حالیہ جنگ اور جمعہ کے خطبے

تحریر: مسعود جاوید

آج جمعہ کا مبارک دن ہے اور جمعہ کی نماز کی تاکید اور بڑی مسجد ( جامع مسجد )میں نماز جمعہ ادا کرنے کی فضیلت میں اس اہم دن اور گھڑی کی اہمیت مضمر ہے ۔

ظہر کی نماز چار رکعات ہیں لیکن جمعہ کے روز جمعہ کی نماز سے قبل خطبے دو رکعات کے بدیل ہیں اور اس کے بعد دو رکعات نماز جمعہ ۔ اس طرح کل چار رکعات ہیں۔

جمعہ کے روز جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی تاکید اس لئے ہے کہ اس روز کسی اہم موضوع کی طرف نمازیوں کی توجہ مبذول کرائی جائے۔

ماضی میں جمعہ کے خطبے میں مسلم حکمرانوں کے قوم کےنام بعض اہم پیغام بھی گوش گزار کئے جاتے تھے ۔ لیکن اسلامی یا مسلم ریاستوں کے زوال کے بعد سیاسی و نظریاتی رسہ کشی کے پیش نظر جمعہ کے خطبوں کو عمومی طور پر محض دینی خطاب میں محصور کر دیا گیا تاکہ یہ خطبے اتحاد امت کی بجائے اختلاف امت کا سبب نہ بنے ۔ اس لیے کہ نمازی حضرات کسی ایک ملک ، ریاست ، جماعت یا سیاسی پارٹی کے ہمنوا نہیں ہوتے اور وہ اپنی رائے پر قائم رہنے کے لیے آزاد ہیں۔ دنیاوی مسائل بالخصوص سیاسی اور جیو پولیٹیکل ایشوز پر علماء ، خطباء، مولوی ، مولانا ، شیخ، حفظہ اللہ ، حضرت جی، پیر صاحب ، سجادہ نشین اور صوفی باصفا کا علم و شعور ضروری نہیں صحیح اور پختہ ہو۔ نمازیوں میں بہت سے دانشور بھی ہوتے ہیں جو صحیح سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اور اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ عقیدت کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے خطیب صاحب کی ہر رائے کے سامنے سرنگوں ہوا جائے۔ کشف و کرامات کی باتوں پر آمنا صدقنا کہی جائے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس دنیا کو دار الاسباب بنایا ہے اور ہمیں اسی کا مکلف بنایا ہے۔ ہم کام کرتے ہیں (کام یعنی سبب) تو اس کا نتیجہ (مسبب) سامنے آتا ہے۔
دین اسلام عقل سے قریب ایک دین ہے اس لئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دین اسلام کے ماننے والوں کو مافوق الفطرت ( سوپر نیچرل ) واقعات پر توجہ دینے کی بجائے فطری طور طریقے اختیار کرنے کی تاکید کی ہے نہ کہ ٣١٣ کے وقت کی غیبی مدد اور دیگر معجزات کی تمنا کرنے کی۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہمیں تاکید کی:
قال الله تعالى: "وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ”.
یعنی تم اللہ اور اپنے دشمنوں کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق تیاری کرو جنگی سامان اسلحے اور گھوڑے تیار رکھو تاکہ دشمن پر ہیبت طاری ہو ۔ آج کے دور میں جنگی سازوسامان گھوڑے ، تیر تفنگ اور تلوار نہیں میزائل ،ڈرون اور سوپر سونک ذرائع ابلاغ اور سوپر ٹیکنالوجی ہیں ان سے اپنی قوم کو مسلح کرنے کی ضرورت ہے۔

ایران نے ثابت کردیا کہ وہ اس آیت کریمہ کے حکم کے مطابق اپنی فوج کو ایسی جنگی صلاحیتوں سے مزین کیا کہ آج امریکہ اور اس کا بغل بچہ ہی نہیں پوری دنیا ششدر ہے۔

امید ہے خلیج عرب کے رہنما ایران پر بغیر کسی جواز کے حملے کو ایران نے کس طرح مات دیا اس سے سبق حاصل کریں گے کہ محدود وسائل اور جنگی طاقت کرائے کے ٹٹوؤں کے لامحدود طاقت سے زیادہ اعتماد بخش ہوتے ہیں۔

بعض خبروں کے مطابق خلیج عرب کے بعض ممالک نے امریکہ سے۔ کہہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف حملے کے لئے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
بعض غیر مصدقہ خبروں کے مطابق عنقریب سعودی عرب بہت بڑی مالی امداد ، اشیاء خوردونوش و ادویات بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

میں نے موجودہ جنگ کے تناظر میں بارہا لکھا کہ یہ جیو پولیٹیکل ایشوز ملکوں کے درمیان سرحدی اور معیشتی مسائل ہیں اس کو مسلکی عینک سے نہ دیکھا جائے ۔ ایران اور عرب ممالک دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح ، اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور اس عالمی تنظیم کے چارٹر پر دستخط کیے ہوئے ہیں اس لیے وقتی چپقلش کے باوجود ان کے سفارتی تعلقات منقطع نہیں ہوتے۔ اگر ، شاذونادر ، منقطع ہوتے بھی ہیں ، تو ان کی جانب سے کوئی تیسرا ملک ان کی طرف سے نیابت کرتا ہے یعنی سفارتی کام دیکھتا ہے۔ جب عرب اسرائیل مسئلہ کے حل کے لیے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ پر مصر نے دستخط کیا تھا تو عرب ممالک مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے ان دنوں بعض ممالک میں ہندوستانی سفارت خانے مصر کے سفارت خانے کے کچھ سفارتی بالخصوص قنصلی کام دیکھتے تھے۔

خلاصہ کلام یہ کہ یہ ملکوں کے اپنے اپنے مسائل ہوتے ہیں اور بعض مسائل بہت حساس ہوتے ہیں جن پر بغیر مکمل علم خامہ فرسائی سے احتراز کرنا چاہیے اور دینی اخوت جیسی خوش فہمیوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اب اگر سعودیہ کی جانب سے ریلیف و دیگر امداد ایران کو فراہم کی گئی تو ان لوگوں کا موقف کیا ہوگا جنہوں نے اس دوے ملکی مسئلہ اور بغیر جواز کے حملوں کو شیعہ سنی کے مسلکی عینک سے دیکھنے اور دنیا کو دیکھانے کی کوشش کر رہے تھے! بعض ” شیخ” تو ان کے ایسے بھی ہیں جنہوں نے کہا کہ اگر خامنائی کو اللہ نے جنت میں جگہ دی تو ہم اپنے لئے جہنم طلب کریں گے! نعوذ باللہ ۔

آج پھر جمعہ ہے امید ہے کہ آج جمعہ کے خطبے مسلکی فرقہ پرستی سے پاک ہوں گے۔
ویرانے میں آیا ہوں تہذیب چمن لے کر

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔