نئی دہلی: پارلیمانی سیاست میں ہنگامہ آرائی اور بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے درمیان لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کا نوٹس پیش کیے جانے کے بعد حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ایوان کی حالیہ کارروائی کے دوران پیش آنے والے ہنگامے اور احتجاج کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور انڈین نیشنل کانگریس کی خواتین اراکین ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئی ہیں، اور دونوں جانب سے تحریری شکایات و الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی خواتین ممبرانِ پارلیمنٹ نے اسپیکر کو خط لکھ کر اپوزیشن، بالخصوص انڈین نیشنل کانگریس کی خواتین اراکین پر ایوان کے وقار کو مجروح کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ حالیہ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے وزیر اعظم کی نشست کے قریب ہنگامہ آرائی کی، ایوان کے وسط میں جمع ہوئیں، کاغذات پھاڑے اور پارلیمانی آداب کی خلاف ورزی کی۔ بی جے پی ارکان نے مطالبہ کیا کہ ایسے رویّے کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے تاکہ ایوان کی حرمت برقرار رہ سکے۔
دوسری جانب کانگریس کی خواتین ممبران نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسپیکر سے کہا ہے کہ ان کا احتجاج پرامن اور قواعد کے مطابق تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے اور اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ تنازع اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کو صدارتی خطاب پر تحریکِ تشکر کے دوران بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان میں احتجاج شروع ہوا۔ بعد ازاں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر بد نظمی اور بدسلوکی کے الزامات لگائے گئے۔
پارلیمانی مبصرین و تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتِ حال نہ صرف ایوان کی کارروائی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بڑھتی خلیج کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو ہونے والے اجلاس میں قانون سازی کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب اسپیکر کے فیصلے پر مرکوز ہیں کہ وہ شکایات اور جوابی الزامات کے تناظر میں کیا کارروائی کرتے ہیں۔