سیمانچل کے معروف عالم مولانا عبد اللہ سالم قاسمی کی گرفتاری، جمعیت سے قانونی امداد کی اپیل

پورنیہ/ارریہ، 30 مارچ:

سیمانچل (ارریہ، بہار) کے معروف عالمِ دین و خطیب مولانا عبد اللہ سالم قاسمی کی گرفتاری کے خلاف جمعیت علماء ضلع پورنیہ کے ذمہ داران نے جمعیت علماء ہند سے فوری قانونی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مولانا عبد اللہ سالم قاسمی کے خلاف تقریباً دو سال پرانے ایک بیان کے پس منظر میں اترپردیش کے مختلف تھانوں میں متعدد ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ آج دوپہر انہیں دلمال پور، تھانہ امور، ضلع پورنیہ (بہار) سے حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے ذریعہ انجام دی گئی ہے اور امکان ہے کہ انہیں گورکھپور کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

جمعیت علماء ضلع پورنیہ کے جنرل سکریٹری ابو صالح قاسمی اور ناظمِ تنظیم و ترقی عارف حسین ندوی نے ایک مشترکہ مکتوب کے ذریعہ جمعیت علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی کو اس صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا عبد اللہ سالم قاسمی ملتِ اسلامیہ کے ایک جید عالم اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کے بیان کے ایک حصے کو بعض ذرائع ابلاغ نے سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا، جس کے نتیجے میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، تاہم انہوں نے بروقت وضاحت پیش کرتے ہوئے بلا شرط معذرت بھی کر لی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک قدیم بیان کی بنیاد پر اچانک گرفتاری سے علاقے کے اہلِ علم، دانشوروں اور عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ اس لیے جمعیت علماء ہند سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مولانا موصوف کو فوری، مؤثر اور مضبوط قانونی امداد فراہم کی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

مکتوب میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ جمعیت علماء ہند حسبِ سابق اس معاملے میں بھی پیش قدمی کرتے ہوئے ہر ممکن قانونی و عملی تعاون فراہم کرے گی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔