جو صبر نہیں کرسکتا وہ ترقی نہیں کرسکتا

محمد قمر الزماں ندوی

استاد/ مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

_______________

استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک اہک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔
’’سنو بچو! آپ سب کو دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘
یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے ۔
چند لمحوں کے لیے کلا س میں خاموشی چھاگئی ،ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھااور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہورہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔
اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا.
کچھ سالوں بعد استاد نے اپنی وہی ڈائری کھولی اور ان سات بچوں کے نام نکال کر ان کے بارے میں تحقیق شروع کی ۔ کافی جدوجہد کے بعد ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں کامیابی کے کئی زینے طے کر چکے ہیں اور ان کا شمار کامیاب افراد میں ہوتا ہے۔پروفیسر والٹر نے اپنی کلاس کے باقی طلبہ کا بھی جائزہ لیا،معلوم ہوا کہ ان میں اکثریت ایک عام سی زندگی گزار رہی تھی، جب کہ کچھ افراد ایسے بھی تھے، جنھیں سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا تھا۔
اس تمام تر کاوش اور تحقیق کا نتیجہ پروفیسر والٹر نے ایک جملے میں نکالا اور وہ یہ تھا.
’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کرسکتا، وہ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘
اس تحقیق کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑ گیا، کیوں کہ پروفیسر والٹر نے بچوں کو جو ٹافی دی تھی، اس کا نام ’’مارش میلو‘‘تھا. یہ فوم کی طرح نرم تھی ۔ (ماخوذ از گروپ ،،تراشے ،،)
زندگی میں کامیابی کے لئے ،خواہ اس کامیابی کا تعلق دین کے شعبہ سے ہو یا دنیا کے شعبہ سے ہو ، انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے ، صبر ، ہمت ، برداشت ، حوصلہ ،جفاکشی ،جد و جہد ضروری ہے ،اس کے بغیر کامیابی روشن مستقبل اور نیک نامی کا تصور ممکن نہیں ہے ، مشہور مقولہ ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے ، من جد وجد کا مصداق بننا پڑتا ہے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جتنی عظیم شخصیتیں وجود میں آئیں ، ان میں ان کے صبر ،عزم حوصلہ، جہد و جہد اور برداشت کا سب سے نمایاں رول اور کردار رہا ہے ، ایسا شاید ہی ہوا کہ کوئی خود بخود سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوگیا ہو ۔ میں ایسے بھی بہت سے افراد سے واقف ہوں کہ وہ انتہائی خستہ حال اور غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ، اگر چہ ہم نے ان کو ان کے بڑھاپے کی عمر میں دیکھا ، ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ جب پڑھنے کے لئے گھر سے گئے تو فارغ ہوکر ہی گھر سے لوٹے ، مالی حالت اتنی خراب تھی کہ ان کے پاس گھر آمد و رفت کا کرایہ نہیں ہوتا تھا ، یا یہ ڈر ہوتا تھا کہ گھر چلے جائیں گے تو اگلے سال والدین کام اور مزدوری میں لگا دیں گے پڑھنے نہیں بھیجیں گے ۔ ایک صاحب تو سولہ سال کے بعد گھر لوٹے تھے ۔ بعد میں ان حضرات کا گھرانہ اس صبر ،برداشت اور جفاکشی کی وجہ سے خوشحال گھرانہ بن گیا آج گاؤں کے مالداروں لوگوں میں ان کا شمار ہے اور اب دولت کی ریل پیل ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان لوگوں نے زیادہ تر سرکاری ملازمت قبول کرلی تھی، اس لیے کوئی علمی اور تحقیقی کام نہیں کرسکے ، لیکن خاندان کا معیار تعلیم اور مال و دولت کے اعتبار سے کافی بلند کرلیا ۔
  آج حال یہ ہے کہ طلبہ معمولی معمولی عذر پر چھٹیاں لیتے ہیں اور درس کا ناگاہ کرتے ہیں ، بعض طلبہ تو اساتذہ سے سے رخصت لیتے ہیں ۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ دوران طالب علمی ندوہ میں راقم الحروف کا سات سال رہنا ہوا ، سوائے سالانہ اور ششماہی چھٹیوں کے کبھی گھر نہیں گیا اور کبھی درخواست لکھنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور نہ کبھی آنے میں تاخیر کی۔
غرض اس تھیور ی کے مطابق دنیا کے کامیاب ترین افراد میں اور بہت ساری خوبیوں کے ایک ساتھ ایک خوبی ’’صبر اور عزم و ہمت‘‘ کی بھی پائی جاتی ہے، کیوں کہ یہ خوبی انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے، جس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا اور یوں وہ ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔
مایوسی نہیں بلکہ صبر رکھیے ان شاء اللہ کامیابی قدم چومے گی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: