بہار اسمبلی انتخاب اورسیاسی دھماچوکڑی میں جمہوریت کی آزمائش

از:- آفتاب رشکِ مصباحی

شعبہ فارسی بہار یونیورسٹی مظفرپور

بہار الیکشن کے پہلے مرحلے میں صرف ایک دن باقی ہیں۔ ریاست کی فضاؤں میں ابھی بھی سیاسی نعروں، الزام تراشیوں اور اوچھے حملوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ مختلف پارٹیاں اپنی اپنی ریلیوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ اگر ہمارے علاوہ کوئی دوسری پارٹی آتی ہے تو بہار کا نقصان ہی نقصان ہوگا۔ کوئی جنگل راج آنے سے ڈرا رہی ہے تو کوئی شراب کی پابندی ختم کیے جانے کی لالچ دے رہی ہے۔ اسی کے ساتھ ساری پارٹیاں وعدوں کے پہاڑ تو کھڑے کر رہی ہیں، مگر افسوس کہ ان وعدوں کی بنیاد زمینی حقیقتوں پر نہیں، بلکہ جذباتی نعروں اور سماجی تقسیم پر رکھی جا رہی ہے۔اسی بیچ فسطائی طاقتیں ایسے عناصر کو ہوا دے رہی ہیں جس میں عوام کو "ہم ” اور ” وہ” میں تقسیم کر دیا جائے۔ یاد رکھیں ہم اور وہ کی یہی وہ تقسیم ہے جو جمہوریت کی روح کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔

یہ بہار وہی ریاست ہے جس نے ایک زمانے میں پورے ملک کو جمہوری شعور دیا تھا، مگر آج خود اسی ریاست میں جمہوریت کی روح مجروح دکھائی دیتی ہے۔ عوامی مسائل پس منظر میں جا چکے ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار، زراعت، صنعت اور ہجرت جیسے بنیادی شعبوں پر سنجیدہ گفتگو کرنے کو کوئی تیار نہیں ۔ اس کے برعکس دھرم، ذات پات اور ہندو مسلم کے نام پر ووٹروں کو بانٹنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔یہ وہی بہار ہے جہاں جے پرکاش نارائن نے عوامی بیداری کی مشعل جلائی تھی، جہاں سے انصاف، سادگی، اور عوامی خدمت کے نظریے نے جنم لیا تھا۔ جہاں سے ڈاکٹر راجندر پرشاد جیسے باشعور سیاسی رہ نما نے جمہوری اصولوں کی حفاظت کو اپنا نصب العین بنایا تھا جس کی وجہ سے پورے ملک میں جمہوری بیداری کی لہر دوڑ گئی تھی اور لوگ جمہوریت کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے جذبے سے سرشار نظر آتے تھے، مگر اب منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے۔ سیاست دان ایک دوسرے کے پرانے کارنامے گنوا رہے ہیں،ایک دوسرے کی خامیوں ، لغزشوں اور فریب کاریوں سے سماعتوں کو بوجھل کر رہے ہیں۔ مگر عوامی خدمت کے نئے لائحۂ عمل پر خاموش ہیں۔ فسطائی طاقتیں پوری قوت سے کوشش میں ہیں کہ انتخابی میدان کو نفرت، اشتعال اور مذہبی جذبات کے دلدل میں دھکیل دیا جائے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ عوام کے اصل مسائل دب جائیں اور اقتدار مخصوص ذہنیت کے ہاتھوں میں چلی جائے۔پھر وہ جس طرح چاہیں حکومت کے زور پر عوام کا استحصال کریں، انھیں آپس میں لڑائیں، مندر مسجد کی سیاست کریں، جمہوریت کا گلا گھونٹیں، عدل و انصاف کا خون کریں، بے قصوروں پر طاقت آزمائی کریں، لوگوں کے مکانات گرائیں، تجارت و معیشت کے سورسیز ختم کریں – کس کی شامت آئی ہے کہ انھیں ظلم و استبداد کا ننگا ناچ کرنے سے روکے، ان کے خلاف آواز اٹھائے، عدل و انصاف کی مانگ کرے۔

ایسے حالات میں بہار کے عوام کے سامنے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ذات، مذہب اور نعروں سے اوپر اٹھ کر ووٹ دیں۔ ووٹ کسی نام یا نشان کو نہیں بلکہ کارکردگی، اور عوامی خدمت کو دیا جائے۔ جو امیدوار تعلیم، صحت، روزگار، بجلی، پانی، سڑک، کارخانہ، کسانوں کی بہتری کی بات کرے اور ہندو مسلم، مسجد مندر سے اوپر اٹھ کر امن عامہ کی بحالی کو اپنی ترجیحات میں رکھے، وہی بہار کے مستقبل کے لیے موزوں ہو۔یاد رکھیں! جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ عوام بیدار رہیں۔ جو ووٹر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا ہے، وہ دراصل پورے نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ مگر جو جذبات کے بہاؤ میں بہہ جاتا ہے، وہ نہ صرف اپنی ریاست، بلکہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ بہار کے لوگوں نے ہمیشہ اپنی سیاسی بصیرت سے پورے ملک کو راستہ دکھایا ہے۔ آج ایک بار پھر اسی دانش مندی کی ضرورت ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ بہار نفرت کی سیاست کو مسترد کرے اور ترقی، تعلیم، اور انصاف کی سیاست کو ترجیح دے۔ اگر ووٹر یہ فیصلہ عقل، تجربے اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کرتے ہیں تو بہار ایک بار پھر علم، امن اور روزگار کا مرکز بن سکتا ہے۔

یہ انتخاب صرف حکومت بنانے یا بدلنے کا موقع نہیں، بلکہ سوچ بدلنے کا موقع ہے۔ بہار کے لوگوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ ان کا ووٹ صرف ایک امیدوار ، ایک پارٹی کے لیے نہیں ہے، بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے ہے، جمہوریت کی بقا کے لیے ہے۔امن عامہ کی بحالی کے لیے ہے۔ کیوں کہ جہاں امن ہوتا ہے وہیں ترقی ہوتی ہے، جہاں آپسی محبت، اپنائیت اور یک جہتی ہوگی وہاں آگے بڑھنے کی امید ہوگی۔ اور جہاں نفرت ہوگی، بھید بھاؤ ہوگا، آپسی ٹکراؤ ہوگی وہاں نہ امن عامہ بحال ہوگا، نہ کسی قسم کی کوئی ترقی ہوگی۔ وہاں صرف خوف کا ماحول ہوگا خوف کا ماحول۔ عزت لٹنے کا خوف، جان جانے کا خوف، بچوں کے کرنیپ ہونے کا خوف، گھر ٹوٹنے کا خوف، تجارت ختم ہو جانے کا خوف۔ الغرض خوف ہی خوف اور ڈر ہی ڈر کا ایسا بھیانک سناٹا جہاں عدل و انصاف نامی سانس چلنے کی آواز بھی دور دور تک سنائی نہیں پڑےگی۔ اس لیے آج آپ کو اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنا ہے اور بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔ کیوں کہ آپ اسی وقت تک آزادانہ طور پر خوش حال زندگی گزار سکتے ہیں، اپنے بچوں کا مستقبل سنوار سکتے ہیں جب تک جمہوریت ہے۔ لیکن، اگر کسی وجہ سے جمہوریت کمزور پڑتی ہے، فسطائی طاقتیں اقتدار میں آتی ہیں تو نہ یہ صرف بڑی اقلیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی، بلکہ ایس سی ، ایس ٹی کے لیے بھی زہر قاتل ہوگی۔ کیوں کہ آزادی سے پہلے ہی سے ان کی کوشش ہے کہ اقتدار ان کے حوالے ہو جائے تاکہ وہ بابا صاحب بھیم راؤ امیڈکر کے بنائے ہوئے سنبیدھان میں اپنی مرضی سے بدلاؤ کر سکیں اور انگریزوں کی پالیسی – فوٹ ڈالو اور حکومت کرو- کا بھرپور استعمال کر کے ذات برادری، مذہب اور دھرم کے نام پر عوام الناس کو آپس میں لڑا کر حکومت و اقتدار کا مزہ لیتے رہیں۔

آج بہار الیکشن میں چار پارٹیاں خاص طور پر پوری کوشش میں ہیں، جن میں ایک بی جے پی یعنی این ڈی اے – نتیش کمار کی پارٹی، دوسری آر جے ڈی یعنی کانگریس اور تیجسوی کی مہاگٹھ بندن پارٹی، تیسری جن سوراج یعنی پرشانت کشور کی پارٹی اور چوتھی اے آئی ایم آئی ایم یعنی بیرسٹر اسد الدین اویسی کی پارٹی۔ ان کے علاوہ کچھ نردلیہ لوگ بھی ہیں جو اپنے اپنے طور پر الیکشن کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان تمام بڑی پارٹیوں نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں کون ہے جو جمہوریت کی بقا کے لیے اور امن عامہ کی بحالی کے ساتھ بہار کی ہمہ جہت ترقی کے لیے موزوں ہےاسی کو ووٹ دیا جائے۔ یاد رکھیں دنیا میں اچھی زندگی تعلیم، صحت، روزگار اور امن عامہ کے ساتھ گزاری جا سکتی ہے۔ نہ کہ مندر اور مسجد کے نام پر یا ذات برادری اور ہندو مسلم کے نام پر آپس میں لڑ کر ۔ ایک کہاوت ہے: بھوکو پیٹ بھجن بھی نہیں ہوتا۔ یہ مندر مسجد یا اسی طرح کی کوئی دوسری چیز اسی وقت کام آئےگی جب آپ کے پاس روزگار ہو، تعلیم ہو اور آپ تندرست و صحت مند ہوں۔ آپ نے دیکھا نہیں- ابھی چھٹ کا تہوار تھا، دیوالی تھی، پورے ہندوستان خاص کر گجرات، ممبئی اور ساؤتھ سے آنے والی ٹرینوں کا کیا حال تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں بہار کے رہنے والے اپنے پریوار کے ساتھ، ماں باپ کے ساتھ، بیوی بچوں کے ساتھ تہوار منانے کے لیے بہار آنا چاہتے تھے۔ کن کن پریشانیوں کا انھیں سامنا کرنا پرا۔ کیسی کیسی مصیبتیں اٹھانی پڑیں، کیوں صرف اسی لیے نہ کہ بہار میں روزگار کا انتظام نہیں ہے ۔ کل کارخانے نہیں ہیں جس کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر جا کر کمانا پرتا ہے۔ اگر یہی کل کارخانے بہار میں ہوتے تو جو دھکے وہ باہر کھاتے ہیں، جو گالیاں انھیں باہر سننی پڑتی ہیں، جن نفرتوں اور بھید بھاؤ کا انھیں باہر شکار ہونا پڑتا ہے ، نہ ہونا پڑتا۔ وہ اپنے بہار میں محنت کرتے ، خوش رہتے اور اس سے ان کا بہار ترقی کرتا۔ مگر ، ارسوس! اتنی پریشانیوں کے باوجود اس الیکشن میں ہمارا مدعا بہار میں کارخانہ، بہار میں روزگار بنتا نہیں دکھ رہا ہے۔

گزشتہ الیکشن کو بہت قریب سے دیکھنے والوں کا یہ تجزیہ ہے کہ لوگ راتوں رات چند سکوں پر بک جاتے ہیں اور اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل بھول کر ایسے لوگوں کو ووٹ دے ڈالتے ہیں جو نفرت، دنگا، فساد اور آپنی نفرت پھیلانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ کہیں تاری شراب کی ایک بوتل پر ووٹ بکتے ہیں تو کہیں برادری اور دھرم کے نام پر۔ اور ایسے میں جو اچھے لوگ ہوتے ہیں، تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، جن میں سماج کی بہتری کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہوتا ہے، ہار جاتے ہیں۔ یاد رکھیں اچھے لوگوں کا ہارنا صرف ان کی ہار نہیں ہوتی ، وہ جمہوریت کی ہار ہوتی ہے۔ آپ کے اور آپ کے بچوں کے مستقبل کی ہار ہوتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس حقیقت کو سمجھنے سے پہلے آپ کا بڑا نقصان ہو چکا ہوتا ہے اور آپ خود کو اس دوراہے پر خود کو کھڑے پاتے ہیں جس کے دونوں طرف ہلاکت و بربادی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ چار بڑی پارٹیوں میں جس کے امیدوار کو یا نردلیہ امید وار کو آپ کا دل چاہے ووٹ دیں ، یہ آپ کا ذاتی اور جمہوری حق ہے۔ لیکن، اگر آپ کو ترقی یافتہ اور پر امن بہار چاہیے،تو ان میں سے ایسے کنڈی ڈیٹ کو ووٹ دیجیے جو سلجھا ہوا، محبتی اور تعلیم یافتہ ہو جس کا کردار داغ دار نہ ہو اور جس کا جیتنا یقینی ہو۔ اور اگر کسی علاقے میں ایسے صاف شبیہ کے لوگ نہ ہوں تو ایسے کا انتخاب کریں جو سماج اور انسانیت کے لیے قدرے کم نقصان دہ ہو۔ اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایسا فرد ضرور ہو جو جمہوریت کو جیتا ہو اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کوشاں ہو، جس کی نظر میں آپسی محبت، سماجی امن اور سنبیدھان کی حفاظت اول ہو، باقی ساری چیزیں ثانوی درجہ رکھتی ہوں۔ یقین جانیں اگر آپ نے صرف انہی چیزوں کا لحاظ کر کے ووٹ کیا تو آپ بہار کو، ملک کو ، جمہوریت اور سنبیدھان کو بچا لے جائیں گے۔ لہذا، چلیے !ہم سب ووٹ دیتے ہیں اور اپنی سوجھ بوجھ اور سیاسی سمجھ کا پورا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ووٹ کو اپنے ضمیر کی آواز بناتے ہیں۔کیوں کہ ایسے ہی موقع کے لیے کہا گیا ہے-

ع: رو سوئے قبلہ وقت مناجات چا یم

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔