ایران پر حملہ: مذہبی یا مسلکی عینک سے نہ دیکھیں

تحریر : مسعود جاوید

جب کبھی کسی شخص کی شہادت یا موت کے بعد اس کے عیوب بیان کرتے ہوئے اس کی مذمت کی جاتی ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ دین اسلام کے نام لیوا دینی حمیت کے نام پر خود دین اسلام کی تعلیمات کی مخالفت کر رہا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ مرنے والوں کے عیوب نہیں محاسن کا ذکر کرو۔
ورد عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا تسبوا الأموات، فإنهم قد أفضوا إلى ما قدموا” (رواه البخاري)، وفي رواية للنسائي: "لا تذكروا هلكاكم إلا بخير” (صححه الألباني).
حديث "اذكروا محاسن موتاكم وكفوا عن مساويهم”

ایرانی رہنما کی طرح ہی شیخ محمد یوسف القرضاوی اور محمد المرسی کی وفات پر بھی ہمیں بعض حلقوں کی جانب سے سب و شتم کی یلغار پر مشتمل تحریریں پڑھنے کو ملی تھیں اس وقت بھی میں نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔ نظریاتی اختلافات اور اظہار رائے کی آزادی تعلیمات نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے متصادم نہ ہو ہر مسلمان کو اس کی فکر ہونی چاہیے ۔ اور مسلمان ہونے کے لیے اضعف الایمان توحید و رسالت یعنی لا اله الا الله محمد رسول الله.
اظہار رائے کی آزادی یہ ہے کہ ہم اس امر کی شدید مذمت کریں کہ کوئی ملک یا اس کا سرپھرا سربراہ کسی ملک کے داخلی امور میں مداخلت کرے اور انٹرنیشنل داروغہ کا کردار ادا کرے۔ اگر کوئی ملک کسی خودمختار ملک میں ریجیم چینج ،کرپشن اور عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کے نام پر کسی ملک کی خود مختاری پر حملہ کرتا ہے تو بلا شبہ وہ قابل مذمت ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر، جس پر دنیا کے سبھی رکن ممالک نے دستخط کیے ہیں ،کے منافی ہے اور مہذب دنیا میں ناقابل قبول ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ مہذب دنیا کے سربراہ ہی ایسی حرکتیں کر رہا ہے اور دنیا تماشائی ہے۔
اور اب جنگ کے کئی دن گزر جانے کے بعد فتح وشکست اور نفع و نقصان کا حساب شروع ہے اسی کے ساتھ جس طرح ماضی میں افغانستان اور عراق پر حملہ کو جورج بش نے ” axis of evils ” یعنی برائیوں کا مثلث ” عراق ایران اور شمالی کوریا ) اور "کروسیڈ ” یعنی اسلام و مسیحیت کی جنگ ” کا رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔

حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ افغانستان اور عراق پر حملے کے پیچھے اس کے اقتصادی مفادات تھے نہ کہ مذہب ۔
ایسی ہی کچھ کوشش اس بار بھی شروع کر دی گئی ہے جیسے ” ہم متشدد شیعہ اسلام ” کو برداشت نہیں کر سکتے اسی لئے حملہ کیا ہے! یا الجزیرہ کی خبر کے مطابق امریکی وزیر نے یورپ کو رجھانے کے لئے امریکہ اور یورپ کے مشترکہ مذہب، ثقافت اور زبان کی دہائی دے رہا ہے ! یہ اور بات ہے کہ عراق و افغانستان حملے کے بعد اسلاموفوبیا والا بیانیہ بہت دنوں تک نہیں چلا اسی طرح ایران پر حملہ والا جواز یورپ کے گلے سے نیچے نہیں اتر رہا ہے۔ بالفاظ دیگر اس بار یورپ آنکھیں بند کر امریکی صدر کے ایڈونچر کی تائید کے حق میں نہیں ہے ۔ موجودہ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں اشارہ عراق کے خلاف جنگ میں امریکی صدر بش کے داہنا ہاتھ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق میں من گھڑت کیمیائی اسلحہ (WMD) بین الاقوامی سطح پر خوب کی تھی اسی غلطی کی طرف اشارہ ہے کہ اس بار برطانیہ ویسی غلطی کا اعادہ نہیں کرے گا) اس لئے کہ ویپنس آف ماس ڈسٹرکشن جیسا کوئی کیمیائی اسلحہ کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا اور بہت بعد میں جب امریکی سربراہی میں عراق کو ملیامیٹ کر دیا گیا تو ٹونی بلیئر نے اس دانستہ غلط بیانی کے لئے معافی مانگی ۔

دراصل دو ملکوں کے مابین مسلح تصادم اور بڑے پیمانے پر جنگ عموماً مذہب ، مسلک یا آئیڈیالوجی کی بنیاد پر نہیں ان ملکوں کے سرحدی تنازعات یا اقتصادی اور دیگر ملکی مفادات کے بیش نظر ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور پر ایران اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایک طویل عرصے سے ناچاقی کی وجہ تین اسٹریٹیجک جزیرے رہے ہیں ؛ "طنب الكبرى” ، "طنب الصغرى” اور أبو موسى یہ تینوں جزیرے ١٩٧١ سے ایران کے قبضے میں ہیں ۔ ایران غالباً یہ توجیہ پیش کرتا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ امارات ان جزیروں کو امریکہ کو فوجی اڈے کے لئے دے دیگا ۔ ویسے ہی جیسے روس کو خدشہ ہے کہ یوکرین میں نیٹو افواج آ بیٹھے گی۔

بعض اسٹریٹیجک تجزیہ نگاروں کے بقول
سعودی عرب اور ایران میں اختلاف کی وجہ خطے میں ریجنل سوپر پاور بن کر ابھرنے کے دوڑ ہے۔ بعض دوسروں کے مطابق ایران کی شیعیت کی توسیع کی کوشش ہے اور یہ کہ اسی توسیع پسندی کا خمیازہ، قبائلی ملک سے ابھر کر ماڈرن اسٹیٹ کی راہ پر گامزن ملک یمن کی عوام کئی سالوں سے بھگت رہی ہے۔ یمن دیگر عرب ممالک کی بنسبت ایک خستہ حال ملک جہاں پٹرول کی تجارتی مقدار میں دریافت ١٩٨٥ ہوئی اور جس سے اس کی معیشت میں بہتری آنی شروع ہوئی۔ ترقی یافتہ ممالک کی چکا چوند روشنی سے نابلد، بہت سادہ مزاج اور متواضع طبیعت کے لوگ تھے۔ اس وقت تک بعض علاقوں میں قبائلی نظام کسی حد تک رائج تھا ۔ اس مسلم ملک میں مسلکی اعتبار سے دو مسلک کے لوگ ہیں شوافع ( امام شافعی کے متبعین ) اور زیود یعنی زیدی شیعہ ۔ لیکن یہ دونوں اس قدر شیر و شکر رہتے تھے کہ تمیز کرنا مشکل ہوتا تھا۔ مجھے وہاں قیام کے دوران بہت بعد میں پتہ چلا تھا کہ یہاں بھی شیعہ و سنی ہیں۔ شیعہ کا ایک قبیلہ "الحوثي ” کے لوگ صعدہ( سعودی سرحد) کے علاقے میں رہتے تھے ۔ یمنی حکومت اسے کبھی خصوصی مراعات دے کر کبھی ان کی سرکشی کو کچل کر کنٹرول میں رکھتی تھی ۔۔ رفتہ رفتہ وہ اتنے طاقتور بن گئے کہ منتخب حکومت کے خلاف کھڑے ہو گئے اور حال یہ ہوا کہ منتخب حکومت کو دست بردار ہونا پڑا اس کے بعد خانہ جنگی ۔ تجزیہ نگاروں کی رائے میں حوثیوں کی مدد ایران سے ملتی تھی جسے سعودیہ نے پراکسی وار کا خدشہ کے قبیل میں رکھتے ہوئے کچلنے کی کوشش کی ۔ شام میں سنیوں کا تناسب تقریباً ٧٤ فیصد لیکن انہیں ہمیشہ اقتدار سے دور رکھا گیا ۔۔۔۔ ان باتوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ان ممالک میں "اسلام خطرہ میں ہے” ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ خانہ جنگی کی صورت حال اقتدار یا بری یا بحری سرحدی تنازعات رہے ہیں ۔

امریکہ کی سربراہی والی جنگ کی بابت برصغیر میں مسلکی فرقہ پرستی کے زیر اثر بعض حضرات دریدہ دہنی پر آمادہ ہیں ۔ میرے خیال میں یہ قطعاً مناسب نہیں ہے۔ ہمارے لیے مقدس تین مقامات ہیں مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مسجد اقصیٰ ۔۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اتفاق سے سعودی عرب میں واقع ہیں ۔ سعودی عرب ایک ملک ہے جس میں دیگر مسلم و غیر مسلم ممالک کے حکمران اور شہری کی طرح یہاں کے حکمرانوں اور و شہریوں سے بھی کم و بیش ہر قسم کی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں ۔ صرف اس لیے کہ اس ملک میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہیں ، ان کی غلط حرکتوں کو ہم جائز قرار نہیں دے سکتے ۔ جہاں تک ملکی پالیسی کا تعلق ہے تو وہ ایک خودمختار ملک ہے اور وہاں کے حکمرانوں کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ایسا ہی حق ایران کو بھی حاصل ہے ۔

دینی حمیت اور اسلامی اخوت یہ بات بارہا دہرائی جاتی ہے جبکہ دینی اخوت اخوکم فی الدین فرد کی سطح پر کسی درجے میں ہو سکتی ہے ریاست کی سطح پر ممکن نہیں ہے ۔ ہر ملک کو اپنی سرحدوں اور شہریوں کا تحفظ سب سے اولی ہوتا ہے اسی لیے آپ بغیر ویزہ اقامہ ویزہ زیارہ یا سیاحتی ویزہ کے بغیر محض اس لیے کہ آپ مسلم ہیں کسی مسلم ملک میں داخل نہیں ہو سکتے۔

اس سے واضح ہوا کہ ملکوں کے مسائل کو دینی یا مسلکی عینک سے نہیں انسانی عینک سے دیکھیں۔ تعصب کسی قسم کی ہو محبوب نہیں ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔