جیفری اپسٹین فائل اور اس کی اصل طاقت کا راز ! (6)

محمد عمر فراہی

جیفری اپسٹین فائل اور اس کے جزیرے کو اگر ہم اب بھی صرف اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ صرف ایک sexual abuse کا معاملہ تھا اور یہاں دنیا کے اشرافیہ کو عیاشی کا سامان فراہم کیا جاتا تھا تو یہ ہماری بہت بڑی بھول ہے ۔جیسا کہ ہم سابقہ مضامین میں بھی لکھ چکے ہیں کہ جیفری ایک مہرہ یا اس کہانی کا ایک اہم سازشی کردار تھا اور اس کی اس فائل کو ابھی منصوبہ بند طریقے سے لوگوں کے سامنے لایا ہی گیا ہے اس لئے تاکہ ابھی جن کے ناموں کا انکشاف نہیں ہوا ہے وہ زبان بند رکھیں یا ان پر deep state کا خوف مسلط رہے۔

اس تعلق سے میڈیا میں جتنا شور اٹھا ہے یہ صرف اس اسکینڈل کی دو فیصد سچائی ہے یا اس دو فیصد سچائی کی آڑ میں سازشی طاقتوں کے اصل مقاصد پر پردہ ڈالنا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ اس جزیرے کے تہہ خانوں میں جو سیاسی اور سائینسی تجربات کے طور پر چھپے راز ہیں نہ تو ابھی تک اسے منکشف کیا گیا اور نہ ہی اس جزیرے کو سیل کرنے اور سرکاری تحقیقاتی ایجنسیوں کے داخل ہونے کا کوئی شور سنائی دے رہا ہے !

ایسا لگتا ہے کہ اس جزیرے پر منصوبہ بند طریقے سے جو کام انجام دیا جارہا تھا اسے انجام دینے کے لیے دنیا کی بااثر شخصیات جس میں کہ سیاستدان صنعت کار جرنلسٹ سائنسدان پروفیسر ، فلم ساز اور عدل و انصاف کے اداروں سے منسلک بے شمار شخصیات شامل ہیں ان کی آواز کو دبا کر رکھنا بھی لازمی ہے ۔شاید اسی لئے انہیں ایک سازش کے تحت اس جزیرے پر عیاشی کی دعوت دی جاتی تھی اور ان کی حرکتوں کو باقاعدہ ای میل اور خفیہ کیمروں میں قید کر لیا گیا ۔
حالانکہ کی دنیا کی سرکاری ایجنسیاں اپنے مخالفین کے خلاف ایسی سازشیں عام شہری آبادیوں میں بھی ایک زمانے سے انجام دیتی رہی ہیں اور اس کے تار بھی کہیں نہ کہیں جیفری اور صہیونی تنظیموں کے اس نیٹورک سے ہی ملتا ہے لیکن جیفری کے اپنے جزیرے کی شہرت اگر عالمی پیمانے پر مشتہر ہو رہی ہے تو اس لیے کہ اس میں نیو ورلڈ آرڈر کے فلسفے کو جدید شکل دینے والے وہ مشہور چہرے بھی شامل ہیں جنھیں دنیا جمہوریت کا علمبردار یا مسیحا تصور کر بیٹھی ہے ۔بہت سے مولوی حضرات خوش ہیں کہ اس میں کہیں بھی کسی مولوی کا نام نہیں آیا ہے اور ہمارے ایک کامریڈ دوست نے لکھا ہے کہ اس پوری فائل میں کمیونسٹ نظریات کے لوگوں کا نام بھی نہیں آیا ہے جبکہ یہ دونوں ہی طبقات کے لوگ غلط ہیں ۔جس کی جتنی اوقات ہے اسے اسی قیمت کی ادائیگی سے خاموش کیا گیا ہے اور ان کی فائلیں بھی سرکاری ایجنسیوں کے پاس جمع ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے فرقہ پرست طاقتوں نے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور مسلمانوں کی ساری مذہبی جماعتوں کے قائدین رسمی بیانات سے زیادہ کچھ کہنے کی جرات نہیں کرپاتے۔

جہاں تک سوال کمیونسٹ اور لفٹسٹ نظریات کا ہے کہ یہ لوگ اصول کے پکے ہوتے ہیں اور ان کے خلاف بے حیائی کے معاملات میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملتا تو پھر تہلکہ کے ایڈیٹر ترون تیجپال پر جو ایک زمانے میں فرقہ پرستوں کے خلاف ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے تھے گوا کے ایک ہوٹل میں ایک لڑکی کی گواہی پر مقدمہ کیسے چلا جبکہ یہ لڑکی خود ان کی بیٹی کی سہیلی تھی یا ان کی بیٹی کی سفارش پر ان کی معاون ایڈیٹر کے طور پر ان کے ساتھ کام کر رہی تھی ۔حالانکہ ترون تیجپال ایک نڈر اور غیر فرقہ پرست صحافی رہے ہیں لیکن اکثر انسان کی اپنی بشری کمزوریاں اس کے نظریات پر غالب آہی جاتی ہیں اور ابلیسی طاقتیں اسی کا فائدہ اٹھاتی ہیں ۔جیفری اپسٹین جزیرے پر عیاشی اور بدکاری میں ملوث افراد بھی حقیقتا لفٹسٹ خیالات ہی رکھتے تھے بس فرق اتنا ہے کہ انہوں نے اپنے کالے کارناموں کو انجام دینے کے لیے اپنے چہروں پر مغرب کا سیکولر اور لبرل مکھوٹا پہن رکھا تھا۔

ترون تیجپال اپنے اسی گناہ کی وجہ سے کئی سال تک جیل میں رہے اور اب ان کی آواز فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف بالکل خاموش ہے اور ان کے مخالفین بھی یہی چاہتے تھے۔

دوسرا نام ایم جے اکبر کا ہے ۔ایم جے اکبر کانگریس سے منسلک ضرور رہے لیکن نظریاتی طور پر ان کا تعلق بھی بائیں بازو کی کمیونسٹ تحریک سے ہی تھا جو ایک زمانے تک ایشین ایج کے ایڈیٹر بھی رہے ۔ایم جے اکبر انگلش اخبارات کی دنیا کے پہلے ایڈیٹر تھے جنھوں نے باقاعدہ اپنے اخبار میں فلم انڈسٹری کے لوگوں کی فحش سرگرمیوں کے تعلق سے مخصوص صفحات شامل کئے جس میں اداکاراؤں کی نیم عریاں اور فحش تصاویر ہوا کرتی تھی اور یہ اخبار اپنے ان صفحات کی وجہ سے اسی طرح مشہور ہوا جیسے کہ کسی زمانے میں اخبار مڈے مڈے میٹ کے نام سے نیم عریاں تصویر کی وجہ سے مشہور ہوا تھا ۔اس اخبار کا مالک بھی لفٹسٹ سوچ کا ہی تھا۔

جس طرح آج جیفری اپسٹین فائل کی شکار کچھ دوشیزائیں میڈیا کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروا رہی ہیں کچھ دس سال پہلے Me too کا فتنہ بھی سامنے آیا تھا ۔میڈیا کے سامنے بہت ساری لبرل خواتین جو فلم انڈسٹری یا کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت پر فائز رہی ہیں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا اعتراف کیا تھا ۔اس معاملے میں ایم جے اکبر کا بھی نام ان کے ساتھ کام کرنے والی خاتون کے تعلق سے آیا تھا لیکن ایم جے اکبر نے وقت سے پہلے طوفان کا اندازہ کر لیا تھا اور انہوں نے کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور خود کو بچا تو لیا لیکن ایک وقت کے بے باک اور باصلاحیت صحافی کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ۔وہ لوگ جو ایک سازش کے تحت سیاسی بالادستی چاہتے ہیں وہ یہی چاہتے بھی ہیں کہ ان کے خلاف جو آوازیں اثر انداز ہو سکتی ہیں وہ خاموش رہیں ۔

دھیان رہے Me too کا فتنہ بھی جیفری اپسٹین کی فائل کی طرز پر ہی سامنے لایا گیا تھا جس میں بہت ساری عورتیں جن کی اکثریت ماڈلنگ کی دنیا سے تعلق رکھتی تھی اور جن کے ساتھ جنسی استحصال کا معاملہ پیش آیا تھا یا انہوں نے اپنے اچھے کریئر کے لئے رضا مندی سے یہ کام انجام دیا تھا وہ میڈیا کے سامنے آ کر بہت ہی بے باکی سے بیان دے رہی تھیں کہ ہاں میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے ۔اس معاملے میں بھی کچھ ہی نام کو جان بوجھ کر سامنے لایا گیا باقی کے لوگ جس میں پروفیسر جج اخبارات کے ایڈیٹر اور بہت ساری سیاسی شخصیات بھی ہو سکتی تھیں وہ اپنے آپ خاموش ہو گئے یا وہ اچھے بچوں کی طرح سیاستدانوں کے ہاتھ کا کھلونا بنے رہے۔

یہ سب کچھ ایک خاص وقت اور سرکار کے دور میں ہوا تاکہ اس کی سیاسی بالادستی کو چیلنج کرنے والی آوازیں بہت موثر نہ رہ پائیں !!

سچ کہا جاۓ تو آج کے جدید سیکولر جمہوری معاشرے میں اچھی ملازمت اور عہدوں کے لئے بہت سی تعلیم یافتہ خاتون ہر روز اس جنسی استحصال سے گزرتی ہیں جن میں نناوے فیصد معاملات خفیہ ہی رہ جاتے ہیں یا موجودہ جمہوری نظام سیاست میں جہاں خدا مذہب اور اخلاقیات کا تصور ہی نہیں رہا اب یہاں رشوت کے بغیر کوئی کام بھی کہاں ہوتا ہے ۔خاص طور سے بہت ساری لڑکیاں وہ چاہے میڈیا ہو کہ یونیورسٹیوں میں اعلی ملازمت کا عہدہ اپنے جنسی استحصال کے لئے آسانی سے تیار بھی ہو جاتی ہیں ۔ بلکہ یوں کہیں کہ اب کارپوریٹ صنعت میں اچھے بڑے ٹینڈر یا آرڈر اٹھانے کے لئے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں اس سودے بازی نے فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے اور ہر بڑی کمپنی مارکٹنگ ٹیم میں ایک خوبصورت چہرہ بھی لازمی ہے ۔جیفری کی اپنی طاقت بھی گیسویل میکسویل تھی اور اس کی نو گرل فرینڈ جو اس کے لئے کام کرتی تھیں جن میں سے ایک کارلیانا شولیاک جو آخری وقت میں گرفتاری کے وقت جیفری کے ساتھ تھی جیفری اپسٹین اس سے شادی کرنے والا تھا اور اس نے اسے تحفے میں جو ہیرے کی انگوٹھی دی تھی اس کی قیمت بارہ لاکھ امریکی ڈالر تھی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔