کیا ایران مذہبی جنگ لڑ رہا ہے؟

از:- شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز

غاصب ریاست یعنی اسرا ئیل رونا رو رہی ہے کہ ایران کٹر اسلامی ملک ہے، وہاں شدت پسند مسلمان ہیں، اسلامی دہشت گردی وہاں سے جنم لیتی ہے، اور اس را ئیل ہی کو نہیں ساری دنیا کے وجود کو اس سے خطرہ ہے، اس لیے ایران کی تباہی اور بربادی ضروری ہے ۔ امریکہ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا کر ایران کو کٹر اسلامی اور دہشت پسند ملک قرار دیتا ہے، بلکہ کہتا ہے کہ امریکہ ہی نہیں سارا یوروپ ایران کے نشانے پر ہے ۔ لیکن کیا یہ سب باتیں واقعی سچ ہیں؟ یہ بات تو سچ ہے کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جہاں اسلامی حکومت قائم ہے، بھلے ہی وہ شیعی شریعت پر عمل کرنے والی حکومت ہو ۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ ایران اپنے نام کے ساتھ اسلامی کا لاحقہ لگانے میں فخر کرتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ اس سے ساری دنیا کا وجود خطرے میں ہے ٹرمپ اور نیتین یاہو کا سب سے بڑا جھوٹ ہے ۔ چند حقائق جان لیں؛ ایران کوئی اسلامی جنگ یعنی جہاد نہیں کر رہا ہے، یہ اس کے اپنے دفاع کی جنگ ہے، اور دفاع کا اسے اسی قدر حق حاصل ہے جس قدر حق کہ دنیا کے دیگر ممالک کو حاصل ہے ۔ اب یہ دیکھیں کہ مذہبی جنگ کون لڑ رہا ہے ۔ ابھی کچھ دن پہلے یاہو کا بیان آیا ہے کہ مسیحا کے آنے تک یہ جنگ چلے گی اور مسیحا آنا ہی چاہتا ہے ۔ بتا دیں کہ جس مسیحا کا صیہونیوں کو انتظار ہے وہ دجال ہے ۔ دجال کی آمد کے لیے یہودی کتابوں میں جو پیشین گوئیاں ہیں ان میں سے کئی پوری ہوگئی ہیں، ہاں مسجد اقصٰی کی جگہ تیسرے ہیکل سلیمانی کی تعمیر باقی ہے ۔ اور یہ جنگ اسی تیسرے ہیکل کی تعمیر کے لیے اور دجال کی آمد کو ممکن بنانے کے لیے کی جا رہی ہے ۔ لہذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ایران کی نہیں اس را ئیل کی جنگ مذہبی ہے ۔ اور پوری دنیا کے لیے خطرہ بھی کیونکہ دجال کے سواگت کے لیے صیہونی ساری دنیا کو جنگ میں جھونک سکتے ہیں ۔ ادھر امریکہ کے جو صیہونی عیسائی ہیں وہ بھی اس را ئیل کے ساتھ ہیں کیونکہ انہیں بھی ایسے ہی حالات میں اپنے مسیح یعنی عیسٰی علیہ السلام کی آمد کا یقین ہے ۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی آمد کی پیشین گوئی بھی اس را ئیل کے قیام اور جنگ سے وابستہ ہے ۔ اسی لیے ٹرمپ کے دفتر میں عیسائی راہب اس کی کامیابی کی دعا مانگتے نظر آئے تھے اور ایران کے خلاف جنگ کو مذہبی جنگ اور ٹرمپ کو خدا کا منتخب کردہ قرار دے رہے تھے ۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ امریکی وزراء اپنی فوج سے کہہ رہے ہیں کہ یہ مسیح کو بلانے کی جنگ ہے، یعنی مذہبی جنگ ۔ تو یہ خوب واضح ہے کہ ایران تو دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے اور یاہو و ٹرمپ مل کر مذہبی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ٹرمپ کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے عیسائیوں کی حفاظت کا قدم اٹھایا ہے، کہا یہ بھی گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ سب سے بڑی صلیبی جنگ ہے ۔ ٹرمپ خود کو عیسائی بھی مانتا ہے اور یہودی بھی، وہ صیہونی عیسائی تو ہے ہی، یعنی ایسا عیسائی جو صیہونیت کے مفادات کے لیے کام کرتا ہے ۔ دلچسپ بات دیکھیں کہ ٹرمپ کا داماد یہودی ہے اور ٹرمپ کی بیٹی بھی یہودی ہے ۔ اور ٹرمپ یہ اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے اپنے داماد کے کہنے پر یہ جنگ شروع کی ہے ۔ یہ ہے صیہونیت اور امریکی سیکولرزم کا حقیقی چہرہ!

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔