از:- ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب
بلآخر بہار میں نتیش کاعہد اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ جے ڈی یو کے سربراہ اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پیر ۳۰؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو بہار قانون ساز کونسل سے استعفیٰ دے دیا اور اب وہ راجیہ سبھا کی نشست سنبھالیں گے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی ریاست کی باگ ڈور نہایت خاموشی اور سلیقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں میں منتقل ہوگئی۔ یہ بات آج سے نہیں بلکہ تقریباً دو دہائی قبل میرے گاؤں کے ایک جہاں دیدہ بزرگ، مرحوم ڈاکٹر حافظ عبدالعزیز صاحب کہا کرتے تھے کہ’نتیش کمار کی جماعت جے ڈی یو کا تیر گویا خون سے رنگا محسوس ہوتا ہے، اس لیے اسے ووٹ دینے کو دل آمادہ نہیں ہوتا، دراصل جے ڈی یو کو ووٹ دینا ایک دوسرے راستے سے بی جے پی کو بہار میں مستحکم کرنا ہے۔‘آج وہ ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کی کہی ہوئی باتیں بڑی حد تک سچ ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر نتیش کمار جیسی شخصیت درمیان میں نہ ہوتی تو شاید آج بھی بہار میں بی جے پی کے لیے اقتدار تک رسائی اتنی آسان نہ تھی، بلکہ وہ ہنوز دور کی کوڑی ثابت ہوتی۔
نتیش کمار کا سیاسی سفر بہار کی جدید تاریخ کا اہم باب ہے۔۲۰۰۵ء میں جب ریاست بدامنی، بدعنوانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب’جنگل راج‘ کے نام سےمشہور ہونے لگی، تو اقتدار آرجے ڈی سے منتقل ہوکر جے ڈی یو کے پاس آگیا۔اس طرح نتیش کمار۲۰۰۵ء میںوزیر اعلیٰ بنے۔وہ بہار کے سب سے طویل مدت رہنے والے وزیر اعلیٰ ہیں۔اب نتیش کمار۹؍ اپریل کو دہلی کے لیے روانہ ہوں گے اور۱۰؍ اپریل کو راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر حلف لیں گے۔ بہار میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل ۱۰؍اپریل کے بعد ہی شروع ہوگا۔
بہار میں نتیش کا جانشین کون ہوگا اس پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے ۔تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ نتیش کمارنے ۲۰۰۵ء میں بہار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر نظم و نسق کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ سڑکوں کی تعمیر، پلوں کا جال، دیہی رابطوں میں بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ان کے دور کی نمایاں خصوصیات ہیں۔اسی طرح تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی کئی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے اسکیمیں، سائیکل یوجنا، اور صحت کے مراکز کی توسیع جیسے اقدامات نے عوامی سطح پر ان کی شبیہ کو مضبوط کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’وکاس پرس‘ کے لقب سے یاد کیا گیا۔تاہم نتیش کمار کی سیاست کا سب سے متنازعہ پہلو بار بار اپنے اتحادی پارٹی کو بدلنا رہا ۔ کبھی بی جے پی کے ساتھ،تو کبھی آرجے ڈی اور کانگریس کے ساتھ تو کبھی اس کے خلاف، اور پھر بی جے پی کے ساتھ۔اس طرزِ عمل نے ان پر ’پلٹورام‘جیسا بھونڈا لیبل چسپاں کر دیا۔ ان کی اسی پالیسی نے غیر ارادی طور پر بہار میں بی جے پی کو مستحکم ہونے کا موقع فراہم کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ، بی جے پی نے اپنی تنظیمی طاقت کو بڑھایا اور آج وہ ریاست میں اقتدار کے مرکزی کردار میں ہے۔
نتیش کمار کے دور میں جہاں ایک طرف ترقیاتی کام ہوئے، وہیں دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں مسلسل کمزور ہوتی گئیں۔ راشٹریہ جنتا دل(آرجے ڈی)،انڈین نیشنل کانگریس، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں ایک مضبوط متبادل پیش کرنے میں ناکام رہیں۔حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھی یہ کمزوری واضح نظر آئی، جہاں متحدہ اپوزیشن ہونے کے باوجود وہ عوام کا اعتماد حاصل نہ کر سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار کی منتقلی نسبتاً آسان ہو گئی۔اس کے باوجوداگر نتیش کمار کے پورے دور کا خلاصہ کیا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے بہار کو ایک حد تک بدحالی سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ انفراسٹرکچر کی بہتری، امن و امان میں بہتری اور انتظامی اصلاحات ان کی بڑی کامیابیاں ہیں۔تاہم سیاسی استحکام کی بجائے مسلسل اتحادوں کی تبدیلی نے ان کی میراث کو متنازعہ بھی بنایا۔ ان کی یہی حکمت عملی بالآخر ان کے اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں کمی کا سبب بنی۔
اب جبکہ بہار کی باگ ڈور عملاً بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں آ چکی ہے، کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ایک طرف یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ترقی کا عمل جاری رہے گا اور ریاست مزید معاشی استحکام کی جانب بڑھے گی، تو دوسری طرف بعض حلقوں میں خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ خصوصاً اقلیتوں کے حوالے سے یہ سوال اہم ہے کہ آیا انہیں وہی تحفظ اور مساوی مواقع میسر رہیں گے یا نہیں۔چونکہ دیگر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں کے تجربات کو بعض ناقدین تلخ قرار دیتے ہیں، اس لیے وہاں اقلیتوں اور محروم طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں بہار میں بی جے پی کے مضبوط ہونے سے کچھ طبقات میں بے چینی اور اندیشے بڑھتے محسوس ہو رہے ہیں۔ایسے میں جب نتیش کمار عملی طور پر منظر سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، بہار ایک نئے امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے،ایسا امتحان جس کے نتائج آنے والے برسوں میں پوری طرح واضح ہوسکیںگے۔
یہ حقیقت ہے کہ اگر نتیش کمار جیسا چہرہ درمیان میں نہ ہوتا تو بی جے پی کو بہار میں اتنی آسانی سے قدم جمانے کا موقع شاید نہ ملتا۔بی جے پی کے لئے وہ ایک ایسے پل کی مانند رہے جس نے مختلف سیاسی دھاروں کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ زعفرانی پارٹی کے لیے راستہ بھی ہموار کیا۔ اب جبکہ وہ عملی طور پر ریاستی اقتدار سے کنارہ کش ہو رہے ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بی جے پی اپنی طاقت کو اسی طرح سے برقرار رکھ پائے گی یا بہار کی سیاست ایک نئے عدم استحکام کا شکار ہوگی؟آنے والے دنوں میں بہار کی سیاست کا منظرنامہ کئی حوالوں سے دلچسپ ہوگا۔ ایک طرف بی جے پی کو اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنا ہوگا، تو دوسری جانب اپوزیشن، خاص طور پر لالو پرساد یادو کی قیادت والی راشٹریہ جنتا دل کے لیے یہ ایک نیا موقع بھی ہو سکتا ہے کہ وہ عوامی حمایت کو ازسرنو منظم کرے۔بالآخر، نتیش کمار کا سیاسی سفر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہندوستانی سیاست میں اتحاد اور مفادات کی بساط پر کھیلنے والے کردار وقتی کامیابیاں تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر تاریخ ان کا جائزہ زیادہ گہرائی سے لیتی ہے۔
یہی وجہ ہےکہ بہار کی سیاست میں اچانک آئی اس تبدیلی پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفے اور انہیں راجیہ سبھا بھیجے جانے کے فیصلے پر طنز کیا ۔سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ’ہم تو چاہتے تھے کہ وہ وزیر اعظم بنیں، لیکن اب وہ راجیہ سبھا جا کر ریٹائر ہو جائیں گے‘، جو لوگ سیاست کی سمجھ رکھتے ہیں، وہ پہلے سے ہی جانتے تھے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کیا قدم اٹھانے والی ہے۔اسی طرح آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے نہ صرف بہار کے عوام کو،بلکہ خود نتیش کمار کو بھی دھوکہ دیا ہے۔ ان کے مطابق بہار کی سیاست میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں، وہ عوامی مفاد کی بجائے اقتدار کی سیاست کا حصہ ہیں۔تیجسوی یادو کا کہنا تھاکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اس طرح کے توہین آمیز الوداعیہ کے بارے میں نہ ان کی پارٹی نے اور نہ ہی ان کے چاہنے والوں نے کبھی خواب میں سوچا ہوگا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ان بیانات کے بعد بھی بہار کی سیاست میں ابھی اور بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے من میں کیا ہے اور نتیش کمار سے درپردہ کیا طے پایا ہے، یہ فی الحال صیغۂ راز میں ہے۔ جس دن اس راز سے پردہ اٹھے گا، اس سیاسی ہلچل کی شدت اور اس کے اثرات کا فی الحال انداز ہ لگا نا مناسب نہیں ہے۔