جیفری اپسٹین فائل کی حقیقت ( 3 )

از:- محمد عمر فراہی

غزہ میں اسرائیل کی کھلی جارحیت پر دنیا کے حکمرانوں کی خاموشی نے تو پہلے ہی مغرب کی جمہوری تہذیب اور عالمی استعماری طاقتوں کی ذہنیت کو بے نقاب کر دیا تھا ۔اب اپسٹین فائل کے ذریعے صہیونی مقتدرہ نے خود مغرب کے خونخوار چہرے کو بے نقاب کر کے جو پیغام دینا چاہا ہے اس کا مطلب بالکل صاف ہے جو کویڈ 19 کے فوراً بعد دی اکنامسٹ میگزین نے اپنے کور پیج کی تصویر سے دینے کی کوشش کی تھی ک everything is undeontrol ۔تصویر میں ایک خفیہ ہاتھ ہے اور اس خفیہ ہاتھ کی رسی ایک شخص کی گردن میں بندھی ہے اور منھ پر ماسک اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ شخص ہمارے حکم کے بغیر کچھ بول بھی نہیں سکتا اور یہ دنیا کی بڑی حکومتیں ہیں جس میں سپر پاور طاقتیں بھی شامل ہیں ۔اس کے بعد اس شخص کے ہاتھ کی رسی ایک کتے کے گردن میں بندھی ہوئی تھی جس کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ دنیا کی دوسری اور چھوٹی حکومتوں کے سربراہ ہیں جن کی حیثیت بھی صرف ایک کتے کی ہے جو پھونک تو سکتے ہیں کاٹ نہیں سکتے ۔اس کتے کے منھ پر لگا ماسک یہ بتا رہا ہے کہ ان کا یہ بھونکنا بھی بڑی طاقتوں کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ۔

دو سال تک غزہ پر اسرائیلی درندگی کو دنیا نے دیکھا بھی کہ کیسے نہ صرف دنیا کی سپر پاور طاقتوں کے حکمرانوں نے بھی اپنے منھ پر ماسک لگا کر خاموشی اختیار کی ہے دیگر مسلم ریاستوں کے حکمراں بھی سپر پاور طاقتوں کے اختیار میں رہیں۔اب اپسٹین فائل کے انکشافات سے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل نہیں ہے کہ یہ خفیہ ہاتھ کس کا ہے اور اس نے دنیا کے حکمرانوں کو کیسے اور کس طرح لٹل سینٹ جیمس جزیرے میں ہنی ٹریپ کے ذریعے اپنے قابو میں رکھا ہوا ہے کہ اگر کسی نے صہیونی مفاد کے خلاف اسرائیل کو اخلاقیات کا درس دینا شروع کیا تو بم پھوٹ سکتا ہے۔

آپ اگر سمجھ رہے ہیں کہ اپسٹین کا جزیرہ صرف ایک فحاشی کا اڈہ ہے اور اس کے مجرمین بے نقاب ہو چکے ہیں تو یہ آپ کی بھول ہے ۔اس وقت دنیا میں جہاں جہاں بھی سرمایہ دارانہ لادینی نظام قائم ہے وہاں کے فائیو اسٹار ہوٹلوں اور resort کی کوئی ایسی رات نہیں گزرتی جو موسیقی رقص اور جسموں کی تجارت سے خالی جاتی ہو۔

یہ بھی دھیان رہے کہ اگر یہ طاقتیں چاہتیں تو اپسٹین جزیرے کا یہ راز کبھی بے نقاب نہ ہوتا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ان طاقتوں نے جس طرح بہت سے دنیا کے حکمرانوں کے کالے کرتوتوں کی فائیلیں جمع کر لی ہیں جن میں عرب کے شہزادے بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ عرب کی ایک خاتون تاجر عزیزہ کے ذریعے جیفری اپسٹین کو خانہ کعبہ کا غلاف بھیجنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیفری اپسٹین کے اس مکروہ فعل میں عرب کے بہت سے شیخ بھی ملوث ہو سکتے ہیں اور بہت جلد یہ طاقتیں کوئی نیا محاذ کھولنے کی جلد بازی میں ہیں۔
اگر جیفری اپسٹین موساد کا ایجنٹ تھا جیسا کہ شک کیا جارہا ہے اور اپسٹین کی فائلوں میں جس طرح عمران خان کو اردگان اور خامنہ ای سے بھی زیادہ خطرناک اور اخوان کا ذکر بھی کئی سو بار آیا ہے یقینا اس شور شرابے کا تعلق فلسطین اور مسجد اقصی سے ہی ہو سکتا ہے اور اس جزیرے پر ایک ایسی خفیہ سیاسی سرگرمی اور regime change یا مملکتوں کو قابو میں رکھنے کی صہیونی ایجنسیاں کی سازش سے انکار نہیں کیا جاسکتا جس کا تذکرہ ہم اپنے سابقہ مضامین regime change series میں کر چکے ہیں کہ کیسے انہوں نے اسلامی دہشت گردی کو عالمی عنوان بنایا اور پچھلی کچھ دہائیوں میں اپنے مخالف حکمرانوں کا قتل بھی کروایا۔

ویسے سورہ ابراہیم میں قرآن خود ان کی سازشوں کی گواہی دیتا ہے کہ ان کی سازشیں اتنی غضب کی تھیں کہ پہاڑ ٹل جاۓ ۔

اب رہا سوال اپسٹین فائل کے ذریعے مغرب کے ہائی پروفائل یا دنیا کے مسیحا تصور کئے جانے والی شخصیات کے ناموں کا بے نقاب ہونا جس میں بل گیٹس،انل امبانی، ایلن مسک اور سپر پاور کے حکمرانوں کے چہرے سر فہرست ہیں تو یہ کوئی حیرت انگیز انکشاف نہیں ہے ۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی اپنی شبیہ پہلے ہی سے ایک پلے بوائے کی رہی ہے اور یوروپ میں رضا مندی کے سیکس کو معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا ۔بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا معاملہ کلنٹن کے صدر کے عہدے پر رہتے ہوۓ ہی سامنے آ چکا تھا ۔بل گیٹس کو اس کی بیوی نے چار سال پہلے اسی ناجائز تعلقات کی بنیاد پر ہی طلاق دے دیا تھا ۔ٹرمپ کی بیوی ملینا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی ایک ماڈل تھی اور ٹرمپ سے اس کی ملاقات جیفری کے جزیرے پر ہی ہوئی تھی جسے بعد میں جیفری نے ڈونالڈ ٹرمپ کے حوالے کر دیا اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے ۔انل امبانی پہلے ہی سے اپنی عمر سے بڑی اداکارہ ٹینا منیم سے شادی کر لیا تھا ۔وہ بہت پہلے ہی سے اس طرح کے گلیمر کی دنیا سے وابستہ رہے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ نوے فیصد سرمایہ داروں کی راتیں فائیو اسٹار ہوٹلوں میں گزرتی ہے ۔جن کے ناموں کا ابھی انکشاف نہیں ہوا ہے تو اس کا مطلب ابھی وہ ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ مصالحت کی میز پر ہوں گے کہ انہیں کتنے بلین اور ٹریلین میں اس فائل کو بند رکھنے کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

ویسے ڈونالڈ ٹرمپ کے شخصیت پہلے سی ہی مشتبہ رہی ہے ۔ممکن ہے جیفری اپسٹین کے بعد اس نے اس پورے کھیل کی ذمہ داری سنبھال لی ہو جیسا کہ امریکہ اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے معاشی بدحالی کے نازک موڑ پر کھڑا ہے اور اسرائیل بھی غزہ کے جنگ کے بعد بہت کچھ داؤ پر لگا چکا ہے ۔عرب شہنشاہوں سے چھ ٹریلین ڈالر وہ پہلے ہی وصول کر چکا ہے بھارت پر دباؤ ڈال کر ایران اور رسیا سے تیل کی خریداری بند کروا دی ہے تاکہ بھارت کو مجبوراً عرب سے تیل خریدنا پڑے اور ڈالر کو استحکام حاصل ہو ۔ وینزویلا کے صدر مدورو اس وقت امریکہ کی جیل میں ہیں اور اس کی تیل کی رفاینری امریکہ کے اختیار میں ہے !

اس کے علاوہ اس فائل میں اسٹیفن ہاکنگ اور نوم چومسکی وغیرہ کا نام بحث کو طول دینے کے لئے کیا گیا ہے تاکہ اس جزیرے پر ہو رہی اصل سیاسی سرگرمی سے لوگوں کا دھیان بھٹکایا جاسکے۔

تصور کیجئے کہ جو لوگ ایک گمنام جزیرے پر معصوم بچوں اور بچیوں کے گوشت ،خون اور ان کے جسموں سے اپنی ہوس پوری کر رہے ہوں کیا ان کے ذریعے انسانی صحت اور فلاح بہبود کے نام پر جاری کی جارہی پولیو ویکسین اور بچوں کی پیدائش کے بعد بچوں کو دی جارہی طرح طرح کی ادویات پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ بل گیٹس پر کویڈ کے دوران جو آبادی کو کم کئے جانے کے الزامات عائد کئے جارہے تھے وہ شک درست ہے اور جیفری اپسٹین جزیرے سے انہیں ویکسین سے بائیو لوجیکل وار کی منصوبہ بندی بھی ہوتی رہی ہے ۔اس بائیو لوجیکل وار کا ذکر دجال کے تعلق سے لکھی گیی کتابوں کے مصنف اسرار عالم ،مفتی ابو لبابہ اور عاصم عمر نے بھی کیا ہے اور ابھی حال ہی میں 2026 کے دی اکنامسٹ کور پیج کے صفحات کی تصویروں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سازشی طاقتیں نیوکلیر جنگ سے زیادہ بائیولوجیکل جنگ سے عالم انسانیت کو تباہ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں کیوں کہ دنیا کی نناوے فیصد آبادی ان کی سازشوں سے ناواقف ہے اور وہ بچوں کو پیدا ہوتے ہی ان کی صحت کے مدنظر خود سے وہ ساری ویکسین دلواتے ہیں جو مغربی ریسرچ کے ذریعے لوگوں پر مسلط کی گئی ہیں ۔اس پر تحقیق ہونا چاہئے لیکن تحقیق بھی کون کرے گا ؟

کچھ بیس سال پہلے ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوۓ اردو اخبار کے ایک جہاں دیدہ صحافی اور ایڈیٹر سرفراز آرزو نے کہا تھا کہ ہم جس طرح عالمی استعماروں کے شکنجے میں قید ہو چکے ہیں یہ جنگ اب خدا اور شیطان کے درمیان منتقل ہو چکی ہے ۔ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ فلاح و بہبود اور علاج کے نام پر مغربی ٹھیکیداروں کی طرف سے جو فرمان جاری ہو رہے ہیں ان سے جہاں تک ممکن ہے پرہیز کر لیں ۔فھل من مدکر

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔