گوہاٹی، یکم جولائی: گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ (EPIC) اور بعض دیگر دستاویزات بذاتِ خود بھارتی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں سمجھے جا سکتے۔ عدالت نے یہ فیصلہ آسام کے ایک باشندے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دیا، جسے فارنرز ٹریبونل پہلے ہی غیر ملکی قرار دے چکا تھا۔
درخواست گزار نے اپنی بھارتی شہریت ثابت کرنے کے لیے عدالت میں مجموعی طور پر 15 دستاویزات پیش کیے تھے۔ ان میں 1951 کے قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) کا ریکارڈ، مختلف برسوں کی ووٹر فہرستیں، 1973 کی زمین کی خریداری کی دستاویز، اسکول کا سرٹیفکیٹ، پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ اور دیگر سرکاری ریکارڈ شامل تھے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ یہ دستاویزات قانونی معیار کے مطابق درخواست گزار کی شہریت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
جسٹس کلیان رائے سورانا اور جسٹس شمیمہ جہاں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 1951 کے این آر سی کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ قانون کے مطابق مطلوبہ تصدیقی سرٹیفکیٹ کے بغیر پیش کیا گیا، اس لیے اسے قابلِ قبول شہادت نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پین کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ شناخت اور انتخابی اندراج کے لیے تو قابلِ استعمال ہیں، لیکن انہیں تنہا بھارتی شہریت کا قطعی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
عدالت نے اسکول کا سرٹیفکیٹ بھی ناقابلِ اعتبار قرار دیا، کیونکہ اسے جاری کرنے والے ہیڈ ماسٹر کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی داخلہ رجسٹر عدالت میں پیش کیا گیا۔ اسی طرح زمین کی دستاویزات سے بھی درخواست گزار کا اپنے آبائی خاندان سے قانونی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔
فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مختلف ادوار کی ووٹر فہرستوں میں عمر، خاندانی تفصیلات اور دیگر اندراجات میں نمایاں تضادات موجود تھے، جس کی وجہ سے درخواست گزار اپنے آباؤ اجداد سے مسلسل اور قابلِ اعتماد تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
درخواست گزار کے والد نے بھی عدالت میں گواہی دی، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ شہریت جیسے معاملے میں محض زبانی گواہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ مضبوط، مستند اور قانونی تقاضوں کے مطابق دستاویزی شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار 1946 کے فارنرز ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت اپنی بھارتی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے فارنرز ٹریبونل کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ چنانچہ عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ایک بار پھر یہ اصول واضح ہوا ہے کہ پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ یا دیگر عمومی شناختی دستاویزات اپنے طور پر بھارتی شہریت کا حتمی قانونی ثبوت نہیں ہوتیں، بلکہ شہریت کے دعوے کے لیے دستاویزات کی قانونی حیثیت، باہمی ربط اور ان کی صداقت کا معیار بھی عدالت کی نظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔