ڈاکٹر جسیم الدین
اردو مترجم ضلع اردو زبان سیل، دربھنگہ کلکٹریٹ
بہار کے تمام اضلاع میں ضلع انتظامیہ کے زیرِ نگرانی منعقد کیے جانے والے فروغِ اردو سمیناروں پر حالیہ دنوں میں جو نکتہ چینیاں سامنے آئی ہیں، وہ اس بات کی متقاضی ہیں کہ ان سمیناروں کی نوعیت، مقصد اور افادیت کو خالص تعصب یا اکیڈمک پیمانوں کے بجائے معروضی اور زمینی تناظر میں دیکھا جائے۔ کسی بھی ادبی یا لسانی سرگرمی کی جانچ اسی کے دائرۂ کار اور ہدف کے مطابق ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے معیار پر جو اس کے مزاج سے مطابقت ہی نہ رکھتا ہو۔
- سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ ضلع سطح پر منعقد ہونے والے فروغِ اردو سمینار کی نوعیت، کسی کالج یا یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے اکیڈمک سمینار سے قطعی مختلف ہوتی ہے۔ یہ سمینار محض اساتذہ، محققین یا منتخب اہلِ قلم کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کا اصل مخاطب عام اردو داں عوام، اردو کے شائقین اور وہ افراد بھی ہوتے ہیں جو اردو زبان سے پوری طرح واقف نہیں، مگر اس کے ثقافتی اور تہذیبی حسن سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے سمیناروں کا مقصد اردو کے خواص کو مطمئن کرنا نہیں بلکہ اردو کو عوام کے قریب لانا، غیر اردو داں طبقے کے دل میں اردو کی محبت جگانا اور زبان کے تئیں ایک مثبت ذہن سازی کرنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سپریم کورٹ ہیمنت بشوا شرما کی زبان پر لگام کسے گا ؟
کیا فروغِ اردو کے دائرے میں یہ مقصد شامل نہیں ہے؟
- دوسری اہم بات یہ ہے کہ ضلع سطح کے سمینار میں تمام ادبا، شعرا اور قلمکار کی شمولیت ممکن ہی نہیں ہوتی۔ ہر ضلع میں اہلِ قلم کی تعداد کہیں زیادہ اور وسائل محدود ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے یہ شکوہ کرنا کہ فلاں شاعر یا فلاں ادیب کو کیوں نہیں بلایا گیا، نہ تو عملی سوچ کی علامت ہے اور نہ ہی انصاف پر مبنی تنقید۔ کیا کسی ضلع کے پروگرام میں ضلع کے سارے ادبا وشعرا کو اسٹیج پر بٹھایا جانا ممکن ہے؟
ہر پروگرام اپنی انتظامی حدود، وقت اور وسائل کے اندر ہی ترتیب دیا جاتا ہے۔ اسے ذاتی محرومی یا ادبی تفریق کا نام دینا دراصل اصل مقصد سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔
- تیسری اور نہایت اہم بات یہ ہے کہ ضلع سطح کے سمینار کی افادیت کا معیار وہ نہیں ہو سکتا جو کسی کالج یا یونیورسٹی کے سمینار کا ہوتا ہے۔ کیا سارے کالجز یا یونیورسٹیوں کے سمینار ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں، کیا ان کا معیار و پیمانہ یکساں ہوتا ہے؟ کیا وہاں کمی کوتاہی نہیں ہوتی؟ کیا وہاں گلے شکوے نہیں ہوتے؟ کیا وہاں زبان وبیان کی فصاحت اور صحت الفاظ کے مسئلے سامنے نہیں آتے؟
یہ سچ ہے کہ اکیڈمک اداروں کے سمینار کا بنیادی مقصد ادب کے معیار کا تعین، نظری مباحث، تحقیقی نتائج اور علمی گفتگو کو فروغ دینا ہوتا ہے، جب کہ ضلع سطح کے فروغِ اردو سمینار کا مقصد اردو داں عوام کو بھی ایک سرکاری اور سماجی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہوتا ہے، جہاں وہ اردو سے جڑ سکیں، اپنی بات رکھ سکیں اور زبان کے تئیں احساسِ وابستگی محسوس کریں۔ دونوں کے مقاصد، طریقۂ کار اور نتائج کا تقابل کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
یہاں یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ کیا کسی سمینار کی کامیابی کا معیار صرف یہ ہے کہ اس میں کسی مخصوص کالج یا خاص یونیورسٹی کے لیکچرر کو شامل کیا جائے؟
اگر ایسا ہے تو پھر اردو کے وہ ہزاروں محبان، صحافی، سماجی کارکن اور عام اردو داں افراد کہاں جائیں، جن کے دم سے اردو آج بھی عوامی سطح پر زندہ ہے؟
اسی طرح کیا اردو الفاظ کی ادائیگی میں کمی یا لہجے کی خامی کی بنیاد پر کسی کی اردو دوستی پر سوال اٹھانا مناسب ہے؟
اگر اردو سے محبت کا پیمانہ صرف فصیح تلفظ قرار دے دیا جائے تو پھر وہ عوامی زبان کیسے رہ جائے گی؟
درحقیقت، ضلع سطح کے فروغِ اردو سمینار اردو کے سماجی پھیلاؤ، عوامی قبولیت اور سرکاری سطح پر موجودگی کو مضبوط کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔ ان سمیناروں کو اکیڈمک عینک سے دیکھ کر مسترد کرنا یا ان پر طنز کے تیر چلانا دراصل فروغِ اردو کے وسیع تر تصور کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
نقد و احتساب ہر عمل کے لیے ضروری ہے، مگر وہی نکتہ چینی قابلِ قبول ہے جو مقصدِ اصلاح سے کی جائے، نہ کہ ایسی سخت گیری اور تنگ نظری کے ساتھ جو عوامی سطح پر اردو کی ہر کوشش کو مشکوک بنا دے۔ اگر واقعی اردو کا درد دل میں ہے تو پھر ان پلیٹ فارمز کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو اردو کو خواص کے حلقے سے نکال کر عوام تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت امریکا تجارتی معاہدہ
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ضلع سطح کے فروغِ اردو سمینار اپنی نوعیت، مقصد اور دائرۂ کار کے اعتبار سے نہ صرف اہم بلکہ ناگزیر ہیں۔ ان کی افادیت کو کسی اور پیمانے سے ناپنا، اور پھر اسی بنیاد پر انہیں ناکام قرار دینا، نہ علمی دیانت ہے اور نہ ہی اردو دوستی کی علامت۔ اس لیے صرف «انا» کی تسکین کے لیے ضلع سطح کے سارے سمیناروں پر نامعقول تنقید کی جسارت فروغ اردو کے لیے ہمدردانہ جذبہ کے دائرے میں کبھی نہیں آسکتی۔ اور نہ ان نام نہاد معدودے چند افراد کی نکتہ چینی سے ضلع سطح پر انعقاد کیے جانے والے فروغ اردو سمینار ومشاعرہ کی اہمیت وافادیت پر کوئی آنچ آسکتی ہے۔ اور فروغ اردو کی رفتار سست پرسکتی ہے۔
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ بیشتر اضلاع میں یہ پروگرام بہت ہی کامیاب و بامراد ہوتے ہیں، ہاں کسی ضلع میں معمولی کمی ہوجاتی ہے تو اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے اس کی نکتہ چینی کرتے ہوئے اصلاح اور صحت مند وحقیقت پسندانہ متوازن تنقید کی بجائے مذاق کا موضوع بنایا جائے یہ فروغ اردو کے کام کاج کو زک پہنچانے کی سازش ہوسکتی ہے، بہی خواہانہ جذبہ اسے نہیں کہا جاسکتا۔ ہم اپنی کمی کو دور کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں کیوں کہ کمی کی تلافی سے ہی ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔