از:- محمد علم اللہ، لندن
چند روز پہلے لندن میں ہمارے مہربان محمد غزالی خان صاحب نے ایک مختصر سی ویڈیو بھیجی۔ ویڈیو پرانی تھی، بلیک اینڈ وائٹ، آواز نہیں تھی، لیکن منظر ایسا تھا کہ آدمی چند لمحوں کے لیے ٹھہر جائے۔ مولانا محمد علی جوہر گول میز کانفرنس میں کھڑے کچھ کہہ رہے تھے اور سامنے انگریز بیٹھے تھے، بڑے غور سے، بڑی توجہ سے ان کی بات سن رہے تھے۔ ایک غلام ملک کا آدمی جبر کے سامنے کھڑا تھا، مگر اس کے انداز میں غلامی نہیں تھی، لہجے میں عجز نہیں تھا، چہرے پر خوف نہیں تھا۔ وہ بول رہا تھا اور سامراجی اقتدار کے نمائندے خاموشی سے اسے سن رہے تھے۔
میں اس منظر کو دیکھ ہی رہا تھا کہ بے اختیار میری نظر نیچے کمنٹس پر پڑی۔ زیادہ تر کمنٹس پاکستانیوں کے تھے اور مجھے یہ دیکھ کر بے حد تکلیف ہوئی کہ جنھیں مولانا محمد علی جوہر کو اپنے محسنوں میں شمار کرنا چاہیے، انہی میں سے بہت سے لوگ انہیں گالیاں دے رہے تھے، برا بھلا کہہ رہے تھے، ایسے نازیبا الفاظ استعمال کر رہے تھے کہ پڑھتے ہوئے آدمی کا دل بیٹھ جائے۔ مجھے سچ کہوں تو اس وقت بہت افسوس ہوا۔ میں سوچنے لگا کہ ہم نے اپنے ہیروز کے ساتھ یہ کیا کر دیا ہے؟ جن لوگوں نے اپنی زندگیاں ہمارے آج کے لیے قربان کر دیں، ہم نے انہیں بھی اپنی سیاست، اپنی نفرت، اپنی عصبیت اور اپنی موجودہ مصلحتوں کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ آدمی تاریخ سے اختلاف کرے، کسی شخصیت کے سیاسی فیصلوں سے اختلاف کرے، کسی نظریے کو رد کرے، یہ سب اپنی جگہ، مگر کیا اختلاف کا آخری درجہ گالی ہے، جھوٹ یا بہتان تراشی ہے؟
ابھی اس دکھ سے پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کا ایک بیان سامنے آ گیا۔ 14 اگست 2026 کو لکھنؤ میں تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اترپردیش کے وزیراعلیٰ نے سماج وادی پارٹی اور اعظم خان کو نشانہ بنایا اور کہا کہ سماج وادی پارٹی ایک ایسے شخص کے پیچھے کھڑی ہے جس نے رام پور میں جوہر یونیورسٹی اس شخص، محمد علی جوہر، کے نام پر بنائی جو ہندوستان کی تقسیم کا ذمہ دار تھا اور جس نے ملک کی آزادی کی مخالفت کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سماج وادی پارٹی اقتدار میں آ کر اعظم خان کو وزیر داخلہ بناتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اترپردیش میں دوبارہ فسادات کرانا چاہتی ہے۔ انڈین ایکسپریس نے 14 اگست کو یہ بات رپورٹ کی اور دی ہندو نے 16 اگست کو اس پورے تنازع کی تفصیل شائع کی۔
مجھے معلوم ہے کہ یہ ایک سیاسی تقریر تھی اور اس میں اصل نشانہ اعظم خان اور سماج وادی پارٹی تھی، لیکن سوال یہ ہے کہ کسی موجودہ سیاسی مخالف کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ایسے شخص کو کیوں گھسیٹا جائے جو 1931 میں دنیا سے رخصت ہو چکا تھا؟ کیوں ایک ایسے آدمی کو، جس کی زندگی انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد میں گزری، ’’آزادی کا مخالف‘‘ بنا دیا جائے؟ اور کیوں ایک ایسے شخص کو ہندوستان کی تقسیم کا ذمہ دار قرار دیا جائے جو تقسیم سے نو برس پہلے ہی دنیا سے جا چکا تھا؟
میں یوگی آدتیہ ناتھ کی باتوں کو عموماً بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا، اس لیے کہ سیاست دان جب تاریخ کو اپنی موجودہ سیاست کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں تو ان کے بیانات میں تاریخ کم اور سیاست زیادہ رہ جاتی ہے۔ لیکن آج جواب دینے پر مجبور ہوں، اس لیے کہ یہاں معاملہ کسی معمولی سیاسی شخصیت کا نہیں، مولانا محمد علی جوہر کا ہے۔ اور میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ مولانا محمد علی جوہر میرے لیے محض تاریخ کی ایک شخصیت نہیں ہیں۔ میں ان کا مداح ہوں، ان کی تحریریں پڑھتا رہا ہوں، ان کی صحافت سے متاثر ہوا ہوں، ان کی خطابت، ان کی بے باکی اور ان کے سیاسی شعور نے ہمیشہ مجھے متاثر کیا ہے۔ اس لیے جب کوئی ان کے بارے میں ایسی بات کہتا ہے جو تاریخ کے بنیادی حقائق سے ٹکراتی ہو تو خاموش رہنا میرے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
مولانا محمد علی جوہر کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ان کی زندگی کو دیکھنا ہوگا، نہ کہ 1947 کے بعد کی سیاست کو اٹھا کر 1931 میں مر جانے والے ایک شخص پر چسپاں کرنا ہوگا۔ مولانا محمد علی جوہر 4 جنوری 1931 کو لندن میں وفات پا گئے۔ پاکستان 1947 میں بنا، لاہور قرارداد 1940 میں منظور ہوئی۔ یعنی جس شخص پر آج پاکستان بنانے کی ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے، وہ پاکستان بننے سے سولہ برس پہلے اور لاہور قرارداد سے تقریباً نو برس پہلے دنیا سے جا چکا تھا۔ یہ کوئی معمولی تاریخی تفصیل نہیں جسے تقریر کے زور پر نظرانداز کر دیا جائے۔
ہاں، مولانا محمد علی جوہر آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ رہے، اس کے صدر بھی رہے، اور بعد کے زمانے میں ان کی سیاسی ترجیحات کانگریس سے مختلف ہوئیں۔ اس میں چھپانے کی کیا بات ہے؟ تاریخ کو دیانت داری سے پڑھنے والا ان باتوں کو چھپاتا نہیں۔ لیکن مسلم لیگ سے وابستگی اور پاکستان کے قیام کا ذمہ دار ہونا دو الگ باتیں ہیں، اور ان دونوں کو ایک بنا دینا تاریخ کے ساتھ زیادتی ہے۔ مولانا 1923 میں کانگریس کے صدر بھی رہے تھے۔ ان کی سیاسی زندگی میں تبدیلیاں آئیں، اختلافات پیدا ہوئے، گاندھی سے اختلاف ہوا، کانگریس سے دوری بڑھی، مسلم لیگ کے ساتھ ان کی وابستگی مضبوط ہوئی۔ لیکن یہ سب کچھ تاریخ ہے، غداری کا ثبوت نہیں۔
مولانا محمد علی جوہر چاہتے تو ایک آرام دہ زندگی گزار سکتے تھے۔ آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی، انگریزی پر غیر معمولی قدرت رکھتے تھے، برطانیہ میں رہے، سرکاری ملازمت کی، ان کے سامنے ترقی کے راستے کھلے ہوئے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی صلاحیتیں اپنی ذات کے لیے استعمال نہیں کیں۔ انہوں نے صحافت کو اپنا ہتھیار بنایا، ’’کامریڈ‘‘ نکالا، ’’ہمدرد‘‘ نکالا اور برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر ایسی بے باکی سے تنقید کی کہ ان کے اخبارات بند کیے گئے، وہ قید ہوئے اور برسوں تک پابندیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرتے رہے۔ ہندوستانی حکومت کے اپنے ’’آزادی کا امرت مہوتسو‘‘ کے ریکارڈ میں بھی ’’کامریڈ‘‘ اور ’’ہمدرد‘‘ کو برطانوی اقتدار کے خلاف ان کی مزاحمتی صحافت کے طور پر یاد کیا گیا ہے اور ان کی متعدد گرفتاریوں کا ذکر موجود ہے۔
یہ وہی محمد علی جوہر ہیں جنہوں نے خلافت تحریک میں قیادت کی اور گاندھی کے ساتھ عدم تعاون کی تحریک میں شانہ بشانہ کام کیا۔ ان کے اور شوکت علی کے سفر، جلسے، گرفتاریاں اور قربانیاں اس دور کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کی والدہ بی اماں کی وہ تصویر بھی ہماری قومی یادداشت کا حصہ ہے جس میں ایک ماں اپنے بیٹوں کو انگریز کے سامنے سر نہ جھکانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اور پھر وہ گول میز کانفرنس کا منظر ہے جس نے چند روز پہلے مجھے اندر سے ہلا دیا تھا۔ وہی تصویر، وہی آدمی، وہی انگریز۔ مولانا لندن پہنچے تو اپنے ساتھ کسی غلام قوم کی عاجزی نہیں، اس قوم کی آزادی کا مطالبہ لے کر پہنچے۔ نومبر 1930 میں گول میز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ آزاد ملک میں مرنا پسند کریں گے اور اگر ہندوستان کو آزادی نہیں دی جاتی تو انہیں ہندوستان واپس جانے کے بجائے وہیں قبر دینا پڑے گی۔ ان کے اپنے اشعار میں بھی یہی بے خوفی اور عزم صاف دکھائی دیتا ہے:
دورِ حیات آئے گا قاتل، قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد
وہ اپنے الفاظ کے مطابق ہی رہے؛ 4 جنوری 1931 کو لندن میں ان کا انتقال ہوا اور جسدِ خاکی کو بیت المقدس لے جا کر دفن کیا گیا۔
یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے۔ ایک آدمی غلام ہندوستان سے اٹھتا ہے، برطانیہ کے دارالحکومت میں کھڑا ہوتا ہے، وہاں کے حاکموں کے سامنے کہتا ہے کہ میں غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا۔ پھر وہ واقعی واپس نہیں جاتا، مر جاتا ہے اور فلسطین میں دفن ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے اس کے لیے موت بھی اختتام نہیں تھی:
تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے
پر غیب سے سامانِ بقا میرے لیے ہے
اور آج اسی شخص کے بارے میں ایک منتخب حکومت کا سربراہ کہتا ہے کہ وہ ہندوستان کی آزادی کا مخالف تھا۔
آخر تاریخ کے ساتھ ہمارا یہ سلوک کب تک چلے گا؟ اور یوگی کی جانب سے مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں اس طرح کی بدتمیزی پہلی بار نہیں کی گئی۔ نومبر 2025 میں یوگی آدتیہ ناتھ نے گورکھپور میں وندے ماترم کے حوالے سے تقریر کرتے ہوئے مولانا محمد علی جوہر اور محمد علی جناح دونوں کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ 1923 میں جوہر کی وندے ماترم کی مخالفت نے بعد میں ہندوستان کی تقسیم کی راہ ہموار کی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق یوگی نے اس موقع پر وندے ماترم کی مخالفت کو نئے جناح پیدا کرنے کی سازش سے جوڑا، جبکہ انڈیا ٹوڈے نے ان کے اس دعوے کو بھی رپورٹ کیا کہ 1923 میں جوہر کے کانگریس صدر بننے کے بعد وندے ماترم کے معاملے پر ان کا رویہ تقسیم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
یہاں بھی مسئلہ وہی ہے۔ ایک واقعہ 1923 کا، تقسیم 1947 کی، درمیان میں چوبیس برس کی پوری سیاسی تاریخ، عالمی جنگ، برطانوی سامراج کی بدلتی حکمت عملیاں، کانگریس کی سیاست، مسلم لیگ کی سیاست، جداگانہ انتخاب، نہرو رپورٹ، چودہ نکات، گول میز کانفرنسیں، 1935 کا ایکٹ، 1937 کے انتخابات، دوسری جنگ عظیم، 1942 کی تحریک، 1945-46 کے انتخابات، کابینہ مشن، ڈائریکٹ ایکشن، فرقہ وارانہ قتل و غارت اور آخرکار ماؤنٹ بیٹن کا منصوبہ؛ اور اس پوری پیچیدہ تاریخ کو ایک شخص کے ایک واقعے سے جوڑ کر اس کو موردِ الزام ٹھہرا دینا، کیا یہ درست ہے؟
تاریخ کے کچھ کرداروں کو یوگی جیسے لوگوں نے اپنی سہولت کے مطابق غدار بنا دیا اور کچھ کرداروں کو اپنی سہولت کے مطابق مجسمۂ وطن پرستی بنا کر رکھ دیا۔ یوگی یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کے مداح ساورکر نے کیا کیا تھا؟ وہ کیوں نہیں بتاتے کہ انڈمان کی جیل سے انہوں نے بارہا رحم کی درخواستیں کیں۔ 14 نومبر 1913 کی درخواست میں انہوں نے برطانوی حکومت سے رہائی کی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ رہائی کی صورت میں وہ ’’حکومت کی کسی بھی حیثیت میں‘‘ خدمت کے لیے تیار ہیں اور خود کو ’’گمراہ بیٹا‘‘ کہہ کر حکومت کے دروازے کی طرف واپسی کی بات کی۔ 30 مارچ 1920 کی درخواست بھی برطانوی حکومت سے رحم اور رہائی کی اپیل تھی۔
پھر 1942 آتا ہے۔ جب گاندھی ’’ہندوستان چھوڑو‘‘ کا نعرہ دے رہے تھے، جب کانگریس کے ہزاروں کارکن جیل جا رہے تھے اور برطانوی حکومت کے خلاف ملک گیر مزاحمت کھڑی ہو رہی تھی، ہندو مہاسبھا نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا۔ ساورکر نے ہندو مہاسبھا کے ارکان سے کہا کہ جو لوگ بلدیاتی اداروں، مقامی اداروں، اسمبلیوں یا فوج میں عہدوں پر ہیں، وہ اپنے عہدوں پر قائم رہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس ایک واقعے سے ساورکر کی پوری سیاسی زندگی کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ تاریخ اس قدر آسان بھی نہیں۔ ساورکر کے حامی ان درخواستوں کی مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں، ہندو مہاسبھا کی جنگی پالیسی کے بھی اپنے دلائل تھے۔
مولانا محمد علی جوہر کے معاملے میں تو یہ ستم اور بھی عجیب ہے۔ ہندوستان کی حکومت نے 1978 میں ان کی پیدائش کی صد سالہ یاد میں ان کے نام کا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ سرکاری ڈاک ریکارڈ میں انہیں صحافی، آزادی کی تحریک کے کارکن اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرنے والی شخصیت کے طور پر یاد کیا گیا ہے؛ ہندوستانی محکمۂ ڈاک کے ریکارڈ کے مطابق یہ ٹکٹ 10 دسمبر 1978 کو جاری ہوا تھا۔ یعنی آج جس شخص کو ہندوستان کی تقسیم اور آزادی کی مخالفت کا ذمہ دار بتایا جا رہا ہے، اسی ہندوستانی ریاست نے برسوں پہلے اس کی صد سالہ پیدائش پر اس کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا اور اسے آزادی کی جدوجہد میں خدمات انجام دینے والی شخصیت کے طور پر یاد کیا تھا۔ یہ بھی تاریخ ہے۔ اس کا جواب بھی تاریخ ہی سے دینا ہوگا۔
کیا ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں؟ کیا ہم اپنے محسنوں کو بھی اپنی موجودہ سیاست کے مطابق دوبارہ پیدا اور دوبارہ قتل کرتے رہیں گے؟ یوگی جی! سیاست کیجیے، ضرور کیجیے۔ اعظم خان پر تنقید کیجیے، سماج وادی پارٹی کو نشانہ بنائیے، اکھلیش یادو سے اختلاف کیجیے، جو کہنا ہے کہیے۔ یہ سب سیاست کا حصہ ہے۔ لیکن تاریخ کو اپنی سیاست کا ایندھن نہ بنائیے۔ اگر مولانا محمد علی جوہر پر کوئی الزام ہے تو ان کی کتابیں کھولیے، ان کی تحریریں پڑھیے، ان کے سیاسی بیانات دیکھیے، گول میز کانفرنس کے ریکارڈ دیکھیے، ان کے زمانے کی تاریخ پڑھیے اور پھر الزام لگائیے۔ کسی ایسے شخص کو جو 1931 میں جا چکا ہو، 1940 کی قرارداد اور 1947 کے قیامِ پاکستان کا ذمہ دار قرار دینا آسان ضرور ہے، مگر تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں۔
اور ایک بات اور۔ اگر آپ آزادی کی تاریخ بیان کر رہے ہیں تو پھر سب کے لیے ایک ہی پیمانہ رکھیے۔ آپ اگر ساورکر کو آزادی کا مجاہد لکھتے ہیں تو ان کی جیل سے لکھی ہوئی رحم کی درخواستیں بھی پڑھ لیجیے، ان میں برطانوی حکومت کے لیے وفاداری کے وعدے بھی پڑھ لیجیے اور 1942 میں ’’ہندوستان چھوڑو‘‘ تحریک سے ان کے سیاسی فاصلے کو بھی یاد رکھیے۔ مجھے کسی کو غدار ثابت کرنے کا شوق نہیں۔ مجھے صرف اتنی خواہش ہے کہ تاریخ کو غدار ثابت کرنے کا ہتھیار نہ بنایا جائے۔ مولانا محمد علی جوہر میرے لیے اس لیے محترم نہیں کہ وہ مسلمان تھے۔ وہ اس لیے محترم ہیں کہ وہ بڑے انسان تھے، بڑے صحافی تھے، بڑے خطیب تھے، بے خوف سیاسی کارکن تھے اور اپنی قوم کی آزادی کے لیے اپنی زندگی کی آسائشیں قربان کرنے والوں میں تھے۔ ان کے خیالات سے اختلاف ممکن ہے، ان کی سیاست پر بحث ممکن ہے، ان کے بعض فیصلوں سے اختلاف بھی ممکن ہے، مگر ان کی پوری زندگی کو ایک سیاسی جملے میں دفن کر دینا ممکن نہیں ہونا چاہیے۔
کچھ لوگ تاریخ میں اس لیے زندہ رہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے لیے کچھ نہیں بچایا۔ مولانا محمد علی جوہر بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی صحت کھوئی، اپنی آزادی کھوئی، اپنی دولت کھوئی، جیلیں کاٹیں، اپنے اخبارات گنوائے، اپنے سیاسی ساتھیوں سے اختلافات سہے اور آخرکار ایک غلام ملک میں واپس جانے کے بجائے بیت المقدس کی خاک میں سو گئے۔ ان کی اپنی آواز میں بھی زندگی اور عمل کا یہی پیغام سنائی دیتا ہے:
نقدِ جاں نذر کرو، سوچتے کیا ہو جوہرؔ
کام کرنے کا یہی ہے، تمہیں کرنا ہے یہی
اور آج ہم ان کے بارے میں کیا کر رہے ہیں؟ کوئی انہیں گالی دے رہا ہے، کوئی انہیں تقسیم کا ذمہ دار بنا رہا ہے، کوئی انہیں آزادی کا مخالف بتا رہا ہے اور کوئی ان کی پوری زندگی کو چند سیکنڈ کی ویڈیو یا ایک سیاسی تقریر میں سمیٹ رہا ہے۔
دل اس لیے نہیں دکھتا کہ مولانا محمد علی جوہر کو کوئی برا بھلا کہہ رہا ہے۔ دل اس لیے دکھتا ہے کہ ہمیں اپنے ماضی کی کوئی خبر نہیں رہی۔ جن لوگوں نے اپنے خون، قلم اور کردار سے تاریخ بنائی، ہم انہی کی تاریخ کو اپنی وقتی سیاست کے مطابق بدلنے لگے ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر کو تاریخ سے مٹایا نہیں جا سکتا، نہ کسی سیاسی تقریر کے زور پر ان کی زندگی کا مطلب بدلا جا سکتا ہے۔ اختلاف کیجیے، تنقید کیجیے، سوال اٹھائیے، مگر تاریخ کو توڑ مروڑ کر کسی زندہ سیاسی دشمن کے خلاف استعمال کرنا بند کیجیے۔ کیونکہ تاریخ صرف گزرے ہوئے لوگوں کا حساب نہیں، ہمارے اپنے کردار کا آئینہ بھی ہے۔