بھوج شالہ سرسوتی مندر قرار، نماز سے متعلق اے ایس آئی سرکلر منسوخ

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ؛ مسلم فریق کو متبادل زمین لینے کا مشورہ، انتظامی اقدامات کی ہدایت

مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع متنازعہ بھوج شالہ۔کمال مولا کمپلیکس کے معاملے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے بھوج شالہ کو سرسوتی مندر قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے آثارِ قدیمہ محکمہ (اے ایس آئی) کے 2003 کے اس سرکلر کو بھی منسوخ کر دیا، جس کے تحت مسلمانوں کو ہر جمعہ یہاں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

اندور بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تاریخی ریکارڈ، آثارِ قدیمہ کے شواہد اور دستیاب دستاویزات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھوج شالہ قدیم زمانے میں دیوی سرسوتی کا مندر اور سنسکرت تعلیم کا مرکز تھا۔

عدالت نے مرکزی حکومت اور اے ایس آئی کو ہدایت دی کہ وہ اس مقام کے انتظام و انصرام کے سلسلے میں مناسب اقدامات کریں۔ ساتھ ہی مسلم فریق کو مشورہ دیا گیا کہ اگر وہ چاہیں تو مسجد کے لیے متبادل زمین حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ دھار میں واقع یہ مقام طویل عرصے سے ہندو اور مسلم فریقوں کے درمیان تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہندو تنظیمیں اسے قدیم سرسوتی مندر قرار دیتی رہی ہیں، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولا مسجد کا حصہ بتاتا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد معاملہ ایک بار پھر قومی سطح پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔