محروم عمل ملاحوں میں طاقت ہے نہ بل ہمت ہے نہ دم

مفتی محمد ناصرالدین مظاہری، استاذ مظاہر علوم وقف سہارنپور

سنوسنو!

میں کسی اور کو الزام نہیں دے سکتا

اپنی تاریخ کو خود قتل کیا ہے میں نے

تونے جس زہر سے بچنے کی ہدایت کی تھی

اپنے ہاتھوں سے وہی زہر پیا ہے میں نے

دل کی دنیا ہے تصاویر بتاں سے آباد

صرف ہونٹوں سے ترانام لیا ہے میں نے

کھاچکی زنگ مرے ذوق عمل کی شمشیر

راستہ خود ہی تباہی کو دیا ہے میں نے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے والہانہ عقیدت ومحبت اوران کے دین قیم کیلئے جاں نثاری ایمان کا ایک جزو ہے ، مسلمان من حیث القوم ایک دھاگے ،ایک تار بلکہ ایک بدن کی طرح ہیں ۔المسلمون کرجل واحد ان اشتکیٰ عینہ اشتکیٰ کلہ، وان اشتکیٰ راسہ اشتکیٰ کلہ(رواہ مسلم)

یہودی اور عیسائی جو آپس میں ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے (حالانکہ یہودی اندرخانہ اب بھی عیسائیوں کے ازلی دشمن ہیں) لیکن اسلام کی تیز رفتارترقی ،حلقہ بگوشِ اسلام ہونے والوں کی کثرت…یہودی تہذیب پر اسلام کے بڑھتے ہوئے اثرات …مسلم داعیان اور دانشوران کی دعوتی وتبلیغی خدمات… اورقلمی جہاد نے دنیا پرجو گہری چھاپ چھوڑی ہے اس سے یہ ازلی دشمن آپس کی رقابتوں، عداوتوں اوررنجشوں کو ’’بظاہر‘‘ بھلاکر شیروشکر ہوگئے … یہودی آواز پر عیسائیت لبیک کہتے ہوئے ہر قسم کے جانی ،مالی ، اقتصادی، انفرادی، اجتماعی اورجنگی تعاون کا یقین دلاتے ہوئے خود بھی میدان میں آگئی …یہودی لابی اپنی فطری خباثتوں،منصوبہ بند سازشوں اور خاموش حکمت عملی سے ہر قسم کے کام لیتی اورنکالتی رہی …عیسائی لابی جسے صرف دولت اورظاہری قوت پر یقین ہے وہ کھلونا بنی رہی … دنیا کے طول وعرض میں یہودی لابی عیسائیت کے ذریعہ اپنے مقاصد کی تکمیل اور’’عظیم تر اسرائیل کی تعمیر‘‘میں منظم طریقہ سے لگی رہی …بالآخرعرب کے سینہ میں ’’اسرائیلی خنجر‘‘ پیوست کردیا …لبنان ، مصر،فلسطین اورشام جیسے ممالک کو اپنی بڑی املاک سے ہاتھ دھوناپڑا …برطانیہ اورامریکہ نے عرب کے درمیان عرب ہی کی سرزمین پر اسرائیل کے ناپاک وجود کوتسلیم کرلیا …اس غاصبانہ قبضہ سے عربوں میں اضطراب کی لہر پیدا ہوئی … اسلامی درد اور فکر وتڑپ نے مسلمانوں کویہودی عزائم سے بچنے اور ارض مقدس کوآزاد کرانے پر مجبور کیاتواس ’’غاصب‘‘ نے سینہ زوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض چند گھنٹوں میں مصر کو تہہ وبالا کرڈالا …لبنان اس کے مقابلہ کی تاب نہ لاسکا …شام اورفلسطین شروع ہی سے اس شیطان صفت یہودی لابی کے ظلم وستم کا نشانہ بنتے رہے (اورآج بھی یہ سلسلہ جاری ہے )فلسطین میں جبراً در اندازی، وہاں پر غیر قانونی مکانات کی تعمیر ،عربوں کو ان کے مکانات وجائداد سے بے دخلی اورمجبوراً نقل مکانی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اوریہودی پوری ڈھٹائی کے ساتھ اَرض مقدس پر قابض ہوتے چلے جارہے ہیں… لیکن :

جتنی جتنی ستم یار سے کھاتا ہے شکست

دل جواں اور جواں اور جواں ہوتا ہے

یہودی پہلے پہل ہماری چشم پوشی ،مصلحت اندیشی ،موقع شناسی اورحکمت عملی سے فیضیاب ہوئے …بڑی آہستگی ، خاموشی ، رازداری اورمنصوبہ بندی کے ساتھ ارض مقدس میں عبادت وزیارت یاتجارت اورسیر وسیاحت کے بہانے قابض ہوتے چلے گئے …نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ہمیں ذلت وخواری اورمجبور ی وبے کسی کے ساتھ یا تو وہاں سے ہجرت کرنی پڑی یا یہودیوں کے ظلم وستم کا نشانہ بننا پڑا …یا اپنی غیرت وحمیت کو قربان کرکے بے عزتی وبے غیرتی کا سامنا کرنا پڑا …قبلۂ اول ہمارے سجدوں کو ترس گیا…رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کی سب سے پہلی منزل ہمارے وجود سے خالی ہوتی چلی گئی … صلیبیوں،صلیب پرستوں اورمنکرین مسیح ومحمداپنی منصوبہ بندیوں کے ساتھ ہمیں بے دست وپا کرتے رہے … ہماری عزتیں پامال ہوئیں…عفت وعصمت کے جنازے نکالے گئے …خون مسلم پانی کی طرح بہایا گیا … مسلمانوںپرظلم وستم کے نئے نئے طریقے آزمائے گئے اورتمرد وسرکشی کا سلسلہ جو فلسطین سے چلا تھا پوری دنیا میں پھیل گیا …چیچنیامیں مسلمانوں کا قتل عام …روس میں وحشت وبربریت کی داستانِ دل خراش …کوسومیںبنت حوا کی عزتوں سے کھلواڑ …سربی درندو ں کی کہانی … نائیجریاکی سفاکی اورمسلم کش فسادات …بوسنیا کی تباہی وبربادی … ۷۵؍ہزارسے زائد مسلم لڑکیوں کی آبروریزی ……اقوام متحدہ کی کھلی ہوئی منافقت ……الجزائرمیں اسلام پسندوں کا قلع قمع…اسلامی عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی …برما کے مسلمانوں کی نسل کشی …بلغاریہ میں مسلمانوں کا قتل عام … ۲۰۰؍کے قریب مسجدو ں کی ڈسکو ڈانس کلب میں تبدیلی…۹؍لاکھ مسلمانوں کواپنے اسلامی نام بدلنے پر مجبور کرنا…… یوگو سلاویہ کے اہل ایمان کو قتل کرنا …مساجد کو نذرِ آتش کرنا …انڈونیشیا میں بوسنیاکی کہانی کا دہرانا…۲۵؍ہزار مسلمانوں کا قتل …فلپائن ، البانیہ ، عراق ،افغانستان ، سوڈان ،صومالیہ ،یوگنڈا ،کمبوڈیا، کموچیا، اوگادین اور لائبیریاکے مسلمانوں کی تباہی وبربادی کے بعد یہ ظالم اورناپاک خونی پنجے ،ایران اورشام کی طرف بڑھ رہے ہیں :

دریائے سکون وراحت میں طوفان ہزاروں آئیں گے

ہستی کے مسرت خانوں پر تیغوں کے الم لہرائیں گے

ماں باپ کی آنکھوں کے آگے اولاد کے سر کٹ جائیں گے

اَرباب وطن کے سینوں میںدل لرزیں گے تھرائیں گے

ان مشکلات وپریشانیوں کا ازالہ اور ناگفتہ بہ مراحل ومسائل سے نپٹنے کا حل پیش کرنے سے ہمارے قائدین ورہبران قوم عاجز وقاصر نظر آتے ہیں ،بالخصوص تنظیم اسلامی کانفرنس کے سربراہوں کی خاموشی صرف اس بات کاپتہ دیتی ہے :

کتاب کفر در بغل خدا کا نام برزباں

یہ زہد ہے تو الحذر یہ دین ہے تو الاماں

دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں :

طوفاں ہیں کہ ٹوٹے پڑتے ہیں کشتی ہے کہ ڈوبی جاتی ہے

محروم عمل ملاحوں میں طاقت ہے نہ بل ہمت ہے نہ دم

اگرہم دست و بازو پر انحصار کے بجائے کشتی کے چپو پرقانع ہوجائیں اگر اپنی دنیا آ پ پیدا کرنے کے بجائے اغیار کے در پر سر تسلیم خم کرنے لگیں ،اگر قوت ارادی کو کام میں نہ لاکر مصلحت پسندی کا مظاہر ہ کرنے لگیں ،اگر اپنی غیرت وحمیت اورعفت وعصمت کی پامالی کو دوسروں کے سر منڈھنے لگیں ،زبان کو بولنے ، ہاتھوں کو ہلانے اورپیروں کو چلنے پر تیار نہ کرسکیں تو اسلام کی سربلندی ،ایمان کی باد بہاری ،دین وشریعت کے عروج وارتقاء کی ضمانت کیونکر دی جاسکتی ہے ؟ 

عروج سے بہرہ ور نہ ہوگی کبھی حیات منافقانہ

زباں پہ اسلام کا وظیفہ مگر خیالات کافرانہ

اسلامی ممالک کے مصلحت اندیش سربراہان قوم …تنظیم اسلامی کانفرنس کے بے زبان قائدین … قدرتی وسائل پر ناگ بن کر بیٹھنے والے زعماء ملت …سب کو اس بات کا فکر ہے کہ’’ صاحب بہادر امریکہ‘‘ ہم سے ناراض نہ ہوجائے …عراق اورکویت جنگ کی آڑ میں بیشتر عرب ممالک میں امریکی افواج کا تسلط … عراق میں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کوداخلے کی کھلی اجازت …افغانستان می ںشمالی اتحاد کے ذریعہ طالبان حکومت کے درمیان خانہ جنگی اورشمالی اتحاد کی ہر ممکن مدد…محض ایک امریکی جھڑکی پر لیبیا کا اپنا ایٹمی فارمولہ ہوائی جہاز میں بھر کر امریکہ بھیج دینا … عربوں کا امریکی افواج پر اعتماد کرلینا اور ڈالروں میں ان کامکمل صرفہ برداشت کرنا … پاکستان کا متزلزل رویہ اورایران کااقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے لئے سہولتوں کا فراہم کرنا … یہ اوراس قسم کی سینکڑوں مجرمانہ غلطیاں … ہمارے مسلم قائدین …موقع بہ موقع… کرتے چلے آئے ہیں چنانچہ جنگل کی آگ کے مانندیکے بعد دیگرے اپنی غلطیوں کاخمیازہ بھگتنے کا سلسلہ ہنوزجاری ہے ۔

انفرادی طاقت کوئی معنی نہیں رکھتی …اجتماعیت ہی اس مشکل کا کامیاب حل ہے …اگر جملہ اسلامی ممالک متحد ہوکراس صہیونی سیلاب کوروکیں تو کامیاب ہوسکتے ہیں …لیکن بڑا المیہ یہ ہے کہ اگر ایک میدان میں کودنے کی سوچتا ہے تو خود ہمارے درمیان موجود اسرائیلی اوریہودی ایجنٹ اس کی اطلاع پیشگی پہنچاچکے ہوتے ہیں … اسرائیل فلسطین جنگ …اسرائیل لبنان جنگ …اسرائیل شام جنگ اوراسرائیل مصر جنگ میںیہی ہوا ہے اور آج بھی مسلمانوں کے اہم اداروں اورفعال ومتحرک تنظیموں میں ںیہودیوں کے ایجنٹ ہر جگہ موجود ہیں۔فیاأسفا 

گل چینوں کا شکوہ بے جا، صیادوں کا ذکر فضول

میرے چمن کے مالی عامرؔ صیدِ نفاق باہم ہیں

بالفاظ دیگر 

بہت ستم زدہ ہوں میں خود اپنے برگ وبار سے

حقیقتاً حریف ہیں نہ بجلیاں نہ آندھیاں

اگر ہم اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کی تمنا رکھتے ہیں، اگر ہم گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی کو بہتر سمجھتے اور جینا چاہتے ہیں تو ہمیں باہمی نفاق ،اندرونی کدورتوں ،ذاتی رنجشوں اوررقابتوںکی خلیج کو پاٹنا ہوگا :

بڑھنا ہے اگر اس میداں میں ہر غم کو بھلا کر آگے بڑھ

ایمان ویقیں کو قسمت کی تحریر بناکر آگے بڑھ

آہنگ نفس سے غلغلۂ تکبیر اٹھاکر آگے بڑھ

اپنے ہی دھڑکتے سینہ پر ایک زخم لگاکر آگے بڑھ

وہ نعرہ لگاتو میداں میں شیروں کے بھی سینے پھٹ جائیں

ہرجنبش چشم ابروسے شیطان کے لشکر کٹ جائیں

1 thought on “محروم عمل ملاحوں میں طاقت ہے نہ بل ہمت ہے نہ دم”

  1. جزاک اللہ خیرا آپ میرے مضامین سیل رواں میں شائع کرتے ہیں بڑی خوشی ہوئی۔شکرگزار ہوں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: