ملک میں نفرت کا زہر پھیلتا جارہا ہے!

از:- سرفراز احمد قاسمی حیدرآباد

گزشتہ چند برسوں سے ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے جس طرح سے پر امن فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،انڈیا ہیٹ لیب 2025 کی حالیہ رپورٹ اسکے لئے نوشتہ دیوار ہے، امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم نے وطن عزیز میں نفرت انگیز تقاریر سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے،یہ رپورٹ سینٹر فار اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ نے جاری کی ہے،جس کا مقصد مذہب،ذات،نسل، قومیت، جنس یا شناخت کی بنیاد پر کی جانے والی منظم نفرت کا مطالعہ اور اس سے نمٹنے کے لیے سفارشات پیش کرنا ہے،اس رپورٹ میں ملک میں عوامی اجتماعات، ریالیوں، مذہبی تقاریب، سیاسی جلسوں اور سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی تقاریر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے،ریاستی سطح پر سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملات اترپردیش میں درج ہوئے،اسکے بعد مہاراشٹر،مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور دہلی کے نام شامل ہیں،ایک 1318 نفرت انگیز تقاریر کا ریکارڈ ہونا محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ وطن عزیز میں نفرت اب ایک وقتی رجحان نہیں رہی بلکہ اسے باقاعدہ سیاسی اور سماجی ہتھیار کی شکل دے دی گئی ہے،سال 2023 کے مقابل 97 فیصد اور سال 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ اس خطرناک رجحان کی شدت کو واضح کرتا ہے،یہ حقیقت خاص طور پر تشویش ناک ہے کہ اس طرح کے واقعات کی اکثریت ان ریاستوں میں دیکھی گئی ہے جہاں مرکز میں برسر اقتدار جماعت یا اس کے اتحادی حکومت میں ہیں،اگر ریاستی طاقت کے سائے میں نفرت انگیز تقریرفروغ پانے لگے تو یہ صرف اقلیتوں ہی نہیں بلکہ آئین،قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن جاتی ہے،رپورٹ کے مطابق 98 فیصد نفرت انگیز تقاریر مسلمانوں کے خلاف تھی یہ محض تعصب نہیں بلکہ ایک منظم بیانیہ ہے جس میں مسلمانوں کو ملک کا دشمن،درانداز اور آبادی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے،عیسائی برادری کے خلاف بڑھتی نفرت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،اس طرح کے الفاظ کا استعمال کسی بھی مہذب سماج میں ناقابل قبول ہے لیکن جب یہ سیاسی جلسوں، مذہبی جلوسوں اور سرکاری عہدوں پر فائز افراد کی زبان سے ادا ہوں تو اس کے نتائج کہیں زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں، لوجہاد، لینڈ جہاد اور ووٹ جہاد جیسے خود ساختہ نظریات کا بار بار استعمال اقلیتوں کو ایک منظم دشمن کے طور پر پیش کرنے کی دانستہ کوشش کے سوا کچھ اور نہیں ہے،اس کے ساتھ ساتھ دیمک،پر جیوی اور پاگل کتے جیسے غیرانسانی اصلاحات کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نفرت انگیز تقریر اب صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ تشدد کے ذہن ہموار کررہی ہے،تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی طبقے کو غیرانسانی بنا کر پیش کیا جائے تو اس کے خلاف تشدد کو جاری ٹھہرانا آسان ہوجاتا ہے،سال 2025 میں تقریبا ایک چوتھائی تقاریر میں براہ راست تشدد کی اپیل کی گئی،یہ محض اشتعال انگیزی نہیں بلکہ فوجداری جرم ہے اس کے باوجود سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومتیں خاموش ہیں،اگر وزراء اور باثر سیاسی شخصیات کھلے عام تشدد کی اپیل کرے اور ان کے خلاف موثر کاروائی نہ ہو تو یہ خاموش رضامندی کے مترادف ہے۔رپورٹ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کا کردار بے نقاب ہو کر سامنے آتا ہے، فیس بک،یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ میں محض تماشائی نہیں بلکہ عملا سہولت کار بنے ہوئے نظر آتے ہیں،رپورٹ میں سوشل میڈیا کو ہیٹ اسپیچ کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے،1318 میں سے 1278 تقاریر کے ویڈیوز،سوشل میڈیا پر شیئر یا لائیو کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ ویڈیوز فیس بک پر اپلوڈ ہوئے اس کے بعد یوٹیوب،انسٹاگرام اور ایکس کا نمبرآتا ہے۔نفرت مخالف پالیسیوں کے دعوے اس وقت کھوکلے ثابت ہوتے ہیں جب ہزاروں ویڈیوز بغیر کسی رکاوٹ کے وائرل ہوجائیں،ڈیجیٹل بے خوفی نے نفرت کو نہ صرف پھیلایا بلکہ اسے معمول بنادیا ہے،پچھلے تین برسوں کے اعداد و شمار پر نگاہ ڈالیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہر سال نفرت انگیز بیانات کی تعداد دوگنی ہوتی جا رہی ہے، بی جے پی کے رہنما،پارٹی ریالیوں،مذہبی جلوسوں اور ثقافتی اجتماعات میں کھلے عام ایسے بیانات دیتے ہیں جنہیں بعد ازاں سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر پھیلایا جاتا ہے،ریالیوں میں شریک اور سوشل میڈیا پر یہ ویڈیوز دیکھنے والے غریب اور متوسط طبقے کے ہندو نوجوان مذہبی جذباتیت کا شکار ہورہے ہیں،اس کے نتیجے میں وہ اقلیتی عبادت گاہوں اور افراد پر حملے کرتے ہیں،مقدمہ اور قید و بند کی سزا بھگتتے ہیں اور یوں اپنی زندگیاں برباد کر لیتے ہیں،اس خطرناک دائرہ زہر کو غریب اور متوسط طبقے کے والدین کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے،انتخابات کے دوران یہ نفرت انگیز تقاریر انتہائی شدت اختیار کر لیتی ہیں، گزشتہ 12 برسوں سے بی جے پی نے ہر انتخاب کو عوامی مسائل کے بجائے تقسیم کی سیاست کا مرکز بنادیا ہے اور ووٹروں کو جذباتی بنیادوں پر ووٹ ڈالنے اور اس پر اکسانے کی فضا قائم کی ہے اگر یہی روش جاری رہی تو ملک کے عوام کا مستقبل تاریکی میں ڈوب جائے گا۔

امریکہ کے ہیومن رائٹس واچ نے گزشتہ مہینہ اپنے ورلڈرپورٹ 2026 میں کہا ہے کہ ہندوستان کی قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت حکومت نے مذہبی اقلیتوں کو رسوا اور بدنام کیا ہے،سینکڑوں بنگالی بولنے والے مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کو 2025 میں غیر قانونی تارکین وطن قرار دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام نے حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی ہے اور خود اپنے آپ کو سینسر کرنے میڈیا پر دباؤ ڈالا ہے،سرکاری عہدے داروں اور بی جے پی کے حامیوں نے زبردست استحصال کیا ہے، ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر ایلن پیرسن نے کہا ہے کہ حکومت ہند نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کو معمول کی بات بنادیا ہے اور اپنی امتیازی پالیسیوں،نفرت پر مبنی تقریروں اور سیاسی محرکات پر مبنی قانونی کاروائیوں کے ذریعے ناقدین کو نشانہ بنایا ہے،انھوں نے کہا کہ ملک کو انسانی حقوق کی آواز کے طور پر فروغ دینے کے لیے اپنی استحصالی پالیسیوں کو واپس لینے کے بجائے، بی جے پی حکومت نے دنیا بھر میں ہندوستان کے قد کو گھٹا دیا ہے،ہیومن رائٹس واچ نے اپنی 529 صفحات پر مشتمل ورلڈ رپورٹ 2026 کے 36 ویں ایڈیشن میں زائد 100 ملکوں میں انسانی حقوق کا جائزہ لیا ہے،ایگزیکٹو ڈائریکٹر فلپ بولو پین نے اپنے تمہیدی مضمون میں لکھا ہے کہ دنیا بھر میں جاری مطلق العنانی کی لہر کو توڑنا اس نسل کے لیے ایک چیلنج ہے،انسانی حقوق نظام کو ٹرمپ انتظامیہ اور دیگر عالمی طاقتوں سے غیر معمولی خطرہ لاحق ہے،بولو پن نے انسانی حقوق کا احترام کرنے والی جمہوریتوں اور مہذب سماج سے اپیل کی ہے کہ وہ بنیادی آزادیوں کا دفاع کرنے حکمت عملی پر مبنی ایک اتحاد تشکیل دیں،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل میں بندوق برداروں کے جموں کشمیر میں ہلاکت خیز حملے جس میں انہوں نے ہندو سیاحوں کو چن چن کر نشانہ بنایا تھا کہ نتیجے میں ہند پاک کے درمیان چار روزہ جنگ ہوئی،بعد ازاں ہندوستانی حکام نے کچھ عرصہ کے لیے اختلافی آوازوں کو کچل دیا اور چند آزاد میڈیا اداروں اور مبصرین کو مسدود کردیا،سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے پر لوگوں کو گرفتار کیا گیا،ماہرین تعلیم اورطنز نگاروں کے خلاف کیسز درج کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندو قوم پرست گروپس کی نفرت پر مبنی تقریروں اور مسلمانوں کے خلاف حملوں میں کئی گنا اضافہ ہواہے،حکام نے مکانات اور مسلمانوں کی جائیدادوں کو غیر قانونی طور پر یہ دعوی کرتے ہوئے منہدم کر دیا کہ وہ عسکریت پسندوں سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر ان میں غیر قانونی تاریکین وطن رہتے ہیں،جبکہ حکومت کے یہ اقدامات سپریم کورٹ کی خلاف ورزی تھے۔

یہ حقیقت ہے کہ آج ملک ایک نہایت نازک دور سے گزررہا ہے جہاں فرقہ پرست طاقتیں پوری منظم حکمت عملی کے ساتھ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں،ملک میں پوری شدت کے ساتھ نفرت کی آگ بھڑکائی جارہی ہے اور سماج کو انسانیت سے محروم کیا جارہا ہے،حالات اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ راہ چلتے بے گناہ مسلمانوں کو ماردیا جاتا ہے،دن دہاڑے ماب لنچنگ کی جاتی ہے اور پھر مظلوم ہی کو مجرم بنا کر پیش کردیا جاتا ہے،فرقہ پرست عناصر کے پاس اگرچہ حکومت اور اقتدار کی طاقت ہے لیکن ہمارے پاس پیار، محبت، انسانیت اور ملک کے آئین کی وہ طاقت موجود ہے جس کے سہارے ہم ان سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں،اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ جن لوگوں کے آباؤ اجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی، جیلیں کاٹی،اپنی جانوں کی قربانیاں دی اور اس ملک کو آزاد کروایا آج انھیں کی اولاد کو دیش دروہی اور ملک دشمن کہا جارہا ہے،اسی قوم کے نوجوانوں کو جھوٹے دہشت گردی کے مقدمات میں پھنسا کر ان کی زندگیاں برباد کی جارہی ہیں،یہ بات کتنی افسوسناک ہے کہ آج فرقہ پرستی کی جڑیں ملک میں بہت گہری ہو چکی ہیں جس کا خمیازہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پورا ملک بھگت رہا ہے اور دیگر اقلیتیں بھی شدید گھٹن محسوس کر رہی ہیں۔

ہندوستان سمیت پوری دنیا اس وقت ایک برے دور سے گزررہی ہے جو آج نفرت،جنگ،جھوٹ اور جبر کے ایک ایسے چکر میں پھنسی ہوئی نظر آتی ہے جس سے نکلنے کی کوئی واضح راہ دکھائی نہیں دیتی،طاقتور قوم پرستی،آمرانہ رجحانات اور شناخت کی سیاست نے جمہوریت،انصاف اور انسانی قدروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے،سچ اب اصول نہیں رہا بلکہ طاقت کے تابع ہوچکا ہے،جارحانہ قوم پرستی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ خوف،نفرت اور خارج کرنے کی سیاست اب بھی ووٹ دلاسکتی ہے،مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات، تجارتی دھمکیاں اور جنگوں میں انتخابی مداخلت یہ سب عالمی سیاست کو مزید غیر مستحکم بناتے ہیں،وطن عزیز ہندوستان جو خطے میں جمہوری امید کے طور پر دیکھا جاتارہا،بتدریج اسی عدم برداشت اور نفرت کی سیاست کی طرف بڑھ رہا ہے جس پر وہ اپنے ہمسایوں کو تنقید کا نشانہ بناتا تھا جب شہری کی پہچان مذہب اور قومیت سے طے ہونے لگے اور قانون وفاداری کے تابع ہوجائے تو جمہوریت محض ایک خول بن کررہ جاتی ہے،موجودہ وقت میں ریاستی طاقت کے سہارے جھوٹ کو سچ بنایا جا رہا ہے اور سماج اسے بغیرسوال کے قبول کررہا ہے سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب جھوٹ بولنا نہیں بلکہ اس پر یقین کرنا معمول بن جائے ایک چینی کہاوت ہے کہ حکمراں طبقہ اقتدار کے لیے تھوڑا بہت جھوٹ بولتا ہے لیکن خطرناک صورتحال تب پیدا ہوتی ہے جب وہ خود اپنے جھوٹ پر یقین کرنے لگے،آج ملک کے حکمران طبقے کی حالت یہی ہوتی جارہی ہے،سماج بھی آزاد سمت میں نہیں بڑھ رہا بلکہ جھوٹ بولنے والے اقتدار اور اسے چلانے والی تنظیم کا تابع بن چکا ہے،اس بحران کو مزید گہرا اس بات نے کیا ہے کہ وہ ادارے جو طاقت کو جواب دہ بناتے تھے، میڈیا،جامعات اور سول سوسائٹی یا تو کمزور کردئے گئے ہیں یا خوف کا شکار ہیں،اختلاف کو غداری کہا جارہا ہے اور سچ کو تکلیف دہ سمجھ کررد کردیا جاتا ہے،جس کے نتیجے میں اچھے لوگ خاموشی اختیار کرلیتے ہیں یا مایوس ہوجاتے ہیں،جبکہ عوامی فضا نفرت کے لیے کھلی چھوڑ دی جاتی ہے،ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اخلاقی مزاحمت کہاں سے آئے؟ کیا مذہب سے؟ سیاست سے؟ سائنس سے؟ فلسفے سے یا نئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے؟ تاریخ شاہد ہے کہ ان میں سے کوئی بھی خود بخود نجات دہندہ نہیں، مذہب، انصاف کی تحریک بھی بن سکتا ہے اور تشدد کا جواز بھی سیاست اصلاح کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے اور جبر کا ہتھیار بھی،سائنس انسانیت کو آزاد بھی کر سکتی ہے اور اسے محض ڈیٹا میں بھی بدل سکتی ہے،حتی کہ مصنوعی ذہانت بھی اپنے تخلیق کاروں کی قدروں سے آزاد نہیں،مسئلہ کسی ایک راستے کے انتخاب کا نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کو ہرشعبے میں واپس لانے کا ہے،بابائے قوم مہاتما گاندھی،دستور کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے بار بار یاد دلایا کہ کوئی بھی نظام بذات خود نیک یا بد نہیں ہوتا،سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کس کے ہاتھ میں دیا گیا ہے،جب اچھے لوگ مایوسی یا انا کے باعث عوامی زندگی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو یہ اوزار لازما غلط ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں،آج کا دور برائی کی یکجہتی اور بھلائی کے پراگندہ ہونے کا دور ہے،نفرت پھیلانے والی طاقتیں منظم،پرعزم اور باہمی طور پر ہم آہنگ ہیں جبکہ انصاف اور انسانیت کے حامی اختلافات،تھکن اور خاموشی میں بکھرے ہوئے ہیں،اس توازن کو بدلنے کے لیے کسی کامل لیڈر یا مثالی لمحہ کا انتظار بے معنی ہے۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ راستے انتظار سے نہیں، چلنے سے بنتے ہیں،ایسے وقت میں بھلائی اگر خاموشی رہی تو اس کی شکست یقینی ہے،نفرت کی منڈی آج ضرور عروج پر ہے لیکن تاریخ گواہ ہے یہ کبھی مستقل نہیں رہتی اصل سوال یہ نہیں کہ بھلائی کبھی جیتے گی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا آج کے لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ ریاست اوڈیشہ میں گزشتہ دو برسوں میں 54 فرقہ وارانہ فسادات اور ماب لنچنگ کے 7 معاملے سامنے آئے ہیں،جون 2024 سے فروری 2026 کے درمیان 54 فرقہ وارانہ فسادات اور ماب لنچنگ کے سات واقعات کی اطلاع دی گئی ہے، چیف منسٹر موہن مانجھی نے پیر پچھلے دنوں اسمبلی میں ایک تحریری بیان میں یہ بات بتائی،بی جے ڈی کے رکن اسمبلی گوتم بدھ داس کے تحریری سوال کے جواب میں چیف منسٹر نے بتایا کہ جون 2024 سے فروری 2026 کے درمیان ریاست کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں درج فرقہ وارانہ فسادات اور ماب لنچنگ کے مقدمات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں،واضح رہے کہ ریاست میں بی جے پی حکومت نے 12 جون 2024 کو اقتدار سنبھالا تھا،چیف منسٹر کے جواب کے مطابق پانچ اضلاع بھدرک، ملکان گری،بالاسور، کوراپٹ اور کھردا میں فرقہ وارانہ فسادات کے 54 واقعات کی اطلاع دی گئی جبکہ چار اضلاح دیوگڑ،دھنکنال،بالاسور اور رائیگڑھ میں ماب لنچنگ کے سات واقعات درج کیے گئے۔
اس پرآشوب ماحول میں کرناٹک ہیٹ اسپیچ اور ہیڈ کرائم روک تھام بل 2025 یقینا امید کی ایک کرن ہے،نفرت انگیز تقریر کی واضح تعریف سخت سزائیں اور ڈیجیٹل ذرائع کا احاطہ اس قانون کو ایک سنگ میل بناتا ہے،تاہم اصل امتحان اس کے نفاذ میں ہے اگر یہ قانون صرف کاغذوں تک محدود رہا تو اس کی افادیت بھی محدود ہو کررہ جائے گی،وقت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ نفرت کی سیاست کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی اپنائی جائے ورنہ اس کی قیمت پورے ملک اور پورے معاشرے کو چکانی پڑے گی۔نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے اب تک کوئی علیحدہ اور موثر قانون ملک میں موجود نہیں ہے،اس ضمن میں سپریم کورٹ کو پہل کرتے ہوئے قانون سازی کے لیے راستہ ہموار کرنا چاہیے،مرکزی حکومت کو واضح رہنما اصول اور گائڈ لائنز جاری کرنے کی ہدایت دینی چاہیے،بصورت دیگر نفرت پھیلانے والے حکمرانوں کی زہریلی زبان بندنہیں ہوسکے گی،حال ہی میں لوک سبھا میں قائدحزب اختلاف راہل گاندھی کی رہنمائی میں کرناٹک کی کانگریس حکومت نے نفرت انگیز تقاریر کے خلاف ایک بل اسمبلی میں پیش کیا ہے جس کے جلد قانون بننے کا امکان ہے،اسی جذبے کے تحت تلنگانہ کے وزیراعلی ریونت ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ وہ یہ قانون اپنی ریاست میں بھی نافذ کریں گے اس اقدام کی ریاست کے تمام غیر بی جے پی جماعتوں کو حمایت کرنی چاہیے،نفرت انگیز تقاریر کا مرکز بننے سے تلنگانہ اور پورے ملک کو بچانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے،جمہوریت میں عوام ہی اصل حکمران ہوتے ہیں اور عوامی شعور ہی جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے،نفرت پھیلانے والے رہنماؤں اور تقسیم کی سیاست کو فروغ دینے والی جماعتوں کی کھل کر مخالفت کی جانی چاہیے،اس سطح کے عوامی شعور کو بیدار کرنے کے لیے سول سوسائٹی،طلباء تنظیموں اور نوجوانوں کی انجمنوں کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔بقول شاعر
یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پر ہے
علاج اسکا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

# مضمون نگار،معروف صحافی،سیاسی تجزیہ نگار اور اسلامی اسکالر ہیں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔