ایکس مسلم یوٹیوبر پر حملے کا معاملہ: دوسرا ملزم بھی پولیس مقابلے میں ہلاک

اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں سابق مسلمان یوٹیوبر سلیم واستک پر جان لیوا حملے کے معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دوسرے ملزم کو بھی انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق ایک لاکھ روپے کے انعامی ملزم گلفام پولیس مقابلے میں مارا گیا، جس کے بعد اس کیس کے دونوں مرکزی ملزمان ہلاک ہو چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق 26 فروری کو لونی کے علاقے میں واقع سلیم واستک کے گھر میں دو افراد داخل ہوئے اور ان پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے ان کا گلا کاٹنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

اس واقعے کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو فوری کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔

تحقیقات کے دوران ایک ملزم پہلے ہی پولیس مقابلے میں مارا جا چکا تھا، جبکہ بدھ کے روز دوسرے ملزم گلفام کو بھی پولیس نے مقابلے میں ہلاک کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی تلاش کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں وہ مارا گیا۔

پولیس کے مطابق زخمی یوٹیوبر سلیم واستک سوشل میڈیا پر خود کو "ایکس مسلم” کے طور پر پیش کرتے ہیں اور مذہبی موضوعات پر ویڈیوز بناتے رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں، تاہم پولیس نے حملے کے محرکات کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔