سات حافظۂ قرآن کی رداپوشی اور سالِ آخر کی طالبات کو باوقار رخصتی
روٹا (ضلع پورنیہ، بہار):
تعلیمِ نسواں کی شمعِ فروزاں اور دینی شعور کی روشن علامت، مریم گرلز انٹرنیشنل اسکول روٹا نے ایک شاندار اور روح پرور تقریب کا انعقاد کیا، جس نے حاضرین کے دلوں کو فخر و مسرت سے بھر دیا۔ یہ محفل علماء کرام، دانشور حضرات، علاقے کے معززین اور طالبات کے سرپرستوں کی کثیر تعداد سے رونق افروز تھی۔ اس تقریب کا مرکزی مقصد طالبات کی تعلیمی و قرآنی کامیابیوں کا جشن منانا اور معاشرے میں بچیوں کی دینی و عصری تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
مہمانِ خصوصی جناب تفہیم الرحمن، ڈائریکٹر آکسفورڈ انٹرنیشنل اسکول کشن گنج نے اپنے پراثر خطاب میں فرمایا: تعلیم قوموں کی روحِ حیات ہے اور تعلیمی ادارے درحقیقت نیک کردار اور باوقار انسانوں کی تعمیر خانہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے اسکول کے بانی و ڈائریکٹر مولانا شمیم اختر ندوی کو اس عظیم الشان مشن پر دلی مبارکباد پیش کی اور زور دیا کہ آج کے دور میں بچیوں کی معیاری تعلیم نہ صرف ایک ضرورت بلکہ وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔
تقریب کا سب سے دلگداز اور آنکھیں نم کرنے والا لمحہ وہ تھا جب سات خوش نصیب طالبات کو تکمیلِ حفظِ قرآنِ مجید کی سعادت سے سرفراز کر کے باوقار رداپوشی کی گئی۔ اس لمحے حاضرین کے سینوں میں فخر کی لہر دوڑ گئی، آنکھیں اشکِ شوق سے تر ہوئیں اور دلوں میں اللہ کی نعمت پر شکر گزاری کا سیلاب امڈ آیا۔
اس کے علاوہ، دسویں جماعت کی وہ طالبات جو اس ادارے میں اپنے تعلیمی سفر کے آخری سال میں تھیں، انہیں انتہائی احترام اور محبت کے ساتھ الوداع کیا گیا۔ چونکہ آئندہ جماعتوں کا انتظام یہاں موجود نہیں، اس لیے انہیں نیک خواہشات، اعزازی انعامات اور روشن مستقبل کی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا گیا۔
تقریب کی ایک منفرد اور انتہائی پراثر جھلک وہ تھی جب ڈائریکٹر مولانا شمیم اختر ندوی نے رداپوشی سے قبل ایک جذباتی اقدام کیا۔ انہوں نے تمام حافظہ بچیوں کی ماؤں کو اسٹیج پر بلایا اور فرمایا: اگر آج یہ ننھی بچیاں حافظہ قرآن کا تاجِ عزت سجائے ہوئے ہیں تو اس کا اصل سہرا ان کی ماؤں کی راتوں کی نیند، دعاؤں کی گرمی اور قربانیوں کی چھاؤں کو جاتا ہے۔ یہ مائیں بھی اس اعزاز کی برابر کی مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ میدانِ حشر میں ان کے سر پر تاجِ کرامت رکھے گا۔
ان کے یہ سوز بھرے کلمات سن کر پورا مجمع بھرپور تائید و تحسین سے گونج اٹھا اور ماؤں کی عظمت پر آنکھیں نم ہو گئیں۔
تقریب میں مولانا عارف حسین ندوی (ناظم تنظیم و ترقی، جمعیت علماء ضلع پورنیہ)، مولانا تنویر ذکی مدنی (ڈائریکٹر، الحیاۃ انٹرنیشنل اسکول روٹا)، مولانا سید عالم ندوی (پروجیکٹ گرلس اسکول روٹا)، مولانا حماد کیفی قاسمی (استاذ، مدرسہ اسلامیہ عربیہ نندنیاں)، حافظ رضوان احمد(مدرسہ رضوانیہ اسلامیہ سرجاپور)، پرنسپل عبید انور، انجینیر سربول علیگ، مفتی شمس توحید مظاہری (ناظم دارالعلوم امور)، محمد طارق جمال، مولانا رضوان احمد ندوی (پرنسپل اے پی ایس) حاجی خلیل احمد، حاجی تفضل حسین ندوی سمیت کثیر تعداد میں علما، حفاظ، اساتذہ اور اہالیانِ علاقہ تشریف لائے۔
آخر میں تقریب دعائے خیر کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ اس عہد کے ساتھ کہ علاقے میں تعلیمِ نسواں، حفظِ قرآن اور دینی و عصری علوم کے فروغ کے لیے اس طرح کی کاوشیں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی تاکہ یہ خطہ علم و عمل کی شمع سے ہمیشہ منور رہے۔یہ تقریب محض ایک پروگرام نہیں تھی، بلکہ ایک پیغام تھی—کہ جب مائیں، اساتذہ اور ادارے مل کر بچیوں کی تربیت کریں تو معاشرہ روشنیوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔ مریم گرلز انٹرنیشنل اسکول روٹا نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ تعلیم وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو چیر کر نئی صبح کا وعدہ کرتی ہے۔