از:- ظفر امام قاسمی دارالعلوم بہادرگنج
_______________
آپ کے علم میں یہ بات ہو کہ گزشتہ تین سالوں سے ضلع کشن گنج کے مربوط مدارس کے مابین سالانہ اجتماعی امتحان کا سلسلہ جاری ہے، اسی سنہرے سلسلے کا امسال بھی اعادہ کرتے ہوئے ذمہ دارانِ مدارس کی باہم گفت و شنید سے رابطہ کا یہ اجتماعی امتحان مکمل حسن و خوبی اور اپنی انفرادی و امتیازی شناخت اور اہل مراکز کے مکمل تعاون کے ساتھ 8 / شعبان تا 12/ شعبان 1447ھ مطابق 27/جنوری تا 31 جنوری 2026ء منعقد ہوا۔
مدارس کے نظامِ تعلیم کو مرتب،منظم،مستحکم اور مضبوط بنانے کے لئے مربوط مدارس کا اجتماعی امتحان بھی رابطۂ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے،بحمداللہ رابطۂ مدارس اسلامیہ صوبہ بہار کے صدر محترم حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب قاسمی سبل پور پٹنہ اور اس کے جنرل سکریٹری حضرت مفتی خالد انور صاحب مظاہری پورنوی مدرس مدرسہ سبل پور پٹنہ کی اَن تھک تگ و دو،تکاثرِ میٹنگ اور مدارس کے بار بار کے دورے سے پچھلے کئی سالوں سے دیگر صوبوں کی طرح صوبہ بہار کے کئی اضلاع میں بھی اس پر عمل در آمد ہوتا چلا آرہا ہے،ان اضلاع میں ایک نام ضلع کشن گنج کا بھی شامل ہے، اس کا مکمل سہرا مخدومِ گرامی عزت مآب جناب حضرت اقدس مولانا و مفتی محمد مناظر صاحب نعمانی قاسمی مدظلہ العالی کے سرسجتا ہے کہ یہ امتحان آپ ہی کی جگرکاویوں، دلسوزیوں اور جاں کاہیوں کا رہینِ احسان ہے،کیونکہ اگر اس پر حضرت کی بےلوث توجہ اور اَن تھک دُھن سوار نہ ہوتی تو شاید اب تک کشن گنج کی سرزمین اس سے محروم رہتا۔
یوں تو برسوں سے دیگر صوبوں میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا اجتماعی امتحان منعقد ہوتا چلا آ رہا ہے مگر اس امتحان کا جو نہج اور طریقۂ کار ضلع کشن گنج کو حاصل ہے وہ شاید دوسری جگہوں میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے،بایں طور کہ ممتحن کے سامنے نہ مساہمین کا نام ہوتا ہے نہ پتہ اور نہ ہی کوئی اضافی شناخت بس ایک کاغذ ہوتا ہے جس میں سیریل وائز نمبر شمار ہوتے ہیں،اور انہی نمبرات کے مطابق مساہمین کے گلے میں ایک بلا آویزاں ہوتا ہے،ممتحن نمبر شمار کے مطابق مساہمین کو آواز دیتا ہے،ممتحن کو پہلے ہی اس کا بات پابند کردیا جاتا ہے کہ مساہمین سے سوائے سوال کے اور کوئی گفت و شنید نہ ہو،حسبِ ہدایت ممتحن اس پر عمل پیرا ہوتا ہے اور سیدھے سیدھے سوال جواب کرکے مساہمین کو رخصت کردیا جاتا ہے،کسی ذمہ دار کو تقدیم و تاخیر پر اعتراض نہ ہو اس سے بچنے کے لئے مساہمین کو حروفِ تہجی کے اعتبار سے رکھا جاتا ہے، اور امسال تو اعتراض کے باب میں مکمل قفل بندی کا اہتمام کرتے ہوئے ایسے ممتحنین کا انتخاب عمل میں لایا گیا جن کا تعلق مربوط مدارس سے نہ تھا۔
امسال کچھ ناگفتہ بھی عوارض کی وجہ سے امتحان گو مگو کا شکار تھا مگر رب کے کرم سے امتحان ہوا،اور اس شان سے ہوا کہ یہ امتحان ایک یادگار بن گیا،کیونکہ عین امتحان کے ایام میں کل ہند رابطۂ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند کے صدرِ اعلی استاذ الاساتذہ حضرت اقدس مولانا شوکت علی صاحب بستوی ضلع کشن گنج کے دورے پر تھے، امتحان کا دوسرا دن تھا،جامعہ محمود المدارس کشن گنج کا امتحان ہال طلبہ کے ازدحام سے بھرا ہوا تھا،ممتحنین امتحان لینے میں مصروف عمل تھے کہ عین وسطِ امتحان صدرِ محترم کی امتحان گاہ تشریف آوری ہوئی،طلبہ کی یکسوئی، چہروں پر امتحانی رنگ اور امتحان کے مذکورہ نظام اور طریقۂ کار کو دیکھ کر کافی خوشی اور مسرت کا اظہار فرمایا،چونکہ خدائے ذو المنن نے رابطہ مدارس اسلامیہ ضلع کش گنج کے سکریٹری حضرت مفتی مناظر صاحب نعمانی قاسمی کے اندر تخلیقی صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھردی ہیں،وہ آئے دن کچھ نہ کچھ نئے نویلے کام انجام دیتے رہتے ہیں،رابطہ امتحان کے انعامی پروگرام کے موقع پر جہاں ممتاز طلبہ کو گراں قدر انعامات سے نوازا جاتا ہے وہیں مفتی صاحب اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ متعلقہ اداروں کو خوب صورت اور دیدہ زیب نشانِ امتیاز سے بھی سرفراز کرتے ہیں، اہل مدارس ان نشانہائے امتیاز کو اپنا جداریہ بنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور واردین و صادرین کا قافلہ بھی ان کو دیکھ کر عمدہ تاثر لے جاتے ہیں،حضرت صدر محترم نے اپنے دروے کے درمیان مختلف مدارس میں جب ان نشانہائے امتیاز کو آویزاں دیکھا تو مزید خوش ہوئے اور مفتی صاحب کو بےپناہ دعاؤں سے نوازا۔
رابطہ مدارس عربیہ ضلع کشن گنج کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اس اجتماعی سالانہ امتحان کو مکمل ہونے میں چار دن کا وقت لگا،جس کے لئے چار مراکز کا انتخاب عمل میں لایا گیا،امتحان میں شرکت کرنے والے مربوط مدارس کی کل تعداد 26/ جبکہ مساہمین کی تقریبا ایک ہزار رہی، انتخابِ مراکز میں خاص طور پر اس بات کو پیش نظر رکھا گیا کہ آسانی کے ساتھ اس مرکز کے قرب و جوار کے طلبۂ مدارس شریک ہوسکیں، اسی طرح امتحان میں شریک ہونے والے مساہمین کو تین گروپوں میں بانٹا گیا تھا،ایک تا دس والوں کو فرعِ اول،ایک تا بیس والوں کو فرعِ ثانی اور مکمل قرآن والوں کو فرعِ ثالث میں رکھا گیا،ہر فرع کے لئے ایک ایک ممتحن کا انتخاب کیا گیا،کل ملا کر تین ممتحنوں کی خدمات لی گئیں، ہرمرکز کی ہرفرع کے نمبرات میں توازن اور ہمواری رکھنے کے لئے اس بات کا لحاظ رکھا گیا کہ جس ممتحن نے ایک مرکز میں فرع اول کے مساہمین کا امتحان لیا انہی سے دوسرے مراکز کے اسی فرع کا امتحان دلوایا گیا تاکہ دیگر مراکز کے نمبرات میں بھاری تفاوت نہ ہو کیونکہ نمبرات دینے کے سلسلے میں ہرممتحن کا اپنا ذوق اور مزاج ہوتا ہے،کوئی کشادہ دست ہوتا ہے تو کوئی تنگ دست،فرع اول کے امتحان کے لئے جناب قاری مزمل صاحب التاباڑی،فرع ثانی کے امتحان کے لئے جناب قاری عبید اللہ صاحب ہالا مالا اور فرع ثالث کے امتحان کے لئے جناب مولانا ہاشم انور صاحب قاسمی مہتمم جامعہ ام کلثوم للبنات کجلامنی کشن گنج منتخب ہوئے۔
27/ جنوری 2026ء بروز منگل سے اس کا آغاز ہوا جو 31/ جنوری بروز ہفتہ تک چلا،پہلے دن کا امتحان دارالعلوم بہادرگنج میں منعقد ہوا،دوسرے دن کا جامعہ محمودالمدارس میں،تیسرے دن کا جامعہ حسینیہ مدنی نگر کشن گنج میں اور چوتھے دن کا دارالعلوم نعمانیہ شیشہ گاچھی پواخالی میں،بحمداللہ ہر سینٹر والوں نے عمدہ اور اچھے انتظامات کئے مگر دارالعلوم نعمانیہ والوں کی مہمان نوازی بےمثال اور یادگار رہی، بالخصوص ادارے کے مہتمم محترم الحاج مولانا اخلاق صاحب نے کافی خلوص اور اپنائیت کا مظاہرہ کیا اور ادارے کے مؤقر استاذ مخدوم مکرم جناب قاری اسعد صاحب نے ہمک ہمک کر جو خاطر تواضع کی وہ تادمِ واپسیں یادوں کا حصہ رہیں گی،اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ قاری صاحب کی مہمان نوازی کسی نوروزی سے کم نہ تھی،ان سب سے بڑھ کر ان کے والہانہ انداز اور اپنے پن نے مزید محبت افروزی کا کام کیا۔
یہ مخدومِ مکرم مفتی مناظر صاحب نعمانی قاسمی کی اس نا اہل پر اول دن سے ہی کرم گستری رہی ہے کہ آپ اس نا اہل کو اکثر مواقع میں یاد رکھتے ہیں،جب سے امتحان کا یہ سلسلہ شروع ہوا ہے تب سے ہی اپنے ساتھ رکھتے ہیں،اس اثناء میں مجھے آپ سے کافی کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا،یہی وجہ ہے کہ پچھلے دو سالوں سے آپ نے امتحان کے نتائج کا بار اسی نا اہل کے دوشِ ناتواں پر لاد دیا ہے۔
بطور معاون میری امسال کی شرکت بایں معنی بھی یادگار رہی کہ امتحان کے ایام میں صدرِ محترم کے ساتھ ایک مختصر سے سفر میں ساتھ رہنے کا موقع ملا،یہ پہلی بار تھا کہ جب میں دارالعلوم کے کسی استاذ وہ بھی کبارِ استاذ کے ساتھ سفر کر رہا تھا،ابتداءِ فروری کی خنک رات،سرد ہواؤں کی بانسری،دور افق پر ٹمٹماتے ستارے،کہروں کے باریک پردوں سے جھانکتی چاند کی چاندنی،حضرت صدر محترم کی معیت اور مفتی مناظر صاحب و مولانا ہاشم صاحب کی سرگوشیاں،آہ مزہ آگیا تھا،خدا کرے کہ ایسے مواقع بار بار ملیں۔
چار دنوں کا یہ امتحان دیکھتے ہی دیکھتے کنارے لگ گیا اور جب ہم واپس اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہوئے تو ہمارے ہاتھوں میں جہاں ظاہری طور پر حضرت مفتی صاحب کی طرف سے عطا کردہ ایک ایک شاندار بیگ،اس کے اندر یومیہ ضروریاتِ زندگی کی کچھ چیزیں (جو ایک خوشنما جیبی بیگ میں بند تھیں اور جو دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں) اور ایک مخملی تولیہ تھا تو وہیں باطنی اعتبار سے بھی ہمارے دماغوں میں ایک ایک ایسی کشکول موجود تھی جس کے اندر انوکھے تجربات اور نادر مشاہدات کی منقش گٹھری بند تھی۔