از:- شاہنواز بدر قاسمی
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، جس کی اصل طاقت اس کی کثرت میں وحدت اور سیکولر مزاج میں پوشیدہ ہے۔ ہمارا دستور محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ مختلف مذاہب، تہذیبوں، زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام اور بقائے باہمی کا ایک مضبوط معاہدہ ہے۔ دستورِ ہند کی دفعات 25 تا 28 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، مذہبی شعائر ادا کرنے اور اپنی عبادات انجام دینے کی مکمل آئینی آزادی فراہم کرتی ہیں۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے عیدالاضحیٰ جیسے مقدس مذہبی تہوار کو متنازعہ بنانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جیسے ہی بقرعید قریب آتا ہے، ملک کے مختلف حصوں میں خوف، اشتعال اور بے یقینی کی فضا پیدا کرنے کی کوششیں تیز ہو جاتی ہیں۔ گائے کے مسئلے کو بنیاد بنا کر ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہ صرف سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ہندوستان کے سیکولر تشخص کو بھی کمزور کرتا ہے۔
عیدالاضحیٰ مسلمانوں کے لیے محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایک عظیم مذہبی عبادت ہے، جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانی، اطاعت اور ایثار کی یاد دلاتی ہے۔ ہندوستانی مسلمان صدیوں سے مقامی قوانین، عدالتی احکامات اور برادرانِ وطن کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس فریضے کو پُرامن انداز میں ادا کرتے آئے ہیں۔ اس کے باوجود ہر سال قربانی کے موقع پر خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہونا ایک تشویشناک صورتِ حال بنتا جا رہا ہے۔
ہمارے ملک میں جب بھی عیدالاضحیٰ کا موقع آتا ہے تو بعض شدت پسند عناصر اور سیاسی مفاد پرست حلقے گائے کے نام پر ماحول کو کشیدہ بنانے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے، جہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی شعائر ادا کرنے کی آئینی آزادی حاصل ہے۔ قربانی مسلمانوں کا ایک اہم مذہبی فریضہ ہے، جسے صدیوں سے امن و سکون کے ساتھ انجام دیا جاتا رہا ہے، مگر افسوس کہ گزشتہ چند برسوں سے قربانی کے موقع پر مسلمانوں کو ذہنی دباؤ، خوف اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گائے کے نام پر سیاست نے ملک کے سماجی ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بعض شرپسند عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر نہ صرف مسلمانوں کو پریشان کرتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ کبھی گاڑیوں کی تلاشی کے نام پر، کبھی افواہوں کی بنیاد پر، اور کبھی محض مذہبی شناخت کی وجہ سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر انسانی اور غیر مہذب ہے بلکہ ملک کے آئین اور قانون کی روح کے بھی سراسر خلاف ہے۔
ایک جمہوری حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ تمام شہریوں کے جان و مال، عزت اور مذہبی آزادی کی حفاظت کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ قربانی کے ایام میں ایسا پُرامن ماحول قائم کرے جہاں ہر شہری بلا خوف و خطر اپنے مذہبی فرائض انجام دے سکے۔ اگر کسی جگہ قانون کی خلاف ورزی ہو تو اس کا فیصلہ عدالت اور انتظامیہ کرے، نہ کہ ہجوم اور جذباتی عناصر۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہی ایک مہذب اور آئینی معاشرے کی پہچان ہے۔
ملک کی ترقی نفرت، تشدد اور تقسیم سے نہیں بلکہ بھائی چارے، انصاف اور باہمی احترام سے ممکن ہے۔ ہندوستان کی خوبصورتی اس کی گنگا جمنی تہذیب، مذہبی رواداری اور مشترکہ ثقافت میں ہے۔ اگر ملک کا ایک طبقہ مسلسل خوف اور عدم تحفظ کا شکار رہے گا تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔ اس لیے حکومت اور انتظامیہ دونوں کی یہ اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عوام کے درمیان اعتماد بحال کرے۔
ہندوستان کے مسلمان ہمیشہ سے اس ملک کے وفادار شہری رہے ہیں۔ جنگِ آزادی سے لے کر ملک کی تعمیر و ترقی تک، مسلمانوں نے ہر شعبے میں اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ قربانی ایک خالص مذہبی عبادت ہے، اسے سیاست اور نفرت کا ذریعہ بنانا کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے کے لیے مناسب نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے کو سمجھے اور قربانی کے موقع پر مسلمانوں کو بلاوجہ پریشان کرنے کے بجائے امن و امان کے قیام کو یقینی بنائے۔
آج ملک کو نفرت کی نہیں بلکہ اتحاد، محبت، انصاف اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے۔ یہی راستہ ہندوستان کو مضبوط، پُرامن اور ترقی یافتہ بنا سکتا ہے۔