپ سے بڑھ کر نہیں ہے،اسلئے ملک کے عوام کی جانب سے درخواست کرتے ہیں کہ ذات،پات یا مذہب کی بنیاد پر یہاں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہونا چاہیے،ممتا بنرجی نے جو ٹی ایم سی سربراہ بھی ہیں، چیف جسٹس سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقدمات ختم ہونے سے پہلے کیسوں کے میڈیا ٹرائل کو بند کریں،یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے کہ کیسوں سے پہلے ہی ان کا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے،ممتا نے چیف جسٹس کانت سے یہ بھی کہا کہ وہ وکلاء کی نئی نسل کا خیال کریں،انہوں نے الزام لگایا کہ جونیئر وکلاء اب جدوجہد کررہے ہیں اور انہیں ان کے جائز فوائد نہیں مل رہے ہیں،ممتا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے لیے فنڈس بند کردئیے ہیں لیکن ان کی حکومت نے ایسی 88 عدالتیں قائم کی ہیں اور ان عدالتوں پر 1200 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم خرچ کرچکی ہے،انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے والے وزیر انصاف و قانون ارجن رام میگھوال سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ برائے مہربانی آپ برا مت مانئے!چیف جسٹس سوریا کانت، کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجوئے پال،سپریم کورٹ کے سابق ججز،مغربی بنگال کے ایڈوکیٹ جنرل کشور دتہ،ریاستی وزیر قانون ملوئے گھاٹک وغیرہ اس پروگرام میں موجود تھے واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کے خلاف کئی سخت بیانات حال ہی میں جاری کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ابلیس کی ایک اور مجلس شوریٰ
گزشتہ دنوں کانگریس پارٹی نے حکومت پر تعلیمی نظام کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتی ہے لیکن بی جے پی کے دور حکومت میں تعلیم کو بھی سیاسی ایجنڈے کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے،جموں کشمیر کے انچارج اور کانگریس جنرل سکریٹری ناصر حسین نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی نے تعلیم کو مذاق بنادیا ہے،انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے بیتول میں عبدالنعیم نے اپنی ذاتی رقم 20/ 22 لاکھ روپے خرچ کر کے اسکول تعمیر کروایا تاکہ وہاں کے بچوں کو معیاری تعلیم مل سکے،نعیم نے تمام قانونی اجازت نامے اور لائسنس حاصل کرکے اسکول شروع کیا لیکن بی جے پی کے ایکو سسٹم نے افواہ پھیلائی کہ وہاں مدرسہ چلایا جارہا ہے اور اس افواہ کی بنیاد پر اس کو منہدم کردیا گیا،حالانکہ اس گاؤں میں صرف تین مسلمان فیملی رہتی ہے اور باقی سب قبائلی برادری سے تعلق رکھتے ہیں،کانگریس لیڈر نے کہا کہ ضلع کلکٹر نے بغیر کسی جانچ اور نوٹس کے اسکول پر بلڈوزر چلادیا،اسی طرح جموں کشمیر میں بھی ایک میڈیکل کالج کو بند کردیا گیا، کرناٹک کے بیلگاوی میں ایک اسکول کے مسلم ہیڈ ماسٹر کو ہٹانے کے لیے کچھ انتہا پسند عناصر نے پانی کی ٹینکی میں زہر ملا دیا،جس سے کئی بچے بیمار ہوگئے لیکن جب جانچ ہوئی تو چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا،آسام کے نل باڑی میں 24 ڈسمبر کو سینٹ میری کرسمس اسکول میں تہوار کی تمام تیاریاں تباہ کردی گئی،اتر پردیش میں پہلے کرسمس کی چھٹی ہوا کرتی تھی لیکن وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں نے اس بار چھٹی نہ دینے اور جشن نہ منانے کا مطالبہ کیا،جسے بی جے پی حکومت نے قبول کرلیا،مودی حکومت میں تعلیم کی حالت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیتول کے معاملے میں کیا کلکٹر بتائیں گے کہ ان پر کس کا اور کیسا دباؤ تھا؟ اگر کوئی عہدے دار دباؤ میں آ کر اسکول گرا رہا ہے تو کیا ان کی تربیت مسوری میں ہورہی ہے؟یا ناگپور میں؟ ماتاوشنودیوی میڈیکل کالج میں اچانک معائنہ کیوں کیا گیا؟شکایت کس نے کی تھی؟ کیا کالج پر کاروائی عوامی دباؤ کی وجہ سے کی گئی؟ کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ کیا حالات اتنے سنگین تھے کہ پورے میڈیکل کالج کو ہی بند کرنا پڑا؟ کیا امتحانی نظام کے بارے میں معلومات نہیں لی گئی تھی؟ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ستمبر میں میڈیکل کالج کو ایم بی بی ایس کورس کی اجازت دی گئی تھی تو کیا اس سے پہلے انفراسٹر کچر کی جانچ نہیں کی گئی تھی؟انہوں نے کہا کہ جس طرح ای ڈی،سی بی آئی،انکم ٹیکس اور الیکشن کمیشن کا غلط استعمال کیا جارہا ہے؟ کیا اسی طرح نیشنل میڈیکل کمیشن کا بھی غلط استعمال ہورہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیمی اداروں کا کھلے عام بھگوا کرن کیا جارہا ہے اور مذہب کی بنیاد پر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جارہاہے، جس سے ملک کی جمہوریت پر سنگین سوالات کھڑے ہورہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قرآن پاک کا تاریخی اعجاز
یہ ہے ملک کی جمہوریت کا حال،جہاں راتوں رات مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور مذہبی اداروں پر بغیر کسی فیصلے،بغیر کسی عدالتی ہدایات اور بغیر کسی نوٹس کے بلڈوزر چلادیا جاتا ہے اور ملک کا سارا سسٹم خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔اسی جمہوری ملک میں نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین جیسے لوگوں کو نام کے ہجے درست کرنے کےمضحکہ خیز بہانوں پر نوٹس تھما دیا جاتا ہے،امرتیہ سین نے پچھلے سال اگست میں جس اندیشے کا اظہار کیا تھا کہ ووٹر لسٹوں کی صفائی اور ایس آئی آر کے نام پر غریب و پسماندہ طبقات کو حق رائے دہی سے محروم کیا جاسکتا ہے وہ اجنبی خدشہ نہیں،بلکہ ایک حقیقت بن کر سامنے آچکا ہے۔
گزشتہ سال 25 نومبر کو ایودھیا میں رام مندر کی مرکزی چوٹی پر زعفرانی پرچم لہرایا گیا اور وزیراعظم مودی نے اسے ان صدیوں پرانے زخموں کا مداوا قرار دیا،جو ان کے بقول اب بھر رہے ہیں،اس تقریب کو ایک سرکاری جشن کی طرح پیش کیا گیا، گویا ملک کا آئین اس کی سیکولر روح اور ریاست و مذہب کی تفریق محض کتابی جملے تھے،جنہیں وقت کی ہوا اڑا لے جاتی ہے۔ ایک ارب سے زیادہ شہریوں کے ملک میں جہاں ہر مذہب،ہر فکر اور ہر عقیدہ آئینی سرپرستی کا دعویدار ہے وہاں حکومت وقت کا اس نوعیت کی مذہبی تقریب میں مرکزی کردار ادا کرنا بہت سے سوالات اٹھاتا ہے اور یہ سوالات محض قانونی نہیں اخلاقی بھی ہیں،مودی کے صدیوں پرانے زخم دراصل تاریخ نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی بیانیے کا استعارہ ہے،جس میں بابری مسجد کا انہدام ایک لازمی مرحلہ اور رام مندر کی تعمیر اس کا منتہی بنا دی گئی،اس بیانیے میں سپریم کورٹ کے اس اعتراف کی بازگشت سنائی ہی نہیں دیتی ہے کہ مسجد کو گرانا ‘غلط’ اور ایک تاریخی ورثے کی تباہی تھی،اسکے باوجود اسی فیصلے کو تاریخی انصاف کا عنوان دے کر اکثریتی جذبات کو فاتحانہ جشن کی شکل دی گئی،اس تقریب میں وزیراعظم کا خطاب جس میں رام کو قدر توانائی اور ‘سب کے رام’ قرار دے کر 2047 تک کے ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب دکھایا گیا،یہ ایک چابک دست خطابت کی عمدہ مثال ضرور ہے مگر جب ریاست کسی ایک مذہبی شخصیت کو قومی تعمیر کا مرکزی استعارہ بنا کر پیش کریں تو درحقیقت وہ ایک مذہبی تصور انسان کو پورے سیاسی وجود پر مسلط کررہی ہوتی ہے، کیا ایک مسلمان،عیسائی یا ملحد شہری کے لیے ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب میں جگہ اس شرط پر ہے کہ وہ اپنے اندر بھی رام کو ڈھونڈے،اس تقریب کا ہر ہرجز ابھیجیت مہورت کا انتخاب،آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی نمایاں موجودگی،یوگی آدتیہ ناتھ کا خطاب اور اسے نئے دور کی شروعات قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں محض مذہبی عقیدت نہیں،بلکہ نظریاتی طاقت کا مظاہرہ تھا،جب ریاست کے اعلی ترین منصب دار کسی ایک مذہب کے جھنڈے کو مکمل سرکاری پروٹ کول کے ساتھ لہرائیں تو وہ خود کو عقیدت مند شہری کے نہیں اکثریتی مذہبی بیانیے کے علمبردار کے طور پر پیش کرتے ہیں،اگر آج وزیراعظم مندر کی چوٹی پر پرچم لہرانے کو قومی فخر کا حصہ بنا دیں تو کل کسی مسجد کی گنبد، کسی چرچ یا کسی گرو دوارے کے دروازے پر ایسی ہی تقریب کا تصور کیوں ناممکن دکھائی دیتا ہے؟اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ امتیاز ہی وہ دراڑ ہے،جہاں سے سیکولرزم کی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں،یوگی کا اس مندر کو 1 ارب 40 کروڑ ہندوستانیوں کے ایمان اور عزت نفس کی علامت قرار دینا ہی خطرناک،عمومی دعوی ہے،جس میں وہ کروڑوں مسلمانوں، عیسائیوں،سکھوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو ایک ایسے مذہبی استعارے کے تحت کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں جس سے ان کا اعتقادی رشتہ سرے سے موجود ہی نہیں،اسی طرح جب بھگوا پرچم کو سچائی،راست بازی اور قومی فرض کی علامت کہا جاتا ہے تو سچ اور نیکی کے معیارات بھی اکثریتی مذہب کے رنگ میں رنگ دیے جاتے ہیں، کیا ایک جمہوری ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نیکی،سچائی اور انصاف جیسے آفاقی تصورات کو کسی ایک مذہبی نشان کی جاگیر بنا دے اور پھر انہیں پوری قوم کے ضمیر پر بطور واحد معیار مسلط کر دے،موہن بھاگوت کا 500 سالہ جدوجہد کا تذکرہ زعفرانی پرچم کو قربانی کی علامت قرار دینا اور اسے اشو ک و دیگر تاریخی شخصیات کی روحوں کے سکون سے جوڑنا،دراصل اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے،جس میں ہندوستان کی مشترکہ کثیر المذہبی تاریخ کو ایک یک رنگی تہذیبی بیانیے میں تبدیل کیا جارہا ہے،اس منصوبے میں بابری مسجد کا انہدام،سپریم کورٹ کا فیصلہ،رام مندر کی تعمیر، پران پرتشٹھا اور اب زعفرانی پرچم کی سرکاری سرپرستی کے ساتھ تنصیب،یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں،اس سلسلے کے آخر میں ایک ایسا ہندوستان جھلملاتا دکھایا جا رہا ہے،جہاں رام راجیہ کا پرچم سب پر سایہ فگن ہے لیکن تصویر کے سائے میں وہ کروڑوں شہری کھڑے ہیں جو اپنے آپ کو اس رنگ میں ہرگز تحلیل نہیں کر سکتے نہ کرنا چاہتے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ حکومت کا کام عبادت نہیں،عدل و قانون کی بالادستی ہے،مذہبی شعائر کی پاسداری ہر فرد اور جماعت کا حق ہے لیکن ریاست اگر خود کسی ایک مندر کی چوٹی پر اپنی پوری قوت کے ساتھ پرچم بلند کرے تو یہ عقیدت نہیں رہتی،طاقت کی تقسیم کا نیا نقشہ بن جاتی ہے،ایودھیا میں جو کچھ ہوا،اسے مصلحت،صلح یا زخموں کے بھرنے کا لمحہ کہنا صریح دھوکہ ہے۔ یہ واضح طور پر ایک فتح نامہ تھا جس پر ریاست کی مہریں ثبت کردی گئیں،سوال یہ نہیں کہ رام مندر کیوں بنا ؟سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہ ہندوستان ہے جس کا وعدہ آئین نے کیا تھا،جہاں مذہب کو ذاتی ایمان کا معاملہ اور ریاست کو سب کا مشترکہ گھر سمجھا جائے یا ہم اس نئے عہد میں داخل ہو چکے ہیں،جہاں مذہب اور حکومت ایک ہی کندھے پر ہاتھ کھڑے رکھ کر کھڑے ہیں اور شہری محض تماشائی بن کر رہ گئے ہیں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ملک میں اب بھی جمہوریت باقی ہے؟اگر جواب ہاں میں ہے تو جوش وخروش کے ساتھ پھریوم جمہوریہ کی تقریب کا اہتمام کیجئے، کیونکہ جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے 26 جنوری یوم جمہوریہ کی تاریخ قریب آچکی ہوگی اور اگر جواب نفی میں ہے تو پھر جمہوریت کو بچانے اور اسکی واپسی کا راستہ کیا ہے؟عملا تو حکمراں طبقے نے جمہورت کا جنازہ پڑھ دیاہے۔