دہشت گردی حقیقت یا افسانہ

از:- ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

سات اکتوبر 2023 سے پہلے دنیا کو اس بات کا یقین تھا کہ امریکہ اور اسرائیل دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور ممالک ہیں۔ ان کی فوجی ،اقتصادی اور ٹیکنالوجی کی طاقت کا لوہا ساری دنیا مانتی تھی۔ ہر ملک چاہتا تھا کہ امریکہ سے اس کے تعلقات استوار رہیں اور اسرائیل کے ہتھیار جن پر عموما ’’جنگ میں ٹیسٹ شدہ ‘‘کا لیبل چسپاں ہوتا تھا، زیادہ سے زیادہ خرید سکیں۔ خود ہمارا ملک بھی اسرائیل سے ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اسرائیلی ٹیکنالوجی کو دنیا کے بیشتر ممالک اپنی حفاظت کی گارنٹی سمجھتے تھے۔ یہ بھرم قائم رکھنے میں جہاں امریکہ دنیا بھر میں جنگیں کرتا رہا وہیں دوسری طرف عالمی میڈیا بھی یہ بیانیہ بنانے میں اپنا موثر رول ادا کرتا رہا ۔لیکن سات اکتوبر کے بعد حماس کے حملے نے اس صورتحال کو ایک ہی دن میں بدل ڈالا۔ ۲۰۰۷ سے ہی غزہ اسرائیل کی سخت ناکہ بندی کا شکار تھا۔۲۳ لاکھ لوگوں کی آبادی ۱۹ سال سے ایک کھلی جیل میں قید تھی جس کا باہری دنیا سے کوئی رابطہ نہ تھا، نہ ہی آمد و رفت ، تجارت، کاروبار تھا ،غرض شہری زندگی کی کوئی سہولت میسر نہ تھی، اس کے باوجود معمولی درجے کے دیسی ہتھیاروں نےاسرائیل کے آئرن ڈوم کو ناکام بناتے ہوئے اسرائیل کے ڈھائی سو سے زائد فوجیوں اور شہریوں کو حماس نےگرفتار کر لیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی شکست کو تسلیم کرنے کے لیے یہ حقیقت بہت کافی ہے کہ اس عرصے میں محصور غزہ پر ہزاروں ٹن بارود برسا کر پوری ریاست کو ریت کے ڈھیر میں بدلنے اور وحشت اور بربریت کی ہر حد پار کر لینے کے باوجود ،ایک لاکھ زیادہ لوگوں کو شہید کرنے اور لاکھوں اہل غزہ کو زخمی اور بے گھر کرنے کے بعد بھی اسرائیل و امریکہ اپنے قیدیوں میں سے کسی ایک کو بھی زندہ یا مردہ بازیاب کرنے میں ناکام رہے۔ یہ حقیقت بھی دنیا کے سامنے ہے کہ اس تمام عرصے میں بارود کی اس طوفانی برسات کے نیچے یہ بھوکے پیاسے، بے گھر لوگ استقامت کے ساتھ کھڑے رہے اور کوئی ایک بھی فرد اپنے ملک سے فرار نہیں ہوالیکن پھر بھی اسرائیل اپنا ایک بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔قابل ذکر ہے کہ اسی دوران اسرائیل جیسے ترقی یافتہ اور محفوظ ترین کہلائے جانے والے ملک سے تقریبا ساڑھے پانچ لاکھ عوام نے اپنی مرضی سے ڈر کے مارے فرار اختیار کی،اپنی شکست اوراس عالمی تضحیک کا الزام امریکہ اور اسرائیل ہمیشہ ایران پر ڈالتے رہے اور یہ الزام لگاتےرہے کہ حماس ،حزب اللہ اور حوثی کو ایران کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے اسرائیل اور خلیجی ممالک کا وجود خطرے میں ہے ۔لہذہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم لے کر ایران پر بھی چڑھ د وڑے۔ اب گزشتہ 18 دن سے ایران پر ہزاروں ٹن بارود برسایا جا چکا ہے ایک ہزار سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں اور ایران کے بڑے بڑے شہربھی ملبے کے ڈھیرمیں بدل چکے ہیں اس کے باوجود ابھی تک امریکہ اور اسرائیل یہاں بھی اپنا ایک بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔

یہ دونوں ممالک اور ان کے یورپی حلیف عام طور پر اپنے مخالفین پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہیں ۔گذشتہ ۴۰ سال سے یہ لفظ اتنا زیادہ استعمال کیا گیا ہے اب یہ لفظ اپنی معنویت کھوچکا ہے۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ درحقیقت دہشت گردی کیا ہے اور کیا واقعی حماس ،حزب اللہ اور یمن کی حوثی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جیسا کہ خود ہمارے ملک کا میڈیا بھی بنا تحقیق و تصدیق بے دریغ اس لفظ کا استعمال کرتا ہے۔ دہشت گردی کا لفظ سب سے پہلے 1790 میں ایک فرانسیسی اخبار’’ دی ٹائمز ‘‘نے استعمال کیا تھا اس وقت یہ اصطلاح فرانسیسی حکومت نے اپنے خلاف کھڑے ہوئے انقلابیوں کے خلاف استعمال کی تھی ۔گویا ا س کی اختراع ہی برسر اقتدار حکمرانوں نے اپنے مخالفین کے لئے کہ تھی۔ بہت بعد میں 1860 کے قریب روس میں بھی اس اصطلاح کو حکومت کے خلاف ہونے والی بغاوت کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک اقوام متحدہ یا اس طرح کے کسی بھی عالمی فورم نے لفظ دہشت گردی کی کوئی متفق علیہ تعریف بیان نہیں کی ہے۔ حالانکہ لیگ آف نیشنز سے لے کر اقوام متحدہ تک نے اس پر تقریبا ۱۷۰۰ گھنٹے بحث کی ہے ۔بس اتنا کہا جاتا ہے کہ’’ کسی سیاسی یا نظریاتی وجہ سے غیر مسلح عوام کے خلاف تشدد استعمال کرنے کو دہشت گردی کہتے ہیں ‘‘ لیکن اس پر کوئی عام اتفاق رائے نہیں ہے۔ اسی لیے دنیا کے مختلف ممالک اپنے اپنے ملکوں میں مختلف انداز سے اس لفظ کی تعریف متعین کرتے ہیں۔ عام طور پر اس کا اطلاق اپنے مخالفین کے لیے حکومتیں ہی کرتی ہیں۔اور اس غرض سے وہ مختلف قسم کے گروہوں کے لیے مخٹلف قسم کی متشدد تحریکات کے لئے مختلف اصظلاحیں استعمال کرتی ہیں۔ چنانچہ اب یہ عام مشاہدہ ہے کہ مسلم نام کی تقریبا ہر تحریک کو بلا جواز دہشت گردی کہہ دیا جاتا ہے۔ اور جب اپنا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو یہی مبینہ دہشت گرد تنظیمیں حکمراں کی حیثیت سے بھی تسلیم کر لی جاتی ہیں۔ یہی بات امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلا ایک زمانہ تھا جب طالبان کو ساری دنیا میں دہشت گرد کہا جاتا تھا لیکن 20 سال کی جنگ کے بعد جب امریکہ افغانستان میں ناکام ہوا تو انہی طالبان کے ہاتھوں اس نے حکومت سونپ دی اور آج ساری دنیا انہی مبینہ دہشت گردوںکو افغانستان کی جائز حکومت تسلیم کر تی ہے خود ہمارا ملک میں بھی جہاں ایک زمانے میں ہر قسم کے مقامی تشدد کو بھی طالبانی انداز قرار دیا جاتا تھا آج انہیں طالبانی وزراء کے لیے ریڈ کارپٹ بچھاتی ہے اور ان سے سفارتی تعلقات قائم کرتی ہے ،یہی طالبانی آج امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں بھی مہمان بنائے جاتے ہیں ۔ اس کی دوسری مثال شام ہے جہاں ۱۵ سال تک حزب التحریر کو دہشت گرد کہا جاتا ہے لیکن اب وہی وہاں قابل احترام حکمران ہیں، اس اثنا مین وہاں کی جابر حکومت نے پورا ملک تباہ کر دیا اور آدھے سے زیادہ آبادی کو یا تو قتل کر دیا ،یا بے گھر خانماں برباد کر دیا۔ اسی طرح آج امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر الزام یہ ہے کہ وہ حماس ،حزب اللہ اور حوثی جیسے دہشت گرد گروپوں کی پرورش کر رہا ہے اور ان کو خلیجی عرب ممالک اسرائیل اور امریکہ کے لیے استعمال کر کے دنیا کے لیے خطرہ بن گیا ہے ۔ لیکن غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چند یورپی اور عرب ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ یا ایسے کسی عالمی ادارے نے ان تنظیموں کو آج تک دہشت گرد قرار نہیں دیا ، اس کے برعکس حماس فلسطین کی سب سے بڑی پارٹی ہے جس نے 2006 میں وہاں انتخاب جیت کر حکومت سازی کی تھی۔ اسی طرح حزب اللہ بھی لبنان کا سب سے بڑا سیاسی گروپ ہے جو عام طور پر لبنان کی حکومت میں شریک رہتا ہے، یہی حال یمن میں انصار اللہ یا حوثیوں کا بھی ہے جن کا یمن کے ایک حصے پر سرکاری کنٹرول ہے اور وہ وہاں ایک باضابطہ حکومت چلاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک نے بھی ان تینوں میں سے کسی تنظیم کو آج تک دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا ۔اس کے باوجود ہمارے ملک کا میڈیا اور دیگر ذرائع ان تنظیموں کو دہشت گرد کہنے میں ذرا نہیں جھجکتے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی یہ اصطلاح دراصل اسلاموفوبیا کی ترویج کا ایک حصہ ہے جو مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور نا انصافی کے خلاف جاری ہر ایک مزاحمت کے لئے امریکہ و اسرائیل کے اشاروں پر استعمال کی جاتی ہے۔ البتہ داعش، القاعدہ، بوکو حرام، الشباب اور اس طرح کی دیگر تنظیموں کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کی بھی گہرائی میں جا کر بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ ان کی تہوں میں بھی امریکہ اور اسرائیل ہی کار فرما نظر آتے ہیں۔ گویا خود مسلمانوں کے اندر سے کچھ گمراہ لوگوں کو خرید کے ہتھیار اور پیسوں کے ذریعے انہیں کھڑا کیا گیا اور دنیا کے مختلف خطوں میں عوامی افراتفری پیدا کرنے کا کام لیا گیا اور آج بھی لیا جا رہا ہے۔ افریقہ میں سوڈان کی خانہ جنگی بپا کرنے میں اسرائیلی رول تو اب دینا کے سامنے آہی چکاہے۔ تشدد کو چاہے جو بھی نام دیا جائے وہ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں رہا ، جنگ کے نتائج بھی ہمیشہ ہی تباہ کن رہے ہیں اس کے باوجود بھی جو ممالک یا اقوام تشدد کو فروغ دیتے ہیں یا ان کی کسی بھی طرح پشت پناہی کرتے ہیں یا اپنی ملک گیری کی خاطر دوسرے ممالک پر جنگ مسلط کر کے تمام بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی دھجیاں اڑا کر انتہائی غیر انسانی سفاکانہ درندگی اختیار کرتے ہیں اور جنہیں بین الاقوامی عدالتیں تک جنگی مجرم قرار دیتی ہیں کیا وہ اصل دہشت گرد نہیں۔ اور دینا کے وہ ممالک یا لیڈران جو ان جنگی مجرمین کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کی تائید کرتے ہیں ان سے بغلگیر ہوتے ہیں ، ان کے ساتھ معاہدے کرنے میں فخر کا اظہار کرتے ہیں یا کسی نہ کسی طور پر ان کی وحشیانہ حرکتوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے انہیں اپنا سب سے قریبی حلیف بتاتے نہیں تھکتے کیا وہ بھی اس انسانیت کشی کا حصہ نہیں بن رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ اب یا تو ٹیررزم لفظ کا استعمال بند کیا جائے یا پھر اس کی از سر نو تعریف متعین کی جائے۔

( مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں )

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔