سیل رواں ڈیسک
امریکہ کے محکمۂ انصاف کی جانب سے بدنام زمانہ مجرم جیفری اپسٹین سے متعلق فائلز جاری ہونے کے بعد دنیا بھر میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں سنگین ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ان دستاویزات میں طاقتور شخصیات کے نام، ای میلز، ملاقاتوں اور مالی تعلقات کے حوالے سے معلومات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد متعدد ممالک میں اہم حکومتی اور سرکاری عہدوں پر بیٹھے افراد کو استعفا دینا پڑا ہے۔
برطانیہ: وزیر اعظم کے چیف آف اسٹاف کا استعفیٰ
برطانیہ میں وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن میک سوئنی نے استعفا دے دیا ہے۔ اُن پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق وزیر اور لیبر پارٹی رہنما پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے کی مشورہ دیا تھا، حالانکہ فائلز میں مینڈلسن کے ایپ اسٹین سے تعلقات کی تفصیلات سامنے آئی تھیں۔ اسٹاف چیف نے خود اس فیصلے کی ذمہ داری قبول کی۔
ناروے: سینئر سفارت کار کا عہدہ چھوڑا
ناروے میں مؤنا جُول، جو ملک کی معروف سفارت کار اور سابق وزیر رہ چکی ہیں، نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ناروے کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایپ اسٹین فائلز میں ان کے نام سے متعلق معلومات سامنے آنے کے بعد مزید سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
فرانس: معروف سیاسی رہنما کا استعفیٰ
فرانس میں ثقافتی حلقوں میں نمایاں شخصیت اور سابق وزیر جیک لینگ نے اپسٹین سے مبینہ مالی تعلقات کے انکشاف کے بعد پیرس میں واقع عرب ورلڈ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے خلاف فرانسیسی مالی پراسیکیوٹرز، ٹیکس فراڈ اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ لینگ نے الزامات کی تردید کی ہے لیکن ادارے کے مفاد میں استعفیٰ دیا۔
یورپ بھر میں مزید ردِ عمل
تازہ انکشافات کے بعد یورپ کے دیگر ممالک میں بھی سیاسی دباؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ مختلف ممالک کے اعلیٰ حکومتی مشیروں اور سفارتی عہدوں پر فائز افراد نے مبینہ ای میلز اور فائلز سامنے آنے کے بعد اپنے عہدوں سے علیحدگی اختیار کی یا استعفے دینے کے بارے میں غور شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر سیاسی بحث چھڑ چکی ہے۔
اپسٹین فائلز کیا ہیں؟
ایپ اسٹین فائلز امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات ہیں، جن میں جیفری ایپ اسٹین کے رابطوں، ای میلز اور مالی تعاملات کی تفصیلات شامل ہیں۔ ایپ اسٹین 2019 میں جیل میں انتقال کر گیا تھا، لیکن اس کے معاملات سے جڑے کئی نام عوام کے سامنے آئے ہیں، جن میں سیاسی شخصیات، کاروباری رہنما اور سفارتی اہلکار شامل ہیں۔
ماہرین کا تجزیہ
تجزیہ کاروں کے مطابق ان دستاویزات کا اثر ہر ملک میں مختلف سطح پر پڑ رہا ہے۔ جہاں کچھ نے براہِ راست تعلقات کی وجہ سے استعفیٰ دیا، وہیں دیگر نے محض سیاسی دباؤ اور عوامی رائے کی وجہ سے عہدہ چھوڑا۔ ابھی تک کسی بھی ملک کے سرکاری سربراہ نے اپنی اعلیٰ سیاسی پوزیشن نہیں چھوڑی، مگر سیاسی اور عوامی دباؤ میں اضافہ جاری ہے۔