نئی دہلی/سیل رواں:
ــــــــــــــــــــــــــــــ
مرکزی حکومت کے آئندہ مرکزی بجٹ 2026 سے مڈل کلاس اور ٹیکس دہندگان کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق اس بار بجٹ میں انکم ٹیکس میں رعایت، مہنگائی کے بوجھ میں کمی اور سستے گھروں کے فروغ سے متعلق اہم اعلانات کیے جا سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حکومت انکم ٹیکس کی بنیادی چھوٹ کی حد میں اضافے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جس سے تنخواہ پیشہ اور متوسط آمدنی والے طبقے کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ مہنگائی اور بڑھتے روزمرہ اخراجات کے باعث مڈل کلاس گزشتہ کچھ عرصے سے شدید دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں یہ بجٹ اس طبقے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
سستے گھروں کے لیے بڑی مراعات کا امکان
بجٹ سے قبل نیتی آیوگ کی جانب سے حکومت کو یہ تجویز دی گئی ہے کہ سستے گھروں کی تعمیر کرنے والے بلڈرز کو سو فیصد ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس تجویز کو عملی شکل دی گئی تو ہاؤسنگ سیکٹر میں تیزی آئے گی اور عام شہریوں کے لیے گھر خریدنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔
شادی شدہ جوڑوں کے لیے جوائنٹ ٹیکسیشن پر غور
بجٹ 2026 میں ایک اور اہم نکتہ جوائنٹ ٹیکسیشن سسٹم بھی ہو سکتا ہے۔ اس نظام کے تحت شادی شدہ جوڑوں کو مشترکہ طور پر ٹیکس ادا کرنے کی سہولت ملے گی، جس سے خاص طور پر ایک ہی فرد کی آمدنی پر چلنے والے خاندانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار پر زور
ماہرین کے مطابق حکومت اس بجٹ کے ذریعے معاشی استحکام کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے گی۔ انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور دیہی ترقی جیسے شعبوں میں بھی اضافی بجٹ مختص کیے جانے کی توقع ہے۔
مرکزی بجٹ ملک کی معاشی سمت کا تعین کرتا ہے اور اس کے اثرات براہِ راست عام آدمی، بازار اور صنعت پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے میں بجٹ 2026 کو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔