از:- عارف حسین ایڈیٹر سیل رواں
فلمی دنیا کی چکاچوند ہمیشہ سے عام آدمی کو مرعوب کرتی رہی ہے۔ اسکرین پر نظر آنے والے چہرے ہمیں خوش، کامیاب اور بے فکر دکھائی دیتے ہیں، جیسے زندگی نے انہیں ہر آسائش عطا کر رکھی ہو۔ مگر حقیقت اکثر اس تصور کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ بسا اوقات قہقہوں کے پیچھے ایسا کرب پوشیدہ ہوتا ہے جس کا اندازہ تماشائی کو کبھی نہیں ہو پاتا۔ بالی وُڈ کے معروف مزاحیہ اداکار راجپال یادو کی حالیہ صورتحال اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ شہرت اور کامیابی کی دنیا کتنی عارضی اور بے رحم ہو سکتی ہے۔
راجپال یادو وہ اداکار ہیں جنہوں نے برسوں اپنی جاندار اداکاری سے لاکھوں ناظرین کو ہنسایا۔ ان کی موجودگی فلم میں قہقہے اور مسرت کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ مگر زندگی کے اسٹیج پر لکھا گیا کردار اکثر انسان کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتا۔ ۲۰۱۰ میں اپنی فلم "اٹا پٹا لپتا” کی تیاری کے لیے انہوں نے ایک کمپنی سے تقریباً پانچ کروڑ روپے کا قرض لیا۔ فلم کی ناکامی نے مالی توازن بگاڑ دیا، ادائیگی ممکن نہ ہو سکی اور معاملہ قانونی پیچیدگیوں میں الجھتا چلا گیا۔ چیک باؤنس کے مقدمات، عدالتوں کے چکر اور بڑھتا ہوا قرض آخرکار اس مقام تک لے آیا جہاں سزا ناگزیر ہو گئی اور دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر انہیں سرنڈر کرنا پڑا۔
عدالت میں ان کا یہ جملہ کہ "میرے پاس اب کچھ نہیں بچا” محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی بے بسی کا اظہار تھا جو شہرت کی بلندیوں سے یکایک تنہائی کی گہرائی میں جا گرا ہو۔ یہ منظر اس لیے بھی تکلیف دہ ہے کہ جس شخص نے دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں، آج وہ خود سہارا تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ فلمی دنیا کی تالیاں اور تعریفیں مشکل وقت میں ساتھ نہیں دیتیں؛ وہاں انسان آخرکار اپنی ذات اور اپنے حالات کے ساتھ اکیلا رہ جاتا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک اداکار کے قانونی مسئلے تک محدود نہیں بلکہ ہمارے سماجی رویّوں پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ ہم کامیاب لوگوں کو دیوتا بنا دیتے ہیں اور ناکامی کی گھڑی میں انہیں فراموش کر دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ بھی ہماری ہی طرح جذبات، کمزوریوں اور غلطیوں کے حامل انسان ہوتے ہیں۔ شہرت کی چمک وقتی ہوتی ہے، جبکہ زندگی کی سختیاں مستقل۔ یہی تضاد اکثر بڑے ناموں کو بھی اندر سے توڑ دیتا ہے۔
راجپال یادو کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی کی اصل حقیقت پردۂ سیمیں کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔ ہر مسکراتا چہرہ لازماً مطمئن نہیں ہوتا اور ہر کامیاب نظر آنے والا شخص اندرونی کشمکش سے آزاد نہیں ہوتا۔ شاید ہمیں ہنسی بانٹنے والوں کے دکھ کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وقت کا پہیہ کسی کے لیے نہیں رکتا اور زوال کا لمحہ کسی کے دروازے پر بھی دستک دے سکتا ہے۔