تبصرہ: محمد رافع ندوی
استاذ گرامی حضرت مولانا انوار احمد صاحب اعظمی علمی اور ادبی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، گزشتہ 15_20 سال سے وہ مسلسل اپنی وقیع تالیفات اور تصنیفات سے اسلامی کتب خانے میں قابل ذکر اضافہ کر رہے ہیں، اس وقت ان کی نئی کتاب *میری ڈائری* جلد اول میرے مطالعہ میں ہے، کتاب کے نام ہی سے ظاہر ہے، اس کتاب میں مولانا نے اپنی زندگی کے مختلف اوراق کو بہت خوبی اور خوبصورتی کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ 1962 سے لے کر 1992 تک کے ان کی زندگی کےہحالات و واقعات نیز اس دوران ملکی اور بین الاقوامی واقعات کی اہم سرخیوں اور ان کے تجزیے پر مشتمل یہ صفحات کسی علمی، ادبی اور تاریخی گلدستے سے کم نہیں۔
یہ کتاب جہاں ایک طرف مولانا کی خود نوشت کا تاثر پیش کرتی ہے جس میں مولانا نے اپنے خاندان، افراد خاندان، اپنے والدین اور اجداد سے متعلق دلچسپ حالات اور واقعات، اپنی پیدائش، ابتدائی زمانہ، ابتدائی تعلیم، اپنی شرارتیں، مختلف شوق اور پھر درجہ بدرجہ اپنی تعلیمی، فکری، تدریسی ترقیات کے مرقعے پیش کیے ہیں، وہیں اس پوری مدت میں ہندوستان بلکہ عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں جو اہم ترین حیرت انگیز اور تاریخی حیثیت کے واقعات رونما ہو رہے تھے ان پر ان کے رشحات قلم جن میں ان واقعات کی تاریخ کے ساتھ ساتھ ان کا بہترین تجزیہ اور اس پوری صورتحال کی بہترین تلخیص شامل ہے، خاصے کی چیز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپسٹین فائلز کے انکشافات کے بعد عالمی سطح پر استعفوں کا سلسلہ
جیسا کہ میں نے ابھی ذکر کیا یہ کتاب محض ایک ڈائری نہیں بلکہ یہ کتاب کسی گلدستے کی طرح ہے جس میں مصنف کے مشاہدات وتجربات، اس کے تجزیات، مختلف شخصیات کے حالات وسوانح، لطائف ونکات سبھی کچھ ہمیں ہر صفحے پر نظر آتے ہیں اور قاری اپنے جیب و داماں کو مختلف پھولوں، مختلف علمی، فکری، تاریخی موتیوں سے مالامال کرتا چلا جاتا ہے، کبھی تو اسے خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ تاریخ عالم اور عالم اسلام کا ایک مسئلہ جو اس پر ابھی تک واضح نہیں تھا؛ اس کو مولانا نے نہایت مہارت کے ساتھ چند لفظوں میں سلجھا دیا۔
مولانا تصنیف و تالیف کا اعلی ذوق رکھتے ہیں، تقریباً ایک درجن کتابیں تفسیر، فقہ، حدیث، تاریخ و سیرت اور صحافت و ادب پر ان کی منظر عام پر آ کر داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں، مولانا کا قلم رواں دواں ہے، بلا تکلف لکھتے چلے جاتے ہیں، برجستہ جملوں اور برجستہ تعبیرات سے تحریر کا لطف بہت دوبالا ہو جاتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی زبردست ادیب یا مشاق قلم کار اپنی تحریری صلاحیت کی روشنی بکھیر رہا ہے، مولانا کا طرز تحریر شگفتہ اور شستہ ہے، شوخی اور البیلاپن بھی صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب بلکہ یہ علمی اور ادبی اور فکری مرقع ہر اس پڑھے لکھے شخص اور ہر اس استاذ و طالب علم کے لیے قابل مطالعہ ہے جو مختلف پھولوں، مختلف شگوفوں سے اپنے مشام جاں کو معطر کرنا چاہتا ہو، جو چند صفحات کے مطالعے سے ہندوستان، عالم اسلام اور بین الاقوامی تاریخ کی پیچیدہ گتھیوں کو اور لا ینحل معموں کو سلجھانے کا متمنی ہو، جو مختصر اور کم ترین لفظوں میں بہترین اور جامع ترین تجزیات اور رجحانات اور افکار و نظریات اور گوناگوں خیالات کے مطالعے کا خواہاں ہو، جو ہندوستان، عالم اسلام اور دنیا بھر کی چیدہ منتخب اور مؤثر شخصیات کے حالات اور ان کے فکری رجحانات سے واقفیت چاہتا ہو، جو رواں دواں، شستہ اور شگفتہ تحریروں کو پڑھنے کا شوق رکھتا ہو، جسے فکر وفن، شعر و ادب سے شغف ہو۔ جسے سیر و سیاحت سے تعلق ہو، جسے تاریخ وسیر سے دلچسپی ہو، جو تاریخ کے اوراق پارینہ کی گاہے گاہے ورق گردانی چاہتا ہو۔
بہرحال یہ کتاب کیا ہے، یہ علمی، ادبی، فکری اور سوانحی گلدستہ اور مرقع ہے جس کی خوبیوں کا صحیح اندازہ مطالعے کے بعد ہی ہوگا، خوبصورت سر ورق، عمدہ جلد، نہایت شاندار کاغذ کے ساتھ 487 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ہر اردوداں کو پڑھنی چاہیے اور اپنے ذہن و فکر کی بالیدگی کا سامان کرنا چاہیے۔
یہ کتاب مولانا انوار احمد اعظمی خیرآبادی جامعہ اسلامیہ مظفرپور عظم گڑھ سے حاصل کی جا سکتی ہے، امید کرتے ہیں کہ بہت جلد اس کی دوسری جلد بھی منظر عام پر آئے گی اور جو تشنگی ان اوراق کے مطالعے سے پیدا ہوئی ہے اس کا کچھ علاج ہوگا۔