کانگریس کا شرم ناک رویہّ!
کانگریس کا شرم ناک رویہّ!

✍️شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز) ___________________ لوک سبھا کے انتخابات میں اپنی ’بہترکامیابی‘ کے بعد کانگریس نے ایک اور ’ تیر مارلیا ہے ‘۔ کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے مودی حکومت کی ایک مہینے کی کارکردگی پر رپورٹ کارڈ پیش کیا ہے ، جس میں مرکزی سرکار کوآڑے ہاتھوں لیا ہے ۔ یہ […]

کانگریس کا شرم ناک رویہّ!
غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!
غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!

✍️ جاوید اختر بھارتی محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی _____________ دینی ، سیاسی ، سماجی اور تعلیمی مضامین اکثر و بیشتر لکھا جاتاہے اور چھوٹے بڑے سبھی قلمکار لکھتے رہتے ہیں مگر ضروری ہے کہ کچھ ایسے موضوع بھی سامنے آئیں جو حقائق پر مبنی ہوں یعنی آپ بیتی ہوں مرنے کے بعد تو […]

غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!
جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں
جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں

✍️ محمد شہباز عالم مصباحی ____________ جمہوریت کا مفہوم ہی اس بات پر منحصر ہے کہ عوامی رائے کو فیصلہ سازی میں اولیت دی جائے اور ہر شہری کو یکساں حقوق اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ سیکولرزم، جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کو مذہبی معاملات میں […]

جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں
کیجریوال کا قصور
کیجریوال کا قصور

✍️ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ ________________ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی پریشانیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں، نچلی عدالت سے ضمانت ملتی ہے، ہائی کورٹ عمل در آمد پر روک لگا دیتا ہے، سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہیں، اس کے قبل ہی […]

کیجریوال کا قصور
این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول
این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول

✍️ نقی احمد ندوی ________________ اس میں کوئی شک نہیں کہ علماء و فارغینِ مدارس اور طلباء کے اندر قوم و ملت اور ملک کی خدمت کا جو حسین جذبہ پایا جاتا ہے وہ عصری تعلیم گاہوں کے فارغین کے اندر عنقا ہے۔ این جی اوز اور فلاحی ادارے ان کے اس حسین جذبہ استعمال […]

این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول
previous arrow
next arrow
Shadow

خریدو فروخت اور بروکری کی چند صورتیں

از قلم:مفتی محمد لقمان عثمانی قاسمی ازہری 

استاذ مدرسہ مصباح العلوم حیدرآباد

معاشی استحکام ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے کہ موجودہ دور میں معاشی استحکام پر ہی پائیدار ترقی کا راز بھی مضمر ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی سطح پر اس استحکامیت کے حصول کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کرتا اور مختلف ہتھکنڈے اپناتا ہے؛ لیکن شریعتِ مطہرہ نے جہاں دیگر شعبہائے حیات کے لیے اصول مقرر کیے ہیں وہیں معاش اور ذریعۂ معاش کے حوالے سے بھی کچھ حدود و قیود وضع کردیے ہیں جن کا لحاظ کرنا تمام اہلِ اسلام کے لیے لازم و ضروری ہے؛ چناں چہ ارشادِ باری تعالی ہے کہ  ﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ كُلُوا۟ مِمَّا فِی ٱلۡأَرۡضِ حَلٰلا طَیِّبا وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوٰتِ ٱلشَّیۡطَـٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّ مُّبِینٌ﴾ [البقرة ١٦٨] (اے لوگو! تم زمین میں سے صرف وہ چیزیں کھاؤ جو حلال اور پاک ہوں  اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو؛ کیوں کہ وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے)

چناں چہ رزقِ حلال کے تئیں اسلام کی اسی حساسیت کے پیشِ نظر موجودہ دور میں رائج مختلف صورتوں کی شرعی حیثیت معلوم کرنے اور لوگوں کو اس سے واقف کرانے کے لیے مجلسِ فقہی تلنگانہ و آندھرا کی طرف سے ”خرید و فروخت اور بروکری کی چند صورتیں“ کے عنوان پر ایک سوالنامہ موصول ہوا ہے جس کے جوابات پیشِ خدمت ہیں:

۱- کمیشن ایجنٹ کے واسطے سے اشیاء کی فروختگی کا حکم

سوال: کمیشن ایجنٹ کے واسطے سے اشیاء کی فروختگی کا ایک رائج طریقہ یہ ہے کہ مالک اپنے ایجنٹ سے مثلا یوں کہتا ہے کہ ”آپ میری یہ چیز فروخت کردو، ایک لاکھ روپے مجھے دے دو، اس ایک لاکھ پر آپ اپنے ہنر اور صلاحیت سے جتنا زیادہ کمیشن بنانا چاہو بنا سکتے ہو، وہ خالص آپ کا حق ہوگا“ شرعی اعتبار سے اجرت کی یہ شکل آیا درست ہے یا نہیں؟

  جواب: سامان کی فروختگی کی غرض سے بائع و مشتری کے درمیان واسطہ بنانے کے اس عمل کو عربی زبان میں  ”السَمسرۃ“ کہا جاتا ہے اور واسطہ بننے والے کو ”السِّمسار“ کہتے ہیں جس کی جمع ”سَماسرۃ“ آتی ہے؛ المعجم الوسیط میں ہے کہ:

’’سَمْسَر فلان: توسط بين البائع والمشتري بجُعل“ (کمیشن کے عوض میں بائع اور مشتری کے درمیان واسطہ بننا)   السِّمسار: الوسيط بين البائع والمشتري لتسہيل الصفقۃ“ (بائع اور مشتری کے درمیان عقد کو آسان بنانے کے لیے واسطہ بننے والا)

واضح رہے کہ کمیشن ایجنٹ کے ذریعے فروختگی اور اس پر اجرت کا جواز متعدد روایات سے ثابت ہے؛ چناں چہ ابو داود کی ایک روایت ہے کہ:

عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَۃَ، قَالَ: كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلْفُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ (ابوداود، کتاب البیوع، باب فی التجارۃ یخالطہا الحلف واللغو، ج: ۵، ص: ۳۹۷، ط: دارالتاصیل)

(حضرت قیس بن ابی غزرہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دلال (ایجنٹ) کے نام سے جانا جاتا تھا، پھر ایک دن آپ ﷺ کا ہمارے پاس سے گزر ہوا تو آپ ﷺنے ہمیں پہلے کے بالمقابل ایک بہتر نام سے نوازا اور فرمایا کہ ”اے تاجرین کی جماعت! بیع میں بسا اوقات جھوٹ اور قسم کی نوبت آجاتی ہے تو تم صدقے کی آمیزش کرلیا کرو“) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دلالی کا یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مسعود میں بھی ہوا کرتا تھا؛ تاہم آپﷺ نے ان کو منع کرنے کی بجائے نہ صرف یہ کہ ان لوگوں کو ایک بہتر نام دے کر ان کے عمل کی توثیق کردی بلکہ ساتھ ہی صدقہ کرنے کی تلقین بھی فرمائی جس سے اس عمل کا جواز ثابت ہوجاتا ہے-

 اسی طرح بخاری کی ایک روایت ہے:

وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ وَعَطَاءٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَالْحَسَنُ بِأَجْرِ السِّمْسَارِ بَأْسًا (صحیح بخاری،کتاب الاجارۃ، باب اجر السمسرۃ، ج: ۳، ص: ۲۷۰، ط: دارالتاصیل)

ان روایتوں سے معلوم ہوا کہ بنیادی طور پر دلالی کی اجرت جائز ہے، البتہ اس طرح بیع و شراء کی مختلف شکلیں ہوا کرتی ہیں، جمہور نے اجارہ پر قیاس کرتے ہوئے اس کے جواز کے لیے اجرت کے معلوم و متعین ہونے کی شرط لگائی ہے؛ چناں چہ صرف وہی صورتیں جائز ہوں گی جن میں اجرت متعین کرلی جائے، لہذا سوال میں جو صورت بیان کی گئی ہے اس میں اجرت متعین نہیں ہے، بلکہ مطلقا یہ کہا گیا کہ ایک لاکھ کے علاوہ جو بھی ہو وہ تمہارا ہوگا، اب اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ بہت زیادہ نفع ہوجائے اور یہ بھی احتمال ہے کہ مقدارِ متعین پر ہی فروخت ہو اور ایجنٹ کو کچھ بھی فائدہ نہ ہوسکے اور اگر ایسا ہوا تو پھر اجارے کا معنی ہی مفقود ہوجائے گا؛ لہذا جمہور نے جو اجرت کی تعیین کی شرط لگائی ہے اس کی روشنی میں اصولی طور پر یہ شکل جائز نہیں ہوگی، جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی رقم طراز ہیں:

وَهَذِهِ أَجْرُ سَمْسَرَةٍ أَيْضًا لَكِنَّهَا مَجْهُولَةٌ، وَلِذَلِكَ لَمْ يُجِزْهَا الْجُمْهُورُ وَقَالُوا: إِنْ بَاعَ لَهُ عَلَى ذَلِكَ فَلَهُ أَجْرُ مِثْلِهِ، وَحَمَلَ بَعْضُهُمْ إِجَازَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى أَنَّهُ أَجْرَاهُ مَجْرَى الْمُقَارِضِ، وَبِذَلِكَ أَجَابَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ (فتح الباری، ج: ۷، ص: ۴۳، ط: دار طیبہ)

یعنی اس طرح بیع کرنا اجرت کے مجہول ہونے کی وجہ سے جمہور کے نزدیک جائز نہیں ہے البتہ احمد اور اسحاق نے اس کو مضاربت پر قیاس کرتے ہوئے جائز قرار دیا ہے اور دلیل میں انہوں نے حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی روایت پیش کی ہے؛ چناں چہ بخاری کی ہی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے بقول اس صورت میں کوئی مضائقہ نہیں ہے:

وقالَ ابنُ عَبَّاسٍ: لَا بَأسَ أنْ يَقولَ بِعْ هذَا الثَّوْبَ فَما زَاد علَى كذَا وكَذَا فَهُوَ لَكَ (صحیح بخاری، کتاب الاجارۃ، باب اجر السمسرۃ، ج:۳، ص:۲۷۰، ط: دارالتاصیل)

حنابلہ نے بھی اسی روایت سے استدلال کرتے ہوئے اس کو جائز قرار دیا ہے جیسا کہ علامہ ابن قدامہ فرماتے ہیں:

إذَا دَفَعَ إلَى رَجُلٍ ثَوْبًا، وَقَالَ: بِعْهُ بِكَذَا، فَمَا ازْدَدْت فَهُوَ لَك. صَحَّ…… وَلَنَا مَا رَوَى عَطَاءٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُعْطِيَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ الثَّوْبَ أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ، فَيَقُولَ: بِعْهُ بِكَذَا وَكَذَا، فَمَا ازْدَدْت فَهُوَ لَك ……… فَإِنْ بَاعَهُ بِزِيَادَةٍ، فَهِيَ لَهُ؛ لِأَنَّهُ جَعَلَهَا أُجْرَةً، وَإِنْ بَاعَهُ بِالْقَدْرِ الْمُسَمَّى مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ، فَلَا شَيْءَ لَهُ؛ لِأَنَّهُ جَعَلَ لَهُ الزِّيَادَةَ، وَلَا زِيَادَةَ هَاهُنَا، فَهُوَ كَالْمُضَارِبِ إذَا لَمْ يَرْبَحْ. (المغنی، ج: ۸، ص: ۷۱، ط: دار عالم الکتب ریاض)

یعنی سوال میں ذکر کردہ صورت کے ساتھ عقد کرنا درست ہے، اس کی شکل یہ ہوگی کہ اگر سامان ایک لاکھ سے زائد میں فروخت ہوجائے تو ایک لاکھ روپے مالکِ سامان کو مل جائیں گے اور اس زیادتی پر ایجنٹ کا حق ہوگا اور شرط کے مطابق یہی اس کی اجرت شمار کی جائے گی؛ لیکن اگر سامان ایک لاکھ میں ہی فروخت ہوا تو پھر اس کو اجرت سے محروم رکھا جائے گا؛ کیوں کہ جس زیادتی کو اس کے لیے اجرت مقرر کیا گیا تھا وہ حاصل نہیں ہوسکی؛ گویا کہ یہ مضاربت کی شکل ہوگئی جس میں بسا اوقات مضارب کو نفع نہیں ہوپاتا ۔

غرضیکہ یہ ایک مختلف فیہ صورت ہے اور جس صورت کے جواز و عدمِ جواز میں اختلاف ہوجائے اس میں تخفیف پیدا ہوجاتی ہے، نیز اس مسئلے کو مذکورہ بالا اختلافات و دلائل کے علاوہ اس حوالے سے عرف کو بھی پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے؛ چناں چہ اگر عرف میں اس کا رواج عام ہو اور یہ معاملہ نزاع کا سبب نہ بنتا ہو تو پھر اس بنیاد پر بھی اس صورت کو جائز قرار دیا جائے گا؛ البتہ بہتر یہی ہے کہ اس طرح کا معاملہ کرنے سے گریز کیا جائے اور تعیینِ اجرت کے لیے کم از کم فیصدی والی شکل اپنائی جائے تاکہ معاملہ جمہور کی شرائط کے مطابق اصولی طور پر بھی درست ہوجائے ۔

۲- زمین کو قبضہ سے قبل نفع کے ساتھ فروخت کرنے کا حکم

سوال  (۲/ الف): زمینات اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے مربوط افراد عموما یہ کرتے ہیں کہ زمین کے اصل مالک سے زمین کی خرید و فروخت کا معاملہ اور قیمت کا تعین اور ادائیگی کی مدت طے کرکے بیعانہ کے طور پر قیمت کا مثلا دس فیصد حصہ دے دیتے ہیں اور حسبِ معاہدہ باقی رقم کی ادائیگی کے لیے مہلت لے لیتے ہیں، زمین کا مالک خریدار کے نام پر رجسٹری تو عام طور پر مکمل قیمت وصول ہونے کے بعد ہی کرتا ہے لیکن سودا مکمل ہونے اور بیعانہ کی رقم لینے کے بعد خریدار کو زمین میں تصرف کا حق دے دیتا ہے اور عام نوٹری بنا کر اس کے حوالے کردیتا ہے، خریدار اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر زمین کو کسی اور سے بیعانہ لے کر نفع کے ساتھ فروخت کردیتا ہے اور باقی قیمت کی ادائیگی کے لیے پہلے معاملے کی تاریخ سے کچھ پہلے کی تاریخ طے کرتا ہے، اس طرح اپنی تاریخ آنے سے پہلے ہی نیچے والے سے بقیہ رقم حاصل کرلیتا ہے اور اپنا نفع نکال کر بقیہ ثمن مقررہ تاریخ پر بائعِ اول کے سپرد کردیتا ہے، بسا اوقات یہ سلسلہ نیچے کئی افراد تک چلا جاتا ہے، شرعی اعتبار سے خرید و فروخت کی یہ شکل درست ہے یا نہیں؟

جواب: زمین ایک غیر منقولی چیز ہے اور غیر منقولی اشیاء میں ایجاب و قبول کے ذریعے عقد کو لازم کرلینے کے بعد مکمل ثمن کی ادائیگی اور قبضے سے قبل دوسری جگہ فروخت کرنا شرعا جائز ہے:

ويجوز بيع العقار قبل القبض عند أبي حنيفة وأبي يوسف …… ولهما أن ركن البيع صدر من أهله في محله، ولا غرر فيه؛ لأن الهلاك في العقار نادر، بخلاف المنقول (الہدایہ، کتاب البیوع، باب المرابحۃ التولیۃ، ج:۵، ص: ۱۶۹، ط: ادارۃ القرن والعلوم الاسلامیہ پاکستان)

یعنی زمین کو قبضہ سے پہلے فروخت کرنا حضراتِ شیخین کے نزدیک جائز ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ عاقدین کے مابین ایجاب و قبول ہوچکا اور زمین جیسی غیر منقولی چیزوں میں ہلاکت و فریب کا اندیشہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے بر خلاف منقولی چیزوں کے، اور شریعت نے بیع قبل القبض سے منع بھی اسی علت کے پیشِ نظر کیا ہے؛ لہذا زمین کو قبضہ سے قبل فروخت کرنا جائز ہوگا ۔

اسی طرح شیخ سلیم رستم باز اللبنانی تحریر فرماتے ہیں:

للمشتري أن يبيع المبيع من آخر قبل قبضه إن كان عقارا، وإن كان منقولا فلا۔(شرح المجلہ، ص: ۱۲۸، المادہ: ۲۵۳)

کہ مشتری کو حق ہے کہ مبیع اگر غیر منقولی ہو تو اس کو قبضہ سے قبل فروخت کردے لیکن اگر وہ منقولی چیز ہو تو پھر اس کی اجازت نہیں ـ

غرضیکہ سوال میں ذکر کردہ صورت شرعا جائز ہے اور اس سے حاصل شدہ منافع بھی حلال ہے نیز اگر یہ سلسلہ کئی افراد تک بھی چلا جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ ایجاب و قبول کرلینے کے بعد مشتری زمین کا مالک بن جاتا ہے؛ گویا کہ ہر مشتری زمین کا مالک بننے کے بعد اس کو دوسری جگہ فروخت کرکے اپنی ملکیت منتقل کررہا ہے جو شرعا جائز ہے اور باقی ماندہ ثمن مشتری کے اوپر قرض رہے گا جو حسبِ وعدہ ادا کرنے کا وہ پابند ہوگا ۔

سوال (۲/ب): بسا اوقات مالک زمین کی نوٹری بنا کر خریدار کے حوالے کردیتا ہے لیکن تصرف کرنے کا حق صراحتا نہیں دیتا ہے؛ یعنی فریقین اس سلسلے میں خاموش رہتے ہیں البتہ بسا اوقات مالکِ زمین ایک مقررہ مدت میں بقیہ رقم وصول نہ ہونے پر سودا خود بہ خود کینسل ہوجانے کی شرط لگا دیتا ہے تو کیا اس صورت میں بھی خریدار زمین میں تصرف کر سکتا ہے؟

جواب: اس سوال میں دو جزئیات ہیں؛ پہلا جزئیہ یہ ہے کہ اگر بائع نے مشتری کو صراحتا تصرف کی اجازت دینے کی بجائے خاموشی اختیار کی تو پھر مشتری کے لیے اس زمین کو آگے فروخت کرنا درست ہے یا نہیں؟ تو واضح رہے کہ جب بائع اور مشتری کے مابین ایجاب و قبول ہوجائے تو پھر عقد لازم ہوجاتا ہے:

إذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع (الہدایہ، کتاب البیوع: ج:۵، ص:۷)

اور جب عقد لازم ہوجائے تو پھر سابقہ دلائل کی بنیاد پر زمین جیسی غیر منقولی اشیا کو دوسری جگہ فروخت کرنا جائز ہے خواہ بائعِ اول صراحتا اس کی اجازت دے یا نہ دے؛ البتہ واضح رہے کہ مکمل ثمن کی ادائیگی اور بائع کی اجازت کے بغیر قبضے سے پہلے زمین کو دوسری جگہ بیچنا جائز تو ہے لیکن اس کا نفاذ بائعِ اول کے اختیار میں ہوگا؛ چناں چہ اگر بائع مکمل ثمن کی ادائیگی سے قبل دوسری جگہ کی گئی بیع کو فسخ کرنا چاہے تو اس حوالے سے وہ با اختیار ہوگا:

وَعَبَّرَ بِالصِّحَّةِ دُونَ النَّفَاذِ وَاللُّزُومِ؛ لِأَنَّهُمَا مَوْقُوفَانِ عَلَى نَقْدِ الثَّمَنِ أَوْ رِضَا الْبَائِعِ (رد المحتار، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، ج: ۷، ص: ۳۶۹، ط: دار عالم الکتب ریاض)

یعنی ماتن نے زمین کے سلسلے میں بیع قبل القبض کے صحیح ہونے کی بات کہی ہے ناکہ اس کے نفاذ کی؛ کیوں کہ بیع کا نفاذ و لزوم ثمن کی ادائیگی یا پھر بائع کی رضامندی پر موقوف ہے ـ

اسی طرح شرح المجلہ میں ہے کہ:

لو باع المشتري العقار قبل قبضه أو بعد قبضه الواقع بغير إذن البائع وقبل نقد ثمنه كان البيع غير نافذ بحق البائع، فله إبطاله لأن قبض المبيع بدون إذنه قبل نقد الثمن غير معتبر. (شرح المجلہ لرستم باز، ص: ۱۲۸، المادہ: ۲۵۳)

یعنی اگر مشتری نے زمین پر قبضہ سے پہلے یا پھر بائع کی اجازت کے بغیر قبضہ کرکے زمین فروخت کردی دراں حالیکہ اس نے مکمل قیمت ادا نہیں کی تھی تو پھر بیع کا نفاذ بائعِ اول کے اختیار میں ہوگا؛ کیوں کہ اس نے ثمن ادا کیے بنا بائع کی رضامندی کے بغیر قبضہ کرکے زمین فروخت کی ہے جو غیر معتبر ہے ـ

 نیز جس طرح بیع کا نفاذ اس وقت تک معلق رہے گا جب تک کہ مشتری مکمل ثمن نہ ادا کردے یا پھر بائع کی طرف سے قبضے کی اجازت نہ حاصل ہوجائے اسی طرح اگر مشتری نے قبضے کے بغیر دیگر کسی بھی طرح کا تصرف کرلیا تب بھی بائع کو نقضِ تصرف کا اختیار ہوگا:

وَكَذَا كُلُّ تَصَرُّفٍ يَقْبَلُ النَّقْضَ إذَا فَعَلَهُ الْمُشْتَرِي قَبْلَ الْقَبْضِ، أَوْ بَعْدَهُ بِغَيْرِ إذْنِ الْبَائِعِ فَلِلْبَائِعِ إبْطَالُهُ ……. لِأَنَّ قَبْضَ الْمَبِيعِ قَبْلَ نَقْدِ الثَّمَنِ بِلَا إذْنِ الْبَائِعِ غَيْرُ مُعْتَبَرٍ؛ لِأَنَّ لَهُ اسْتِرْدَادَهُ وَحَبْسَهُ إلَى قَبْضِ الثَّمَنِ. (رد المحتار، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، ج: ۷، ص: ۳۶۹)

یعنی جب مشتری نے قبضے سے قبل یا بائع کی اجازت کے بغیر کوئی قابلِ نقض تصرف کرلیا تو بائع کو اس کے ابطال کا حق ہوگا؛ کیوں کہ ثمن کی ادائیگی اور بائع کی اجازت کے بغیر مبیع پر قبضہ کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے اسی لیے بائع کو اختیار ہوگا کہ یا تو تصرف کو رد کردے یا پھر ثمن کی ادائیگی تک اس کو معلق رکھے ۔ اسی طرح صاحبِ شرح المجلہ رقم طراز ہیں:

وكما يجوز بيع العقار قبل قبضه يجوز أيضا التصرف فيه بالرهن والهبة…. غير أن التصرفات المذكورة وإن كانت جائزة إلا أنها لا تكون لازمة ونافذة إلا بدفع الثمن للبائع أو إجازته لها. (شرح المجلہ لرستم باز، ص: ۱۲۸، المادہ: ۲۵۳)

یعنی زمین کو قبضہ سے قبل بیچنا اور اسی طرح سے رہن یا ہبہ وغیرہ کرنا بھی جائز ہے البتہ یہ تمام تر تصرفات بائع کی اجازت یا پھر مکمل ثمن کی ادائیگی کے بغیر نافذ العمل نہیں ہوں گے ـ 

دوسرا جزئیہ خیارِ نقد کی شرط لگانے کے حوالے سے ہے؛ چناں چہ اگر بائع نے متعینہ مدت کے اندر ثمن ادا نہ کرنے کی صورت میں بیع کے فسخ ہوجانے کی شرط لگا دی تو اس صورت میں مشتری پر وقت مقررہ کے اندر ثمن کی ادائیگی لازم ہوتی ہے ورنہ بیع فاسد ہوجائے گی:

إذَا لَمْ يُؤَدِّ الْمُشْتَرِي الثَّمَنَ فِي الْمُدَّةِ الْمُعَيَّنَةِ كَانَ الْبَيْعُ الَّذِي فِيهِ خِيَارُ النَّقْدِ فَاسِدًا. (درر الحکام: ج: ۱، ص: ۳۱۰، المادہ: ۳۱۴)

 اور بیع فاسد کو فسخ کرنا ضروری ہوتا ہے؛ البتہ اگر مشتری نے اس زمین کو دوسری جگہ فروخت کردیا تو اس کی تین ممکنہ شکلیں بن سکتی ہیں:

۱؎  : اگر مشتری نے بائع کی اجازت سے زمین پر قبضہ کرکے ثمن کی ادائیگی کے لیے مقرر کردہ وقت کے اندر ہی زمین دوسری جگہ فروخت کردی تو پھر یہ بیع لازم ہوجائے گی اور مشتری پر ثمن کی ادائیگی واجب ہوگی:

فَإِذَا لَمْ يَبْقَ عَلَى حَالِهِ وَتَصَرَّفَ فِيهِ الْمُشْتَرِي فِي الْمُدَّةِ الْمُعَيَّنَةِ قَبْلَ نَقْدِ الثَّمَنِ أَوْ تَلِفَ فِي يَدِهِ أَوْ اسْتَهْلَكَهُ فَالْبَيْعُ يَصِيرُ لَازِمًا وَلَا يَبْقَى حَقُّ الْفَسْخِ فَلِذَلِكَ يَجِبُ عَلَى الْمُشْتَرِي أَنْ يُؤَدِّيَ ثَمَنَ الْمَبِيعِ إلَى الْبَائِعِ  .  (درر الحکام: ج: ۱، ص: ۳۱۰، المادہ: ۳۱۴)

۲؎  : اگر مقرر کردہ وقت کے بعد فروخت کی تو دوسری بیع بھی نافذ تو ہوجائے گی لیکن بیعِ اول چوں کہ خیارِ نقد کی وجہ سے مقررہ وقت میں مکمل ثمن ادا نہ کرنے کی بنیاد پر پہلے ہی فاسد ہوچکی ہے اس لیے بیعِ فاسد کے بعد زمین میں تصرف کرنے کی وجہ سے مشتری پر بائعِ اول کو ثمن کی بجائے بطورِ ضمان زمین کا بدل ادا کرنا ہوگا:

وَإِذَا كَانَ الْمَبِيعُ فِي يَدِ الْمُشْتَرِي وَبَاعَهُ بَعْدَ مُرُورِ الْمُدَّةِ أَوْ وَهَبَهُ وَسَلَّمَهُ آخَرَ كَانَ تَصَرُّفُهُ نَافِذًا وَيَضْمَنُ الْمُشْتَرِي بَدَلَهُ إلَى الْبَائِعِ. (درر الحکام: ج: ۱، ص: ۳۱۰، المادہ: ۳۱۴)

۳؎  : لیکن اگر مشتری نے قبضہ حاصل کیے بغیر ہی زمین فروخت کردی تھی تو پھر یہ دوسری بیع نافذ نہیں ہوگی اور اس وقت تک معلق رہے گی جب تک کہ مشتریِ اول متعینہ مدت کے اندر ثمن ادا کرکے عقدِ اول مکمل نہ کرلے:

أَمَّا إذَا لَمْ يَكُنْ الْمَبِيعُ فِي قَبْضَتِهِ فَتَصَرُّفُهُ لَا يَكُونُ نَافِذًا . (درر الحکام: ج: ۱، ص: ۳۱۰، المادہ: ۳۱۴)

گویا کہ خیارِ نقد کی شرط کے باوجود وہ زمین پر قبضہ کرکے دوسری جگہ فروخت کرسکتا ہے کیوں کہ معاملہ طے کرلینے کے بعد ملکیت بہر حال اس کو حاصل ہوچکی ہے؛ البتہ ضروری ہے کہ ثمن کی ادائیگی کے لیے جو مدت متعین ہوئی تھی اس کے اندر ہی فروخت کرے، ورنہ اگر مدت ختم ہوگئی تب بھی بیع نافذ تو ہوجائے گی لیکن چوں کہ مدت ختم ہوجانے کے بعد بیع فاسد ہوجاتی ہے لہذا اب ثمن کی بجائے ضمان ادا کرنا لازم ہوگا کیوں کہ بیع فاسد کو فسخ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا؛ تاہم سوال میں ذکر کردہ صورت میں چوں کہ تصرف کی اجازت صراحتا نہیں دی گئی تھی اور ساتھ ہی خیارِ نقد کی شرط بھی لگا دی گئی تھی تو اس صورت میں زمین کو آگے فروخت کرنا جائز تو ہوگا لیکن فروختگی کا نفاذ بائعِ اول کی طرف سے اجازتِ تصرف یا پھر وقتِ مقررہ کے اندر ادائیگیِ ثمن کے ذریعے ملکیتِ تامہ کے حصول پر موقوف رہے گا ۔

سوال (۲/ج):  اگر زمین کی قیمت ادھار ہو، بائع نے ادائیگیِ ثمن کا وقت مقرر کردیا ہو لیکن ادائیگیِ ثمن میں تاخیر پر معاملہ کینسل ہونے کی شرط نہ لگائی ہو اور مشتری وقتِ مقررہ آنے کے باوجود ٹال مٹول کررہا ہو تو کیا بائع یک طرفہ طور پر سودا کینسل کر سکتا ہے یا فریقین کی رضامندی ضروری ہے؟ اگر فریقین کی رضامندی ضروری ہو اور مشتری سودا کینسل کرنے پر آمادہ نہ ہو تو بائع اپنا حق کس طرح وصول کرے گا؟

جواب: جب بائع اور مشتری نے ایجاب و قبول کے ذریعے معاملہ طے کرلیا اور کسی طرح کے خیار کی شرط بھی نہیں لگائی تھی تو پھر یک طرفہ طور پر معاملہ فسخ نہیں کیا جا سکتا:

وَإِذَا حَصَلَ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ لَزِمَ الْبَيْعُ وَلَا خِيَارَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا إلَّا مِنْ عَيْبٍ أَوْ عَدَمِ رُؤْيَةٍ. (الہدایہ، کتاب البیوع، ج: ۵، ص: ۷)

البتہ اگر مشتری مقررہ مدت کے بعد بھی ثمن کی ادائیگی میں ٹال مٹول کررہا ہے تو گویا کہ وہ وعدہ خلافی کررہا ہے لہذا وہ گنہگار ہوگا نیز اپنی اپنی صورتِ حال کے پیشِ نظر اس کے خلاف بائع جو بھی ممکنہ اقدام کر سکتا ہو وہ کرکے ثمن کی ادائیگی کے لیے مشتری کو مجبور کرے گا یا پھر مشتری کو اقالہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا؛ البتہ اگر ہر طرح کی کوششوں کے بعد بھی ثمن کی وصول یابی سے نا امید ہوجائے تو ایسی صورت میں بائع کو ضرر سے بچانے کے لیے یک طرفہ طور پر معاملے کو فسخ کرنے کا اختیار ہوگا ۔

۳ – پرنٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر سامان فروخت کرنے کا حکم

سوال: چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے تاجرین جب بڑی کمپنیوں سے مال لیتے ہیں تو بسا اوقات ان کو ہدایت ہوتی ہے کہ وہ پرنٹ ریٹ سے زیادہ پر فروخت نہ کریں یا پرنٹ ریٹ پر اتنی مقدار میں لازما ڈسکاؤنٹ دیں؛ مگر تاجرین زیادہ منافع کمانے کے چکر میں اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اسی طرح کمپنی کی طرف سے کبھی کسی خاص پروڈکٹ کے ساتھ کوئی گفٹ ہوتا ہے اور کمپنی تاجر کو صراحتا یا دلالتا کہتی ہے کہ گاہک کو اس پروڈکٹ کے ساتھ گفٹ بھی دیا جائے مگر بسا اوقات تاجر اور دکان دار ان دونوں کو الگ الگ کرکے گاہک کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں اور دونوں پر نفع کماتے ہیں، شرعی اعتبار سے تاجر اور دکان دار کا یہ عمل درست ہے یا نہیں؟ اس طریقے پر اگر کوئی نفع کمائے تو آیا یہ آمدنی کو حرام کہا جائے گا؟

جواب: جب دکان دار نے کمپنی کا کوئی سامان خرید لیا تو اب اس سامان پر دکان دار کو ملکیت حاصل ہوگئی اور اپنی ملکیت کو فروخت کرنے میں دکان دار خود مختار ہوتا ہے کہ جس قیمت پر بھی وہ چاہے بیچ سکتا ہے بشرطیکہ وہ گاہک کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی غرض سے ایسا نہ کررہا ہو، نیز شریعت کی طرف سے سامان کی فروختگی میں منافع کی کوئی حد بھی مقرر نہیں ہے جس کا لحاظ کرنا ضروری ہو؛ چناں چہ اس طرح سامان کو پرنٹ ریٹ سے زیادہ پر فروخت کرنا یا پھر سامان اور گفٹ کو الگ الگ بیچنا بھی جائز ہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ اس کا یہ عمل خلافِ مروت ہے:

وللبائع أن يبيع بضاعته بما شاء من ثمن (بحوث فی قضایا فقہیہ معاصرہ از علامہ تقی عثمانی، ج: ۱، ص: ۱۳، ط: دارالقلم دمشق)

البتہ اگر دکان دار سامان خرید کر بیچنے کی بجائے کمپنی کی طرف سے بہ حیثیتِ وکیل سامان فروخت کررہا ہو تو پھر کمپنی کی ہدایت پر عمل کرنا اس کے لیے واجب و ضروری ہے؛ کیوں کہ وکیل خود اس سامان کا مالک نہیں ہوتا بلکہ وہ  صرف اپنے مؤکل کی طرف سے دیے گئے سامان کو فروخت کرنے پر مامور ہوتا ہے؛ چناں چہ جب مؤکل نے متعین کردیا کہ ہر حال میں پرنٹ ریٹ پر ہی فروخت کرنا ہے تو اب وکیل کے لیے اس سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا درست نہیں اور اگر اس نے زیادہ پر فروخت کر بھی دیا تو اس زیادتی پر مؤکل کا حق ہوگا کیوں کہ وہی سامان کا مالک ہے ۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: