کشن گنج کے بیلوا پورب بستی میں سیرت النبی ﷺ کے اجلاسِ عام کا کامیاب انعقاد

کشن گنج، 18 اگست: تنظیم ابنائے ندوہ کشن گنج کی سرکردگی میں بیلوا پورب بستی میں سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر سلسلہ وار پروگرام کا چوتھا شاندار اور کامیاب اجلاسِ عام منعقد ہوا۔ اجلاس بعد نمازِ مغرب شروع ہوا اور دیر رات تک جاری رہا۔

پروگرام کا آغاز مولانا ابو ریحان ندوی صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مولانا عبد الوکیل قاسمی صاحب اور قاری عبیداللہ مظاہری صاحب نے نعتیہ کلام پیش کرکے حاضرین کے دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے سرشار کیا۔ اجلاس کی نظامت مولانا شمیم ریاض ندوی صاحب نے انجام دی۔

ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے مولانا آفتاب اظہر صدیقی صاحب نے کہا کہ نبی پاک ﷺ کی رفعت و بلندی کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ آپ ﷺ کی رحمت پوری کائنات کو محیط ہے۔ آپ ﷺ رحمت للعالمین بنا کر بھیجے گئے اور آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور خیر کا سرچشمہ ہے۔

حضرت مولانا زاہر صاحب مظاہری، خلیفہ و مجاز حضرت پیر طلحہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، نے اپنے خطاب میں سیرتِ طیبہ کے ایک ایمان افروز واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"کیا آپ حضرات کو کلید بردارِ کعبہ کا واقعہ معلوم ہے؟”
انہوں نے بتایا کہ ہجرت سے قبل جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے کعبۂ مشرفہ کے اندر داخل ہونے کی خواہش ظاہر فرمائی، لیکن حضرت عثمان بن طلحہؓ، جو اس وقت کعبہ کے کلید بردار تھے، نے چابی دینے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب یہ چابی میرے ہاتھ میں ہوگی اور میں جسے چاہوں گا دوں گا۔

فتحِ مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان بن طلحہؓ کو بلایا اور کعبہ کا دروازہ کھلوایا۔ بعد ازاں آپ ﷺ نے کعبہ کی چابی انہی کے حوالے فرما دی اور فرمایا کہ یہ چابی ہمیشہ تمہارے خاندان میں رہے گی۔ صحیح بخاری کی روایت میں بھی فتحِ مکہ کے موقع پر حضرت عثمان بن طلحہؓ کے ذریعے کعبہ کا دروازہ کھولنے کا ذکر موجود ہے۔

حضرت مولانا زاہر صاحب نے کہا کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے حسنِ اخلاق، عفو و درگزر اور شانِ رحمت کی عظیم مثال ہے کہ جس شخص نے کبھی آپ ﷺ کو کعبہ کی چابی دینے سے انکار کیا تھا، فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے اسی کے خاندان کو کعبہ کی کلید برداری کا شرف عطا فرمایا۔

حضرت مولانا ابصار صاحب ندوی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے، اسی میں ہم سب کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مولانا شمیم ریاض ندوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کا بنیادی کام انسانیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا، رجال سازی اور افراد سازی تھا۔ آپ ﷺ نے اس عظیم کام کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایمان لائے، جو آپ ﷺ کے سب سے قریب ترین افراد میں سے تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک باکردار اور مؤثر قائد سے سب سے پہلے اس کے قریبی لوگ متاثر اور مستفید ہوتے ہیں۔

مولانا فیض الرحمٰن ندوی، مہتمم جامعہ اسلامیہ کشن گنج نے فرمایا کہ محبتِ رسول ﷺ ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ نبی کریم ﷺ سے محبت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوسکتا، جیسا کہ حدیثِ مبارک میں ہے:
«حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
یعنی: "یہاں تک کہ میں اسے اس کے بیٹے، اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”

مولانا منت اللہ ندوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے بچپن اور آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کی روشنی میں ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے۔ نسلوں کی صحیح تربیت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

آخر میں تشکر کے کلمات پیش کرتے ہوئے مولانا ساجد ندوی صاحب نے کہا کہ اس پروگرام کو سجانے اور سنوارنے کے لیے مجھے ایک عجیب سی کیفیت حاصل رہی۔ میں دن بھر درودِ پاک ﷺ کے ورد میں رہا، جس سے مجھے بہت روحانی سرور حاصل ہوا۔ پیارے نبی ﷺ سے محبت بہت بڑا سرمایہ ہے۔ اللہ رب العزت ہر مومن کو ایسی سچی محبت نصیب فرمائے۔

محبتِ رسول ﷺ میں سرشار مولانا ساجد ندوی صاحب کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ انہوں نے تمام علماء کرام اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا، نیز عوام الناس کی شرکت پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

اجلاس میں حضرت مولانا زاہر صاحب مظاہری، حضرت مولانا ابوذر صاحب ندوی، مولانا فیض الرحمٰن ندوی، حضرت مولانا ابصار صاحب ندوی، حضرت مولانا ابو سالک صاحب ندوی، حضرت مولانا منت اللہ صاحب ندوی، حضرت مولانا آفتاب اظہر صدیقی، حضرت مولانا عبد الوکیل قاسمی، حضرت مولانا آصف قاسمی، حضرت مولانا غلام ربانی ندوی، حضرت مولانا فاروقی ندوی، حضرت مولانا مشتاق ندوی، حضرت مولانا رحیم الدین ندوی، مشہور تاجر حافظ ذیشان صاحب، قاری نور الزماں رحمانی صاحب، فیاض صاحب، مکھیا فخر صاحب، جناب احقر صاحب اور مکھیا شبیر صاحب سمیت بڑی تعداد میں علماء، عمائدین اور عوام نے شرکت کی۔
آخر میں اجتماعی دعا کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔