تحریر: مسعود جاوید
آج دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جسے ہم اسلامی ریاست کہہ سکیں اور جسے بطور ماڈل دنیا کے تمام ازم کے خلاف پیش کر سکیں ۔ گرچہ سعودی عرب کا آفیشل نام مملکت عربیہ سعودیہ اور اس کے نام سے ظاہر ہے کہ یہاں کے حکمران اپنی مملکت کو اسلامی مملکت نہیں کہتے اسی طرح خليجى ممالك : امارات , قطر ، كويت, بحرين ، عمان، یا مصر ، اردن ، شام ، لبنان، یمن ، مراکش ،تونس اور الجزائر ان میں سے کسی نے بھی اپنی ریاست اور حکومت کو اسلامی ریاست کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ نہ زبان سے اور نہ ریاست کا نام ” اسلامی” رکھ کر۔ ۔۔۔۔ لیکن افسوس ہمارے یہاں ایک مخصوص طبقہ کے بعض افراد جو ایران پر (بغیر اقوام متحدہ کی منظور ی کے)، سوپر پاور اور بغل بچہ کی طرف سے حملہ کے تناظر میں اس جاری جنگ کو اسلام کی جنگ باور کرانے پر تلے ہیں۔ اور شیعہ سنی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
ہم ایک آزاد سیکولر جمہوری ملک کے شہری ہیں ۔ جاری جنگ کو اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ بغیر کسی جواز اور اقوام متحدہ کی منظوری کے ، ایک ملک پر حملہ کیا گیا اور مہذب دنیا میں رائج طور طریقے اور اقوام متحدہ کا چارٹر کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کی سلامتی اور خودمختاری میں دخل دینے کی اجازت نہیں دیتا ۔
حکمران کی تبدیلی یا عدم تبدیلی اس ملک کی عوام کی ذمّہ داری ہے ۔ کسی دوسرے ملک کو داروغہ بننے کی نہ اجازت ہے اور نہ ضرورت ۔ ہر ملک، خواہ خوشحال ہو یا بدحال، اپنے ملک کی سلامتی اور خودمختاری کا دفاع کرنے کا مجاز ہے ۔
سرحدوں اور دیگر وسائل کا پوری طاقت اور اسٹریٹجی سے دفاع کرنا ہر ملک کی ذمّہ داری ہے ۔ یہ حق جس طرح اہل فارس کو ہے اسی طرح اہل عرب کو بھی حاصل ہے ۔
دراصل یہ ملکوں کے معاملات ہیں اس میں خواہ مخواہ ہم عرب و عجم یا شیعہ سنی کے نام پر فریق نہ بنیں تو بہتر ہوگا ۔ ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے گرچہ یہ صاف ہے پھر بھی اس کا حقیقی علم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہے اس لئے ہم مظلوم کی فتح یابی اور ظالم کی شکست فاش کی دعا کریں۔
خوشحالی اور ترقی کی دوڑ میں برق رفتاری سے شامل خلیجی مماک کے لئے اور ایران کے لئے دعا کریں اللہ ان سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ خلیجی ممالک کی بربادی کا بالمباشر اثر وہاں بطور ملازم اور تاجر ٩٠ لاکھ ہندوستانیوں اور ان کی فیملی پر پڑےگا یہ بھی ذہن نشین رہے ۔