جیفری اپسٹین اور ہند العویس کے رابطے کی حقیقت (5)

از:- محمد عمر فراہی

جیفری اپسٹین فائل میں امارات کی جن تین شخصیات کا نام آیا ہے ان میں ایک خاتون ہند العویس کی سوشل میڈیا پر اس لئے بھی بہت شہرت ہے کیوں کہ وہ امارات میں خواتین کی ترقی اور empowerment کے تعلق سے ایک اہم شعبے پر فائز ہیں جبکہ ان کا ‌نام جیفری کے ساتھ فحش گفتگو کرنے کے تعلق سے آیا ہے ۔جیسا کہ وہ جیفری کو اپنی تیرہ سالہ بہن حالہ کو بھی یہ کہہ کر متعارف کروانے کی بات کرتی ہیں کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔

ہند العویس کا نام اس فائل میں چار سو انہتر بار آیا ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند العویس کے جیفری کے ساتھ صرف رسمی تعلقات نہیں تھے بلکہ وہ مسلسل اس کے رابطے میں تھی ۔ممکن ہے وہ اس کے پیشہ وارانہ منظم نیٹ ورک کا حصہ بھی رہی ہو ۔ جیسا کہ ایک ای میل کے جواب میں وہ کہتی ہے کہ ایک لڑکی کا انتظام کر پانا ہی مشکل ہے دو کا انتظام کرنا تو ایک بڑا چیلنج ہے ۔اسی گفتگو میں وہ کہتی ہے کہ اگر تم چاہو تو میں اپنی بہن سے متعارف کروا سکتی ہوں وہ مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے ۔اپسٹین اس کے جواب میں کہتا ہے کہ کیا تم دونوں فلاں دن آ سکتی ہو مجھے تمہیں ایک شخص سے ملوانا ہے اور وہ تمہارے ساتھ زیادہ وقت بتانا چاہتا ہے۔ یہ تمہارے مستقبل کے لئے فائدے مند رہے گا ۔وہ شخص کون تھا ؟

کسی ملک کا حکمراں ۔۔صنعت کار ؟
جو بھی ہو اس کے ساتھ وقت گزارنے کا ایک منافع بخش سودا یقینی تھا !

یہاں پر غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایک عرب خاتون وہ بھی ایک مسلمان کیا وہ امارات کی سیاست میں اعلی عہدے پر فائز رہتے ہوۓ یہ کام انجام دے رہی تھی ؟ ۔
اگر وہ کسی اعلی عہدے پر فائز تھی تو اسے ایسا کرنے کی ضرورت بھی کیوں پیش آئی ؟

یہ بھی کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک اجنبی شخص جس کے جنسی جرائم کی شہرت 2008 کے ایک ایف آئی آر کے بعد ہی منکشف ہو چکی ہو ایک عورت اس شخص پر اعتماد کر کے اس کے جزیرے پر سیر کرنے کے لئے راضی ہو جاۓ !؟

میڈل ایسٹ آئی نیوز کے مطابق دونوں کے درمیان ای میل کی گفتگو 2011 کی ہے اور اس وقت اس کی عمر ستائیس سال تھی جبکہ اقوام متحدہ میں ایک سینیر صلاح کار کے طور پر اس کی تقری 2015 میں ہوئی تھی۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ 2011 میں یا اس سے پہلے ہند العویس کی جیفری اپسٹین سے ملاقات کب اور کیسے ہوئی۔سوشل میڈیا پر ایسے کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے رابطے میں کیسے آۓ اور کہیں اقوام متحدہ کی آفس تک اس کی اس رسائی میں جیفری اپسٹین کے اثر و رسوخ کا عمل دخل تو نہیں ؟
یہی وہ نکتہ تھا جس کی بنیاد پر ہم نے ہند العویس کے خاندانی پس منظر اور اس کی تعلیم و تربیت کے تعلق سے علامہ گوگل سے پوچھنا شروع کیا تو ایک ویب سائٹ پر اس کے تعلق سے ایک پوسٹ نظر آئی کہ اس کا باپ زین العابدین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر تھا لیکن درمیان میں ہی اس نے ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ منتقل ہو گیا ۔اس وقت ہند العویس اسکول میں تھی ۔ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کی مگر کھلی نہیں بعد میں بہت کوشش کیا وہ ویب سائٹ بھی گوگل سے غائب ہو چکی تھی ۔یہ پوسٹ کس نے لکھی تھی پتہ نہیں ۔اگر یہ فیک تھی تو ڈلیٹ کیوں ہوئی لیکن عام خبروں میں اس کے اصلی والد کا نام عبدالعزیز العویس بتایا جارہا ہے جن کا 2013 میں انتقال ہو چکا ہے ۔حیرت ہے کہ ہند العویس جیسی مشہور و معروف شخصیت کے بارے میں وکی پیڈیا پر بھی بہت کچھ معلومات نہیں ہے ۔جیسے کہ وہ شادی شدہ ہے یا نہیں اور شادی شدہ ہے تو اس کے شوہر کا کیا نام ہے جبکہ اسی اپسٹین فائل سے جڑے نام امارات کے ایک بڑے تاجر سلطان کے خاندانی پس منظر کے بارے میں بہت کچھ تفصیلی معلومات موجود ہے ۔ایک بات جو ہند العویس کے تعلق سے بہت سارے نیوز پورٹل پر موجود ہے وہ یہ کہ اس نے امریکی شہر نیویارک کی Mitch University سے آرٹ میں ماسٹر کیا ہے بعد میں اس نے بیروت سے کسی اور سبجیکٹ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

یہیں سے جیفری اور ھند العویس کے رابطے کا خلاصہ کیا جاسکتا ہے ۔یعنی جب وہ نیویارک میں تعلیم حاصل کر رہی تھی تو اسی دوران اس کے رابطے میں جیفری اپسٹین کے ایجنٹ آۓ ہوں گے جیسا کہ جیفری اپسٹین فائل سے ایک بات یہ بھی سامنے آتی ہے کہ اس کے بندے امریکہ میں اسٹوڈنٹ ویزے پر آئی خوبصورت لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے سرگرم تھے ۔اکثر امریکہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ تعلیم کے بعد وہاں کی شہریت حاصل کرکے وہیں رہائش پذیر ہو جائیں لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوتا ۔اس کے لئے انہیں وہاں ایک اچھی ملازمت اور وہاں کے کسی باشندے سے شادی کرنا بھی لازمی ہوتا ہے ۔جیفری کے لوگ ایسی لڑکیوں کی فیک یا عارضی شادیاں کروا کر ان کے مسئلے بھی حل کروانے کا کام کرتے تھے اور اس کے عوض وہ ان لڑکیوں سے اپنے جزیرے پر عیاشی کا سودا بھی کر لیتے تھے اور پھر انہیں میں سے کچھ لڑکیاں دوسری لڑکیوں کو بھی تیار کرنے میں بھی معاون ہوتی تھیں۔

ہند العویس کا جیفری کے اس نیٹ ورک سے رابطہ نیویارک میں اس کے تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی ممکن ہوا ہو گا اور پھر اسی رابطے میں دونوں کی آشنائی جزیرے پر سیر اور اقوام متحدہ میں ملازمت کا سبب بھی ہو سکتی ہے۔

حالانکہ اس کا کوئی پختہ ثبوت تو نہیں ہے لیکن اس کی مشتبہ شخصیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند العویس کے باپ کا تعلق بھارت کے کسی ایسے مسلمان فرقے سے رہا ہو جو نام کے تو مسلمان ہوتے ہیں لیکن ان کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی مطلب نہیں ہوتا ۔جیفری سے اس کے باپ کا کسی تنظیم کے ذریعے رابطہ ہوا ہو اور وہ اسی لالچ میں علی گڑھ کی نوکری چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو گیا ہو اور اس نے خود جیفری کو اپنی خوبصورت لڑکی پیش کرنے کے عوض سودا کر لیا ہو ۔اس سودے میں امارات کی شہریت اور اقوام متحدہ کی ملازمت بھی شامل ہو سکتی ہے ۔آپ کہیں گے کہ کیا ایک باپ ایسا کر سکتا ہے تو اس کا جواب خود ہند العویس نے جیفری کو اپنی تیرہ سالہ بہن کو پیش کر کے دے دیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ جس وقت ہند العویس جیفری اپسٹین کو اپنی بہن سے متعارف کروانے کی بات کر رہے تھی اس وقت اس کا باپ بھی زندہ تھا ۔آخر باپ کی موجودگی میں ہند العویس اپنی بہن کو جیفری اپسٹین سے ملاقات کروانے کی جرأت کیسے کر سکتی ہے ۔

مطلب بالکل صاف ہے کہ اس کے اس کھیل میں اس کا باپ بھی شریک رہا ہو گا ۔اسی فائل میں خود ڈونالڈ ٹرمپ کے تعلق سے بھی یہ بات آئی ہے کہ امارات کے ایک شیخ نے اسے اپنی تیرہ سال کی لڑکی کی پیشکش کی تھی ۔

یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ دنیا بہت بڑی ہے ۔اس دنیا میں بہت سے مسلمان گھرانوں کی تربیت خالص مغربی ماحول میں ہوئی ہوتی ہے ان کے نزدیک مذہب کا کوئی تصور ہی نہیں ہوتا یا مسلمانوں میں بھی کچھ ایسے فرقے ہیں جن کا صہیونی تنظیموں سے بہت گہرا رشتہ رہا ہے اور جس طرح صہیونی تنظیمیں اپنے مقصد کے لئے اپنی خوبصورت دوشیزاؤں کا استعمال کرتی ہیں نام‌ نہاد مسلم تنظیمیں بھی ان کے ساتھ یہ قربانیاں دے رہی ہیں ۔عراق شام یمن اور متحدہ عرب امارات وغیرہ میں ایسے فرقے کثرت سے پاۓ جاتے ہیں جن کے رہن سہن سے مسلمانوں جیسی بود و باس تو آتی ہے لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔جیسا کہ ہند العویس کی اس بحث کے دوران ایک بات اور بھی چرچے میں آئی کہ ابھی تک خود ہند العویس اور اس کی بہن حالہ جو کہ اب اٹھائیس سال کی ہو چکی ہوگی اس کا کوئی بیان نہیں آیا ہے نہ ہی عالمی میڈیا ان کے بارے میں بہت دلچسپی سے معلومات حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے ۔انسٹا پر حالہ کے تعلق سے ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ اس نے ایک کشمیری پنڈت سے شادی کر لی ہے ۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ امارات سے تعلق رکھنے والی یہ لڑکی کسی کشمیری پنڈت کے رابطے میں کیسے آئی ۔اسی طرح کی مشکوک خبروں سے کچھ تبصرہ نگاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ کہیں اس کے باپ کا تعلق بھی کشمیر سے کسی مشتبہ مسلمان فرقے سے تو نہیں تھا ؟
یعنی ہند العویس نسلاً عربی نہیں ہے؟۔

ہم پچھلے مضامین میں جیفری کے فری میسن یا ایلومیناتی جیسی تحریک سے منسلک ہونے کی بات کر چکے ہیں اور اس کے اسرائیل اور موساد کے ایجنٹ ہونے کی بات تو کئی جگہ خبروں میں آ بھی چکی ہے۔سچائی جو بھی ہو ایک بات تو سچ ہے کہ اور اس کا تذکرہ التمش نے اپنی ناول داستان ایمان فروشوں میں بھی کیا ہے کہ طاغوتی طاقتوں نے ہر دور میں اپنے حریف کے خلاف سیاسی بالادستی کے حصول کے لئے خوبصورت دوشیزاؤں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔