از:- ڈاکٹر سلیم انصاری
جھاپا، نیپال
نیپال اس وقت اپنی سیاسی تاریخ کے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پارلیمانی انتخابات محض حکومت سازی کا عمل نہیں ہوتے، بلکہ یہ کسی قوم کی اجتماعی سوچ، عوامی ترجیحات اور مستقبل کی سمت کا تعین بھی کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ملک کی تمام برادریوں، خصوصاً اقلیتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ جذبات، افواہوں یا وقتی خوف کے بجائے دانشمندی، سیاسی شعور اور قومی مفاد کی بنیاد پر اپنا کردار ادا کریں۔ نیپال کے مسلمان بھی اس قومی عمل کا ایک اہم حصہ ہیں، اس لیے ان کی سیاسی شرکت ذمہ دارانہ، متوازن اور دوراندیش ہونی چاہیے۔
نیپال کی سیاست طویل عرصے تک چند بڑی اور روایتی جماعتوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ نیپالی کانگریس ملک کی قدیم جمہوری جماعت رہی ہے جس نے مختلف ادوار میں حکومت کی قیادت کی اور جمہوری نظام کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح سی پی این–یو ایم ایل (CPN-UML) بائیں بازو کی ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی، جس نے تنظیمی سطح پر ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی بنیادیں مضبوط کیں۔ اس کے علاوہ سی پی این (ماؤسٹ سینٹر) نے سیاسی تبدیلی، سماجی انصاف اور ریاستی ڈھانچے میں اصلاحات کے نعروں کے ساتھ نیپال کی سیاست میں اہم مقام حاصل کیا۔ ان تمام جماعتوں میں مختلف ادوار میں مسلمان رہنما اور کارکن شامل رہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلم برادری مجموعی طور پر ابھی تک ایک مضبوط اور مؤثر سیاسی قوت کے طور پر منظم نہیں ہو سکی۔ اکثر مسلمان ووٹ بینک کے طور پر استعمال ہوئے، جبکہ تعلیم، معاشی ترقی، نمائندگی اور سماجی مواقع جیسے ان کے بنیادی مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔
گزشتہ چند برسوں میں نیپال کی سیاست میں تبدیلی کی ایک نئی لہر ابھری ہے جس نے روایتی سیاست کو چیلنج کیا ہے۔ اسی پس منظر میں راشٹریہ سوتنترا پارٹی (RSP) سامنے آئی، جس کی قیادت معروف صحافی اور عوامی شخصیت ربی لامیچھانے کر رہے ہیں۔ شہری سطح پر بدعنوانی کے خلاف سخت مؤقف اور انتظامی اصلاحات کی علامت سمجھے جانے والے بالین شاہ جیسے چہرے بھی اسی تبدیلی کی سوچ کے نمائندہ تصور کیے جاتے ہیں۔ اس نئی سیاست کی مقبولیت، خصوصاً نوجوانوں، تعلیم یافتہ طبقے اور شہری عوام میں، اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی ایک بڑی اکثریت روایتی سیاسی ڈھانچے سے مایوس ہو کر حقیقی تبدیلی چاہتی ہے۔
آر ایس پی کے ابھار کے ساتھ مسلمانوں کے بعض حلقوں میں خدشات بھی پیدا ہوئے۔ کچھ لوگوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ نئی سیاسی قوتیں اقلیتوں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم، جب ان خدشات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر تحفظات ٹھوس حقائق کے بجائے سیاسی پروپیگنڈا، سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ معلومات اور تبدیلی کے خوف سے پیدا ہونے والی نفسیاتی بے یقینی کا نتیجہ ہیں۔
اگر آر ایس پی کے بنیادی دستاویزات، پارٹی منشور اور ان کے قائدین کے آفیشل بیانات کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی سیاست کی بنیاد شہریت، میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر ہے۔ ان کے سرکاری بیانات اور اب تک کا سیاسی عمل اس پروپیگنڈے کے بالکل برعکس ہے؛ یہ جماعت نہ تو کسی خاص مذہب کے خلاف ہے، نہ کسی ذات پات کی تفریق پر یقین رکھتی ہے اور نہ ہی جنس کی بنیاد پر کسی امتیاز کی حامی ہے۔
اب تک ایسا کوئی واضح نظریہ یا عملی اقدام سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ آر ایس پی کسی مذہب، ذات یا مخصوص برادری کے خلاف کھڑی ہے۔ سیاسی مقابلے میں اکثر نئی جماعتوں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں تاکہ ووٹرز کو خوفزدہ کیا جا سکے، اس لیے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کے بجائے حقیقت، جماعتی دستاویزات اور عملی کارکردگی کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کریں۔
جمہوریت میں اکثریت کی رائے ایک اہم حقیقت ہوتی ہے جسے نظر انداز کرنا سیاسی حکمت کے خلاف ہے۔ جب ملک کی بڑی آبادی تبدیلی کے حق میں کھڑی ہو تو اقلیتوں کے لیے دانشمندی یہی ہے کہ وہ خود کو قومی دھارے سے الگ نہ کریں، بلکہ اس تبدیلی کے عمل میں مثبت انداز میں شریک ہوں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب کوئی برادری خود کو قومی رجحان سے الگ کر لیتی ہے تو وہ سیاسی طور پر کمزور ہو جاتی ہے اور اس کی آواز مؤثر نہیں رہتی۔ اس تناظر میں ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی تجربے سے بھی سبق لیا جا سکتا ہے، جہاں بعض مواقع پر خوف یا بدگمانی کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں نے اجتماعی سیاسی اثر کو محدود کر دیا۔ نیپال کے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے تجربات سے سیکھیں اور جذباتی ردعمل کے بجائے حکمت پر مبنی سیاسی رویہ اختیار کریں۔
سیاسی نظام میں کسی جماعت کو مستقل دوست یا مستقل دشمن سمجھنا بذاتِ خود ایک بڑی غلطی ہے۔ جمہوریت میں پارٹیاں بدلتی رہتی ہیں، قیادت تبدیل ہوتی ہے اور پالیسیاں حالات کے مطابق نئی شکل اختیار کرتی ہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ قوم اور برادری اپنے مفادات کو کس انداز میں محفوظ رکھتی ہے۔ اگر مسلمان ہر سیاسی قوت کے ساتھ مکالمہ اور مثبت تعلق قائم رکھیں، اپنے مسائل کو دلیل اور سنجیدگی کے ساتھ پیش کریں اور قومی ترقی کے ایجنڈے میں فعال کردار ادا کریں تو وہ زیادہ مؤثر طریقے سے اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ کسی جماعت کو پیشگی طور پر دشمن تصور کر لینا سیاسی تنہائی پیدا کرتا ہے، جبکہ اعتماد اور مکالمہ نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
نیپال ایک کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی معاشرہ ہے جہاں باہمی احترام اور تعاون ہی قومی استحکام کی بنیاد ہے۔ موجودہ سیاسی مرحلے میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ افواہوں کے بجائے حقائق پر بھروسہ کریں، قومی تبدیلی کے رجحان کو سمجھیں اور کسی بھی سیاسی جماعت کے بارے میں بلاوجہ بدگمانی سے بچیں۔ ووٹ صرف جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جس کے ذریعے قومی اور ملی مفادات کے درمیان توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔
آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آر ایس پی ہو یا کوئی دوسری جماعت، کوئی پارٹی فطری طور پر نہ دوست ہوتی ہے اور نہ دشمن۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی سیاسی بصیرت، اتحاد اور مثبت شرکت کے ذریعے خود کو قومی ترقی کا فعال حصہ بنائیں۔ جب اکثریت تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہو تو دانشمندی اسی میں ہے کہ مسلمان بھی اس عمل کو سمجھیں، اس میں حصہ لیں اور کسی کو بلاوجہ حریف بنانے کے بجائے مشترکہ قومی مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہی طرزِ عمل نہ صرف مسلمانوں کے ملی مفاد کے لیے بہتر ہے بلکہ نیپال کے مضبوط، ہم آہنگ اور ترقی یافتہ مستقبل کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔