از:- ثناء اللہ صادق تیمی
میں مسلمان ہوں، اہل حدیث ہوں، میں اہل تشیع کے مذہبی عقائد و نظریات کو کتاب و سنت کی روشنی میں مکمل غلط مانتا ہوں۔ میں ان کے باطل عقائد و نظریات سے برائت کا اظہار کرتا ہوں۔ اس لیے ان کے کسی فرد کی موت میرے نزدیک کبھی بھی شہادت نہیں، بطور خاص تب تو اور بھی نہیں جب اس کے ہاتھ معصوم اہل سنت والجماعت کے خون سے بھی رنگے ہوئے ہوں۔ اور ویسے بھی کسی کو شہید کہنا اتنا آسان معاملہ نہیں۔
لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کسی دوسرے دشمن کی ظالمانہ کارروائی کی حمایت کر سکتا ہوں ۔ نہیں اور کبھی نہیں ۔ کوئی میری گردن اڑادے پھر بھی میں شیعی عقائد کی تائید نہیں کر سکتا اور کوئی مجھے جان سے مار دے پھر بھی ایران پر اسرائیلی حملے کی تائید نہیں کر سکتا ۔ یہ شعور مجھے میرے دین نے ہی دیا ہے۔ اسی طرح کیا میں کسی بھی صورت میں خلیجی ممالک پر ایران کے جارحانہ حملوں کی حمایت کر سکتا ہوں تو نہیں اور کبھی نہیں اور اس کے لیے چاہے مجھے جو قیمت ادا کرنی پڑے ۔
ہمارے لوگ زیادہ تر سیاسی ضرورتوں اور مذہبی عقائد کے بیچ کے فرق کو بھی نہیں سمجھتے۔ سیاسی تعلقات ضرورتوں اور مفادات کے حساب سے بنائے جاتے ہیں ۔ ایک مدت تک باہم ایک دوسرے کے لیے حریف جیسی کیفیت میں رہنے کے بعد چین کی ثالثی میں ایران اور سعودی عرب نے تعلقات بہتر کیے۔ دونوں سمتوں سے مثبت پیش رفت ہوئی ۔ اس کا یہ قطعاً مطلب نہیں تھا کہ انہوں نے اپنے عقائد سے سمجھوتا کر لیا، اس کا یہ مطلب ضرور تھا کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ باہمی چپقلش سے کسی کا فائدہ نہیں اور ترقی کرنی ہے تو امن و امان کا ماحول بنانا ہی ہوگا۔
سعودی وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک نئی سوچ کے ساتھ پورے خطے کی خوشحالی کا خواب دیکھا اور اس میں رنگ بھرنا شروع کیا۔ ہر قسم کے تنازع کو گفتگو سے پاٹنے کی کامیاب کوشش کی اور مثبت خطوط پر خطے کو آگے بڑھانے کی کوششیں تیز کر دیں۔
یہ پیش رفت دشمنان اسلام کو نہیں بھائی۔ جون میں جب مذاکرات کے بیچ ایران پر اسرائیل اور امریکہ نے حملہ کیا تو سعودی عرب نے کھل کر مذمت کی اور اسے ایک آزاد ریاست پر ناروا حملہ بتایا۔ ابھی جب مذاکرات کے بیچ پھر دو بارہ حملہ کیا گیا تو سعودی عرب نے واضح کر دیا کہ وہ اپنی زمین استعمال کرنے نہیں دے گا اور سارے تنازعات کا حل گفتگو سے تلاش کرنا چاہیے۔
حملہ امریکا اور اسرائیل نے کیا۔ یہودی لابی سرگرم ہو گئی کہ کسی طرح شیعہ – سنی ایران – سعودی کر دیا جائے ۔ واشنگٹن پوسٹ میں جھوٹ چھاپا گیا کہ حملہ محمد بن سلمان کے کہنے پر کیا گیا ہے ، سعودی عرب نے تردید بھی ، ایران نے بھی اس جھوٹ کو قبول نہیں کیا لیکن سعودی دشمنی میں اندھے لوگوں نے اس جھوٹ کو خوب پھیلانا شروع کر دیا اور ایک پر ایک تجزیہ کرنے لگے۔
دشمنان اسلام یہی چاہتے ہیں کہ بات اسی سمت میں آگے بڑھے۔ سعودی عرب اور ایران کے سیاسی تعلقات مستحکم نہ ہوں اور مختلف قسم کی غلط فہمیوں اور چالبازیوں میں پھنسا کر پورے خطے کو پریشان کرتے رہیں اور گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہو جائے۔