از:- محمد عمر فراہی
ڈونالڈ ٹرمپ کچھ صحافیوں کی ایک مجلس میں ایران اسرائیل جنگ کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بڑے ہی استہزائی لہجے میں کہہ رہا تھا جیسا کہ اس کا انداز ہے کہ ہم ایران سے بات کرنا چاہتے ہیں مگر ایران میں اب کوئی بچا ہی نہیں ہے کہ جس سے ہم بات کریں ۔اس کا کہنے کا مطلب صاف تھا کہ ہم نے ساری ایرانی قیادت کو ختم کر دیا ہے تو اب بات کس سے کی جاۓ لیکن پھر بھی کچھ نئے لوگ ہماری نظر میں ہیں وہ بہت اچھے ہیں ہماری ان سے بات ہو رہی ہے ۔جبکہ صفر شعور کے مالک اس بیوقوف کو خود نہیں پتہ کہ اس کے دماغ کی باگ ڈور نیتن یاہو اور اسرائیل نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے !
ڈونالڈ ٹرمپ شاید بھول رہے ہیں یا انہیں اسلامی تاریخ کا مطالعہ نہیں ہے ۔اسلامی مملکتوں میں قیادتیں ایسے پیدا ہوتی ہیں جیسے خزاں کے بعد بہار اتے ہی نئے پتے پہلے سے بھی تازہ صورت میں نکل آتے ہیں ۔ہم بہت دور نہیں جانا چاہتے جب ہلاکو خان نے بغداد اور تمام مسلم مملکتوں کو روند ڈالا تھا پھر بھی اہل ایمان کی نئی قیادتوں نے پھر سے اپنی سیاسی بصیرت اور طاقت کا لوہا منوایا حال میں افغانستان میں ہی دیکھ لیں امریکہ نے یہاں بھی یہی دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے طالبان کی قیادت کا خاتمہ کر دیا ہے اور یقینا ملا عمر اور بن لادن کی روحیں اپنے ٹھکانوں کی طرف پرواز کر چکی تھیں ۔پھر ڈونالڈ ٹرمپ نے کس سے بات کر کے اپنی فوجوں کو واپسی کا راستہ ہموار کیا ؟
اسرائیل حماس کی تمام قیادتیں ختم کر چکا تھا پھر وہ کون لوگ تھے جو سات اکتوبر کو اس کی سرحدوں کی طرف پورے حوصلے کے ساتھ چڑھ دوڑے ؟ ابھی بھی اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حماس کی اہم قیادتوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور یقینا ایسا دکھائی بھی دیتا ہے مگر کیا یہ سچ ہے ؟
کیا اسرائیل دوبارہ غزہ کا رخ نہیں کرے گا ؟
خود ان کی کتابیں ہی روز غضب اور ہر مجدون یعنی Armageddon کی پیشن گوئی کرتی ہیں اور اسرائیلی حکمراں گرغد کے درخت کی شجرکاری کر نے میں تیزی سے مصروف ہیں تو کیوں ! جب آپ اتنے طاقت ور ہیں اور ایٹمی طاقت بھی ہیں تو مسیحا کا انتظار کیوں ؟
شام میں جس طرح خلیجی ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے اخوانی انقلاب کو روکنے کے لئے تباہی مچائی اور تیس لاکھ لوگ ہجرت پر مجبور ہوۓ اس وقت ایسا کوئی مشہور چہرا نظر نہیں آرہا تھا جس سے امید کی جاسکے کہ شامی حریت پسند دوبارہ بشارالاسد سے اپنے ملک کو آزاد کروا لیں گے ! لیکن ان کی نئی قیادت نے ایسا ممکن بنایا اور ڈونالڈ ٹرمپ کو اسے وہائٹ ہاؤس میں دعوت دینی پڑی ۔اس میں کوئی شک نہیں ایران اکیلا امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن ایران کو آسانی کے ساتھ نگلنا آسان بھی نہیں ہے۔ اسرائیل کے بارے میں تو نہیں کہہ سکتے کیوں کہ وہ خدا کی محبوب قوم ہے انہیں ان کے خدا نے ہی آخری وقت تک کی مہلت دی ہے کم سے کم اس بار ایران امریکی ٹائٹینک جہاز کو اپنی ساتھ لے کر ضرور ڈوب جاۓ گا ۔