از:- عارف حسین ایڈیٹر سیل رواں
دینی اجتماعات ہمیشہ سے امت کی فکری و اخلاقی تعمیر کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔ انہی مجالس میں علم کی روشنی پھیلتی ہے، دلوں کی اصلاح ہوتی ہے اور معاشرہ اپنی صحیح سمت متعین کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ وقت کے ساتھ ان اجتماعات کی روح میں کچھ ایسی تبدیلیاں در آئی ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
حال ہی میں ایک دینی جلسے کا پوسٹر نظر سے گزرا۔ علاقے کے معزز علماء دیوبند کے نام نمایاں تھے، مگر ان کے ساتھ ایک ایسا نام بھی شامل تھا جس نے توجہ کھینچ لی: جھارکھنڈی بابا۔ یہ محض ایک نام کا اضافہ نہیں، بلکہ ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ ہے: کیا ہم اپنے دینی پلیٹ فارم کے معیار کو برقرار رکھ پا رہے ہیں؟
یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ بعض مقررین کی مقبولیت ان کے علمی مقام سے زیادہ ان کی طرزِ بیان اور جذباتی انداز سے ہوتی ہے۔ جھارکھنڈی بابا جیسے خطباء میں لفاظی اور عوامی اندازِ گفتگو کی کشش ضرور ہے، جس کی وجہ سے نوجوان طبقہ خاص طور پر ان کی طرف مائل ہوتا ہے۔ تاہم، سنجیدہ دینی حلقوں میں اس طرز کو ہمیشہ احتیاط کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، کیونکہ دینی اسٹیج کا اصل مقصد وقتی جوش پیدا کرنا نہیں بلکہ فکری رہنمائی اور اصلاح ہے۔ جو شخص دینی علم سے تہی دامن ہو، جو حلوے کو کڑھائی میں تلاش کرے اور علمی دلیل کو جذباتی نعروں کی نذر کر دے، اس کے اندازِ خطاب کو منبرِ دین کے لیے معیار نہیں بنایا جا سکتا۔
یہاں معاملہ صرف جھارکھنڈی بابا کا نہیں ہے۔ اہل علم پہلے ہی اس بات پر فکر مند رہے ہیں کہ دینی اجتماعات اپنی اصل روح سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ علماء کی سنجیدہ تقاریر بعض اوقات غیر ضروری شور و ہنگامے میں دب جاتی ہیں۔ طویل راتوں تک جاری رہنے والے پروگراموں میں نظم و وقار متاثر ہوتا ہے اور بعض جگہوں پر غیر محتاط طرزِ عمل؛ جس میں بے ہنگم ہجوم اور خواتین کی غیر منظم شرکت بھی شامل ہے مزید پیچیدگیاں پیدا کر دیتا ہے۔
ان تمام امور کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض تنقید تک محدود نہ رہیں بلکہ اصلاح کے پہلو کو ترجیح دیں۔ دینی اجتماعات کو دوبارہ ان کے اصل مقصد کی طرف لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہمیں وہی اسلوب اپنانا ہوگا جو نبوی طریقۂ اصلاح کا خاصہ تھا حکمت، توازن اور تدریج کے ساتھ بہتری کی کوشش۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج کے فیصلے کل کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اگر ہم نے معیار پر سمجھوتہ کیا تو آنے والی نسلیں اسی کو معیار سمجھیں گی۔ نوجوانوں کی رہنمائی اسی وقت ممکن ہے جب ہم خود اپنے عملی نمونے کو بہتر بنائیں اور انہیں سنجیدگی، علمیت اور وقار کی طرف متوجہ کریں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ دینی اجتماعات کے منتظمین، اہلِ علم اور ذمہ دار افراد باہمی مشورے سے ایک واضح لائحہ عمل ترتیب دیں، جس کے ذریعے ان مجالس کو علمی، اخلاقی اور منظم انداز میں فروغ دیا جا سکے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اصلاحِ معاشرہ کی بات کرنے سے پہلے اپنی صفوں کی اصلاح پر توجہ دیں، اور اپنے اجتماعات کو واقعی ہدایت و رہنمائی کا مؤثر ذریعہ بنا سکیں۔