تحریر: سید سرفراز احمد
آر ایس ایس ایک نظریاتی تنظیم ہے۔ جو کبھی بھی اپنے نظریہ سے پیچھے ہٹ نہیں سکتی۔ آر ایس ایس کی طرف سے جو بھی بیان دیا جاتا ہو، وہ بناء اپنے مفادات کو ملحوظ رکھے بناء نہیں ہوتا۔ خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے تیئں آر ایس ایس کی جو سوچ ہے وہ کبھی بدل نہیں سکتی۔ لیکن بعض دفعہ حالات کی نسبت سے آر ایس ایس کو بھی مسلمانوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ لیکن ہندوستانی مسلمانوں کو اس خوش فہمی میں نہیں رہنا ہے کہ آر ایس ایس مسلمانوں کی خیر خواہ بن رہی ہے۔ چوں کہ ایسا ہوپانا ناممکن ہے۔ موہن بھاگوت کا نیویارک میں دیا گیا حالیہ بیان بظاہر نہایت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہندو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، وہ حقیقی معنوں میں ہندو نہیں۔ انہوں نے مذہبی تنوع، انسانی وحدت اور ’’کثرت میں وحدت”(یونیٹی اِن ڈائیورسٹی)کو ہندوستان کی شناخت قرار دیا۔
یہ بات اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے۔ لیکن ایک سنجیدہ جمہوری معاشرے میں کسی بڑے رہنما کے بیان کو صرف الفاظ کی خوب صورتی سے نہیں، بلکہ اس کے ماضی، نظریے اور عملی اثرات کی روشنی میں پرکھا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موہن بھاگوت کے حالیہ بیان کے ساتھ کئی بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کا تصور ہندوتوا کے خلاف ہے تو یہ بات آج بھی ایک ایسے انداز میں کیوں کہنی پڑ رہی ہے جیسے مسلمانوں کا ہندوستان میں رہنا کسی نظریاتی اجازت کا محتاج ہو؟ مسلمان ہندوستان کے شہری ہیں، محض کسی تنظیم یا اکثریتی سماج کی مہربانی سے یہاں رہنے والے مہمان نہیں۔ آئین انہیں مساوی شہری حقوق دیتا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ مسلمانوں کے لیے ہندوستان میں جگہ ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے مسلمانوں کو برابر کی شہریت، عزت، تحفظ اور آزادی عملاً حاصل ہے یا نہیں؟
یہاں بیان اور حقیقت کا فرق نمایاں ہوجاتا ہے۔ موہن بھاگوت کی طرف سے ہندو مسلم اتحاد کی بات پہلی مرتبہ منظر عام پر نہیں آئی۔ وہ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ ہندو اور مسلمان ایک ہیں اور صرف عبادت کے طریقے مختلف ہیں۔ 2025 میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ سنگھ مذہبی بنیاد پر کسی پر حملہ کرنے میں یقین نہیں رکھتا اور اسلام کے ہندوستان میں موجود نہ رہنے کا تصور ہندو سوچ نہیں ہے۔ یہ بیانات اگر کسی مستقل نظریاتی تبدیلی کی علامت ہیں تو ان کا خیرمقدم ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی صرف بیانات میں ہے یا سنگھ کے اجتماعی رویے میں بھی؟ آر ایس ایس کی نظریاتی تاریخ اس سوال کو مزید اہم بناتی ہے۔ سنگھ کے دوسرے سرسنگھ چالک ایم ایس گولوالکر کی تحریروں اور تقاریر میں مسلمانوں، عیسائیوں اور کمیونسٹوں کو اندرونی دشمن کے طور پر بیان کیے جانے کی مثالیں موجود ہیں۔ گولوالکر کی کتاب We or Our Nationhood Defined اور بعد کی تحریروں نے ہندوستانی قومیت کو ہندو تہذیبی شناخت کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ہوسکتا ہے گولوالکر کے دور کے خیالات کو براہِ راست آج کے ہر آر ایس ایس کارکن یا موہن بھاگوت کی موجودہ سوچ قرار نہ دیا جائے۔ لیکن نظریہ تو وہی ہے جو سو سال پہلے بنایا گیا تھا۔ پھر بھی نظریات اور تنظیمیں وقت کے ساتھ اپنے بعض موقف تبدیل بھی کرتی ہیں۔ خود موجودہ آر ایس ایس اپنے سرکاری بیانیے میں سماجی ہم آہنگی اور متحد ہندوستان کی بات کرتی ہے۔ لیکن پھر بنیادی سوال باقی رہتا ہے: اگر تبدیلی واقعی ہوئی ہے تو کیا سنگھ نے اپنے ماضی کے متنازع تصورات سے واضح اور غیر مبہم فاصلہ اختیار کیا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں منافقت کا الزام زیرِ بحث آتا ہے۔ منافقت صرف یہ نہیں کہ ایک شخص کچھ کہے اور کچھ کرے۔ سیاسی اور نظریاتی منافقت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب مختلف سامعین کے سامنے مختلف زبان اختیار کی جائے، مگر بنیادی نظریاتی ڈھانچہ غیر واضح رہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں سے متعلق حساس معاملات پر ایک زبان اور امریکہ میں بین الاقوامی سامعین کے سامنے دوسری زبان اختیار کرنے کا تاثر اسی لیے پیدا ہوتا ہے۔
موہن بھاگوت کا نیویارک خطاب اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ امریکہ میں انہوں نے ہندوستان کو تنوع، اتحاد اور انسانی وحدت کا نمونہ پیش کیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیغام ایسے وقت میں بیرون ملک دیا گیا جب آر ایس ایس اپنی صد سالہ تاریخ کے بعد عالمی سطح پر اپنی شبیہ اور فکری شناخت کو بھی پیش کررہا ہے۔ ان کا امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا دورہ اسی وسیع تر عالمی رسائی کے تناظر میں ہوا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہی بات ہندوستان میں زیادہ شدت اور وضاحت کے ساتھ کیوں نہیں کہی جاتی؟ اگر موہن بھاگوت واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کا تصور ہندوتوا کے خلاف ہے تو ہندوستان کے ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر سیاسی و سماجی پلیٹ فارم پر یہی اصول دوٹوک انداز میں کیوں نہ دہرایا جائے؟ اگر کوئی مسلمان نفرت کا شکار ہو تو سنگھ کی تنظیمی طاقت اس کے تحفظ کے لیے اسی قوت کے ساتھ کیوں نہیں کھڑی ہوتی جس قوت کے ساتھ وہ اپنے دیگر قومی و سماجی مقاصد کے لیے کھڑی ہوتی ہے؟
یہاں ایک اور اہم فرق سمجھنا ہوگا نفرت انگیز بیان اور نفرت کا ماحول ایک چیز نہیں۔ کسی ایک رہنما کا اشتعال انگیز جملہ شاید ایک واقعہ ہو، لیکن جب مذہبی شناخت بار بار انتخابی سیاست، سوشل میڈیا مہمات، مذہبی تنازعات اور عوامی مباحث کا ہتھیار بننے لگے تو وہ محض چند افراد کے بیانات کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ معاشرتی ماحول کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے بھاگوت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ وہ نیویارک میں کیا کہتے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ جب ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جائے تو سنگھ کیا کرتا ہے؟ خاموش رہتا ہے، مذمت کرتا ہے یا اپنے کارکنوں اور وابستہ تنظیموں کو واضح ہدایات دیتا ہے؟ یہی وہ عملی معیار ہے جس سے سب کا ساتھ کے دعوے کو پرکھا جاسکتا ہے۔
ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ نیویارک میں بھاگوت کا خطاب محض مسلمانوں کے بارے میں نہیں تھا۔ اس میں ہندوستان کی عالمی تصویر، تنوع اور انسانی وحدت کو پیش کیا گیا۔ ایسے وقت میں جب آر ایس ایس کی عالمی سطح پر شبیہ پر شدید بحث جاری ہے اور نیویارک میں ان کے پروگرام کے خلاف مختلف سول اور بین المذاہب گروہوں نے احتجاج بھی کیا، وہاں انسانیت ایک ہے کا پیغام ایک سفارتی اور عالمی ابلاغی ضرورت بھی بن جاتا ہے۔ اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہاں بھی فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ عمل سے ہونا چاہیے۔ اگر بیرون ملک ہندوستان کو رواداری، تنوع اور بقائے باہمی کا چہرہ دکھایا جاتا ہے تو اندرون ملک بھی وہی چہرہ دکھائی دینا چاہیے۔ ایک ہی ملک کے لیئے دو بیانیے نہیں ہوسکتے۔
-
حجاب: لباس نہیں، آزادی کا سوال
میئں سمجھتا ہوں کہ بھاگوت کے حالیہ بیان کو مکمل طور پر مسترد کرنا بھی درست نہیں۔ اگر واقعی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کا تصور ہندو فکر کے خلاف ہے تو یہ ایک اہم بات ہے۔ لیکن اس بیان کو تاریخی اور موجودہ زمینی حقائق سے کاٹ کر دیکھنا بھی درست نہیں۔ الفاظ تبدیلی کا آغاز ہوسکتے ہیں، ثبوت نہیں۔بھاگوت کے اس بیان کو اگر ثبت پہلو سے دیکھا جاۓ تو یہاں سے ایک مکالمے کا آغاز بھی کیا جاسکتا ہے۔ جو یہ بتادے گا کہ بھاگوت جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہے یا نہیں۔ بھاگوت کا یہ بیان مجھے تین چیزوں کی طرف لے جارہا ہے۔ ایک تو ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے تعصب کو لے کر دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ اور آر ایس ایس اور بھاجپا کو اس کا زمہ دار بھی ٹھہرا رہی ہے۔ اسی الزام سے باہر نکلنے کے لیئے دنیا کے سامنے اچھا بننے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ دوسرا اندرون ملک حالیہ جین زی طبقہ نے حکومت کی بنیادوں کو اپنے احتجاج کے ذریعہ کھوکھلا کردیا ہے۔ جس سے موجودہ حکومت کے حق میں ملک کی ایک بڑی تعداد اپنی تائید سے دست بردار ہوتی نظر آرہی ہے۔ جب جب بھاجپا پر زوال دستک دیتا ہے تو موہن بھاگوت اپنا معصوم چہرہ لے کر سامنے آجاتے ہیں۔ تیسری اور آخری چیز یہ کہ موہن بھاگوت جب بھی کوئی بیان دیتے ہیں وہ بہت سوچ سمجھ کر دیتے ہیں۔ جس کے زو معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ اکثر وہ کہتے ہیں ہر ہندوستانی ہندو ہے۔ ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگوں کی قومی،ثقافتی شناخت ہندو ہے اور ہندوستانی مسلمانوں اور عیسائیوں کے آبا و اجداد بھی اسی سرزمین کے قدیم باشندے تھے۔ شائد یہ بیان بھی کہیں زو معنی کی حیثیت سے کہا گیا ہو۔
موہن بھاگوت کس حیثیت سے کیا کہہ چکے ہیں۔ وہ اپنی جگہ ہے۔ لیکن اس ملک کے مسلمانوں نے اپنے مادر وطن کے لیئے جو قربانیاں پیش کی ہیں۔ شائد ہی کسی نے پیش کی ہو۔ نہ اس ملک کے مسلمان کو کسی کو دیش بھکتی دکھانے کی ضرورت ہے نہ کسی کو مانگنے کا حق ہے۔ ابھی جو ظلم ملک کے اندر مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے اگر اس ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا ہے تو یاد رکھیں کہ نقصان مسلمانوں کا نہیں اس ملک کا ہوگا۔ اور اگر موہن بھاگوت کو مسلمانوں سے سچی ہمدردی ہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی اسی وقت ہوگا جب موہن بھاگوت اور آر ایس ایس اپنے الفاظ کو ہندوستانی زمین پر عمل میں تبدیل کریں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی واضح مذمت، مساوی شہریت کی غیر مشروط حمایت، مذہبی آزادی کا تحفظ، اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویوں کی مخالفت اور اپنے ماضی کے متنازع نظریاتی تصورات پر واضح وضاحت، ورنہ سوال اپنی جگہ قائم رہے گا کہ نیویارک میں ’’انسانیت ایک ہے‘‘ کہنے والے بھاگوت ہندوستان میں مساوی انسانیت کا عملی ثبوت کب دیں گے؟ کیوں کہ اتحاد تقریروں سے نہیں، رویوں سے ثابت ہوتا ہے۔ اور کسی نظریے کی اصل پہچان اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کے عملی اثرات ہوتے ہیں۔