جزیرۃ العرب اور صہیونی طاقتوں کے خوفناک عزائم

از: محمد عمر فراہی

گرم پانیوں کی تلاش میں "کے مصنف اور پرویز مشرف نے اپنی کتاب In the line of fire میں صاف لکھا ہے کہ باوجود اس کے کہ پاکستانی جنرل ضیاءالحق نے امریکہ سے روس کے خلاف افغانیوں کی مدد کرنے کی درخواست کی تھی امریکہ افغانستان میں کودنے کے لیے تیار نہیں تھا اور ضیاءالحق کو مایوس ہو کر امریکہ سے واپس لوٹنا پڑا ۔اس کے بعد ضیاءالحق نے اپنی انٹلیجنس اور سعودی عرب کی مدد سے افغانیوں کو یہ جنگ جاری رکھنے میں مدد کی ۔اس طرح جب اس مزاحمت نے طوالت اختیار کی اور امریکہ کو محسوس ہوا کہ افغانیوں کی مدد سے روس کو شکست دیا جاسکتا ہے تو اس نے ضیاء الحق سے خود رابطہ کیا اور پھر ضیاءالحق نے اپنی شرطوں پر یا یوں کہہ لیں کہ اپنی قیادت میں اس جنگ کا نقشہ بدل دیا ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس کے باوجود کہ پاکستان کا جھکاؤ چین کی طرف بھی ہے آج بھی پاکستان کے نخرے برداشت کر رہا ہے تو اس لئے کہ امریکہ کو ایک قطبی طاقت کے طور پر سامنے لانے میں پاکستانی حکمرانوں کی اپنی بھی بڑی قربانیاں شامل ہیں۔

لیکن امریکہ کو امریکہ بنانے میں اسرائیل اور یہود نے جو قربانیاں پیش کی ہیں یا یوں کہ لیں کہ اب امریکہ اسرائیلی تھنک ٹینکوں کے بغیر کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کر سکتا ۔خاص طور سے ایک ایسے وقت میں جبکہ امریکہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے مالی اداروں کے قرضوں کے بوجھ کے نیچے جس طرح دھنستا جارہا ہے اس معاشی بدحالی سے ایک بار پھر Rothschild family ہی امریکہ کو اسی طرح باہر نکال سکتی ہے جیسے کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد Rothschild family نے فرانس کی مدد کر کے فلسطین میں یہودیوں کے داخلے کو ممکن بنایا اور وہاں یہودیوں کی پستی بسائی اور دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ کی مالی مدد کر کے یہودیوں کی ریاست کو ممکن بنایا۔

دھیان رہے Rothschild family ہو کہ Illuminati یا موساد یا اقوام متحدہ کے تمام تجارتی اور مالیاتی ادارے یہ سب ایک ہی نیٹ ورک کا حصہ ہیں جن کے لئے ہم عام مفہوم میں اکثر صہیونی مقتدرہ کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔

اگر ہم اس صہیونی نیٹ ورک اور ان کی ذہنیت سے واقف نہیں ہیں تو ہم عالم اسلام یا ایران جو کہ اب ان کے نرغے میں ہے اس بحران کا تجزیہ آسانی کے ساتھ نہیں کر سکتے۔

کہنے کا ہمارا مقصد یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ اس وقت افغانیوں کی مدد کے لیے اترا جب افغانی اپنے پڑوسی ملک پاکستان اور سعودی عرب کی مالی اور عسکری امداد سے روس پر بھاری پڑنے لگے تھے ۔یہاں پر عسکری مدد سے مراد بن لادن اور ان کے عرب مجاہدین ہیں جو القاعدہ کے نام سے متحرک تھے جن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہیں امریکہ نے پیدا کیا تھا جبکہ افغانستان میں روس کے خلاف القاعدہ اور عرب مجاہدین پہلے ہی پہنچ چکے تھے امریکہ بعد میں آیا۔

آج ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے جس طرح regime change کے نام پر جنگ چھیڑ دی ہے ایک وقت میں اسی regime change کے نام سے روس افغانستان میں داخل ہوا تھا اگر آج ایران کچھ دن اپنی ملیشیاؤں کی مدد سے مستقل مزاجی کے ساتھ محاذ پر ڈٹا رہتا ہے یا امریکہ اور اسرائیل کو اس جنگ میں کچھ وقت تک الجھانے رکھنے میں کامیاب رہا تو تاریخ اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے ۔یعنی چین اور روس امریکہ سے اپنی پرانی دشمنی کا بدلہ یا سپر پاور کی مسند کو حاصل کرنے کے لئے اسی طرح ایران کی مدد کر سکتے ہیں جیسے کہ افغانستان میں کبھی امریکہ نے افغانیوں کی مدد کی تھی یا یوکرین میں روس کے خلاف یوروپ کے کئی ملک یوکرین کی مدد کر رہے ہیں ۔لیکن ایران اور اسرائیل کی یہ جنگ افغانستان اور یوکرین کی جنگ کے برعکس بہت پیچیدہ ہے ۔شاید ایران افغانستان اور یوکرین کی طرح اس جنگ میں دیر تک مزاحمت نہ کر سکے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یوروپی ممالک اگر روس کے خلاف یوکرین کی مدد کر رہے ہیں تو اس لئے کہ اگر روس یوکرین پر قبضہ کر لیتا ہے تو وہ پولینڈ کے راستے جرمنی اور برطانیہ کے لئے خطرہ پیدا کر سکتا ہے ۔ یوروپی ممالک اپنے اسی مفاد کے تئیں یوکرین کی مدد کرنے کے لیے مجبور ہیں۔

اسی طرح سویت روس جس کے اپنے استعماری عزائم تھے اور وہ کمیونسٹ نظریات کی بالادستی بھی چاہتا تھا اگر افغانستان میں کامیاب ہو جاتا تو پاکستان ایران اور تمام عرب ممالک کے لیے خطرہ بن سکتا تھا اور اسی لئے ان ممالک کی بھی مجبوری تھی کہ وہ روس کو افغانستان میں کامیاب نہ ہونے دیں۔

ایران کے تنہا رہ جانے یا کسی مسلم ملک کی مدد سے محروم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایران اپنے مسلکی اختلاف اور شیعی بالادستی کی وجہ سے سنی مسلم ممالک کا اعتبار کھو چکا ہے ۔ ماضی قریب میں ایران نے عراق ، شام ،یمن اور لبنان میں سنی مسلمانوں کے قتل عام میں جو کردار ادا کیا ہے ایران سنی ممالک کا اعتبار کھو چکا ہے۔

بدقسمتی سے پڑوسی ملک عراق جس کی کہ صدام حسین کے خلاف ایران نے بھر پور مدد کی تھی وہ بھی اس لائق نہیں کہ مشکل وقت میں ایران کی مدد کر سکے اور بشارالاسد نے آخری وقت میں ایران سے غداری کی جس کی وجہ سے لبنان میں حزب اللہ کی پوری قیادت ختم ہو چکی ہے ۔یعنی اب شام جس سے کہ کبھی ایران کو مدد کی امید تھی وہاں بھی شامی حریت پسندوں کی حکومت قائم ہو چکی ہے ۔ایران کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے غداروں کے نرغے میں ہے ۔ایسے میں ایران کہاں تک اپنے ملک کی سلامتی برقرار رکھ پاتا ہے یہ ایک بہت بڑا سوال ہے ۔

امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف اس کے مخالف سنی ممالک کے درمیان اسی خلش کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جیسا کہ سعودی عرب کی تیل کی ریفائنری پر جو حملہ ہوا ہے اور جس طرح سعودی عرب اور قطر میں موساد کے جاسوس پکڑے گئے ہیں جو وہاں بم دھماکہ کرنے کی سازش کر رہے تھے صہیونی طاقتیں ایران کے خلاف براہ راست عرب ممالک کو بھی اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتی ہیں۔

اس جنگ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پورے عالم اسلام کو کسی نہ کسی طرح آپس میں متصادم کر دیا جاۓ ۔یہ بات ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اگر سعودی عرب ایران کے خلاف آ جاتا ہے تو پاکستانی قیادت کے لئے بھی مشکل کھڑی ہو سکتی ہے کیوں کہ اس نے سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے اور وہ ایران کے خلاف بھی نہیں جا سکتا ہے ۔اگر وہ ایسی نادانی کرتا ہے جیسا کہ افغانستان کے خلاف اس نے محاذ کھول دیا تھا تو اس پورے خطے میں آگ لگ سکتی ہے جس کے بعد اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ لڑنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی ۔

فی الحال یہ بات پاکستان ایران اور مشرق وسطی کے حکمرانوں کو بھی سمجھ میں آ رہی ہے اسی لئے ایران کی طرف سے بار بار یہ بیان آ چکا ہے کہ ان کا مقصد صرف امریکی ٹھکانوں پر حملہ کرنا ہے اور اس نے سعودی تیل کی رفاینری پر حملہ نہیں کیا ہے ۔

پھر بھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کو آنے والے طوفان کا یا تو اندازہ نہیں ہے یہ یا وہ خواب غفلت میں ہیں جبکہ ہنری کسنجر سے لے کر لینڈ سے گراہم تک امریکی سیاستدانوں کے جو صہیونی جارحانہ تیور ہیں وہ بہت ہی فیصلہ کن اور واضح ہیں ۔یہ لوگ مشرق وسطی کو اسرائیل کی بالادستی میں دینے کے لئے اپنے صلیبی اور صہیونی اختلافات کو پس پشت ڈال دی یا ہے اور ایران کے معاملے میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔