از:- ڈاکٹر سلیم انصاری
جھاپا، نیپال
نیپال ایک کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور جمہوری ملک ہے جہاں صدیوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والے باہمی احترام، رواداری اور بقائے باہمی کے ساتھ زندگی گزارتے آئے ہیں۔ یہی سماجی ہم آہنگی نیپال کی اصل طاقت اور پہچان ہے۔ تاہم بعض اوقات دنیا کے کسی خطے میں پیش آنے والے کسی واقعے کو بنیاد بنا کر نیپال میں رہنے والے مسلمان شہریوں کو چند شرپسند اور نفرت پھیلانے والے عناصر کی جانب سے زبانی، سماجی یا آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس قسم کی صورتِ حال نہ صرف متعلقہ افراد کے لیے ذہنی اذیت اور عدم تحفظ کا سبب بنتی ہے بلکہ آہستہ آہستہ سماج میں بداعتمادی، خوف اور نفرت کو جنم دے کر ملک کے مجموعی امن و امان اور سماجی ہم آہنگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ اگر ایسے حالات کا بروقت، دانشمندانہ اور قانونی طریقے سے سدِباب نہ کیا جائے تو یہ معاملات فرد سے نکل کر سماج اور پھر پورے ملک کی سطح پر کشیدگی اور بے چینی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسے مواقع پر سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نازک صورتِ حال میں مسلمانوں کو کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ بھی کر سکیں اور سماج و ملک کے امن کو بھی برقرار رکھ سکیں۔
اس سوال کا جواب جذباتی نعروں، وقتی غصے یا ردِعمل کے بجائے عقل، قانون اور حکمت کی روشنی میں تلاش کرنا زیادہ ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مسلمان سب سے پہلے نیپال کے برابر کے شہری ہیں۔ آئینِ نیپال ہر شہری کو مذہبی آزادی، عزتِ نفس اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ہونے والا کوئی واقعہ نیپال کے کسی مسلمان کو نہ مجرم بناتا ہے اور نہ ہی اسے صفائی پیش کرنے کا پابند۔ اس لیے احساسِ کمتری یا دفاعی نفسیات سے نکل کر شہری وقار اور اعتماد کے ساتھ معاملات کو دیکھنا اور سنبھالنا ضروری ہے۔
ایسے حالات میں جذباتی ردِعمل سے بچنا نہایت اہم ہے۔ گالی کے جواب میں گالی، اشتعال کے مقابل اشتعال اور نفرت کے بدلے نفرت مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید الجھا دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹس، سخت زبان اور اشتعال انگیز ویڈیوز وقتی طور پر دل کا بوجھ ہلکا کر سکتی ہیں، لیکن طویل مدت میں یہی رویے مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جذباتی ردِعمل عموماً شرپسند عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے، مظلوم کو نہیں۔
اگر کسی مسلمان کو زبانی، جسمانی یا آن لائن طور پر ہراساں کیا جائے، دھمکایا جائے یا نفرت انگیز مواد کا نشانہ بنایا جائے تو سب سے مؤثر راستہ قانون کا ہے۔ ایسے میں ثبوت محفوظ کرنا، جیسے پیغامات، ویڈیوز یا سوشل میڈیا پوسٹس، نہایت ضروری ہے۔ اس کے بعد مقامی پولیس میں شکایت درج کرانا، انسانی حقوق کمیشن یا متعلقہ قانونی اداروں سے رجوع کرنا ایک مہذب اور مؤثر طریقہ ہے۔ مسئلے کو ہجوم یا جذباتی نعروں کے بجائے ادارہ جاتی سطح پر اٹھانا ہی دیرپا نتائج دے سکتا ہے۔ قانون کمزور نہیں ہوتا، اکثر ہم خود اسے استعمال نہیں کرتے، اور یہی ہماری اصل کمزوری بن جاتی ہے۔
یہ بات بھی پوری سنجیدگی سے سمجھنی چاہیے کہ چند افراد کی ناپسندیدہ حرکات پوری ہندو برادری کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ نیپال کے لاکھوں ہندو شہری مسلمانوں کے ساتھ پرامن، دوستانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلق رکھتے ہیں۔ اگر “ہندو بمقابلہ مسلمان” کا بیانیہ اپنایا جائے تو اس سے بقائے باہمی کو شدید نقصان پہنچتا ہے، اور اس کا فائدہ صرف نفرت پھیلانے والے عناصر کو ہوتا ہے، نہ کہ عام مسلمانوں کو۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر مکالمہ اور رابطے کو مضبوط بنانا بھی نہایت ضروری ہے۔ مساجد، مدارس اور مسلم تنظیموں کو چاہیے کہ وہ مقامی سماجی شخصیات، ہندو مذہبی رہنماؤں اور شہری نمائندوں کے ساتھ مستقل رابطہ رکھیں۔ کسی ناخوشگوار واقعے کے بعد وضاحت، بات چیت اور اعتماد سازی کے دروازے کھلے رکھنا بہت سی غلط فہمیوں کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے۔ خاموشی ہر وقت کمزوری نہیں ہوتی، بعض اوقات یہی خاموشی حکمت بن جاتی ہے، اور شائستہ گفتگو بڑے تنازعات کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔
اس پورے عمل میں نوجوانوں کی تربیت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اکثر جذباتی ردِعمل انہی کی طرف سے سامنے آتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ ہر ویڈیو یا خبر سچ نہیں ہوتی، ہر اشتعال انگیزی کا جواب دینا لازم نہیں، اور ایک ذمہ دار شہری بننا بھی ایمان اور اخلاق کا تقاضا ہے۔ جذبہ ضرور ہو، مگر شعور کے ساتھ، اور غیرت ضرور ہو، مگر قانون کے دائرے میں۔
اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ مشکل حالات میں صبر، عدل، حکمت اور حسنِ اخلاق کو اختیار کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ جیسے کٹھن ماحول میں بھی نہ قانون شکنی کی، نہ اجتماعی فساد کو ہوا دی، بلکہ اپنے اعلیٰ اخلاق اور صبر کے ذریعے دل جیتے۔ آج نیپال میں مسلمان اقلیت میں ہیں، اور ایسے ماحول میں اخلاقی برتری اور قانونی مضبوطی ہی ان کی اصل طاقت ہے۔
بالآخر یہ حقیقت سامنے رہنی چاہیے کہ تعلیم، دیانت داری، سماجی خدمت اور قانون پسندی ہی وہ مثبت کردار ہیں جو مسلمانوں کے بارے میں پائے جانے والے منفی تصورات کو توڑتے ہیں، اکثریتی برادری کے اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں اور آئندہ ہراسانی کے امکانات کو کم کرتے ہیں۔ دنیا کے کسی واقعے کی سزا نیپال کے مسلمانوں کو دینا نہ اخلاقی ہے اور نہ قانونی، لیکن اس ناانصافی کا جواب شور، غصے اور نفرت سے نہیں بلکہ صبر، قانون، مکالمے اور مثبت کردار سے دینا ہی سب سے مؤثر اور باوقار راستہ ہے۔ یہی طرزِ عمل مسلمانوں کے وقار، ان کے مستقبل اور نیپال کی مشترکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے سب سے بہتر ہے۔