از:- عمیر احمد اعظمی
آسام کے ریاستی انتخابات نے ایک بار پھر مسلم قیادت کے طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک جانب مولانا بدرالدین اجمل اپنی جماعت کے ساتھ انتخابی میدان میں موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ان کے حق میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے کھلی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک سیاسی اتحاد یا ہم آہنگی کی صورت ہے، جو جمہوری سیاست کا حصہ سمجھی جا سکتی ہے۔
تاہم اسی مرحلے پر مولانا سید محمود اسعد مدنی کی قیادت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے مولانا بدرالدین اجمل کو نوٹس جاری کیا جانا معاملے کو ایک مختلف رخ دے دیتا ہے۔ سوال محض اختلاف کا نہیں، بلکہ اس کے وقت، انداز اور اثرات کا ہے۔ عین انتخابی ماحول میں اس نوعیت کا اقدام فطری طور پر کئی شبہات کو جنم دیتا ہے۔
اس وقت سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کشمکش نے عام مسلمانوں کے درمیان ذہنی انتشار پیدا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں واضح طور پر دو رُخ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طبقہ ایک قیادت کے ساتھ، دوسرا کسی اور کے ساتھ۔ اس صورت حال میں اصل نقصان اس عام فرد کا ہو رہا ہے جو رہنمائی کا طلبگار ہے مگر اسے متضاد اشارے مل رہے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اختلاف اگر اپنی حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ رہنمائی کے بجائے انتشار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ قیادت کی ذمہ داری صرف موقف اختیار کرنا نہیں، بلکہ اس کے نتائج کو بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ اگر بیانات اور فیصلے عوام کو تقسیم کی طرف لے جائیں تو ان پر نظرِ ثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے کردار پر بھی سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی تنظیم، جس کی پہچان رفاہی اور سماجی خدمات سے جڑی رہی ہے، اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دے گی۔ لیکن انتخابی موقع پر اس نوعیت کی مداخلت، چاہے وہ اصولی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، عملی طور پر تقسیم کو بڑھاوا دیتی نظر آتی ہے۔ اسی لیے بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آیا یہ محض اصولی موقف ہے یا اس کے پس پشت قیادت اور اثر و رسوخ کی کشمکش بھی کارفرما ہے۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اپنی پالیسی کو زیادہ واضح اور دوٹوک انداز میں پیش کرے۔ اگر وہ عملی سیاست میں کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے کھلے میدان میں آنا چاہیے، اور اگر اس کی ترجیح سماجی و اصلاحی خدمات ہیں تو پھر اسی دائرے میں اپنی توانائیاں مرکوز رکھنی چاہئیں۔ انتخابی مواقع پر رسمی بیانات اور خطوط کے ذریعے حمایت یا مخالفت کا اظہار ایک سنجیدہ ادارے کے وقار سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ طرزِ عمل سے اتحاد کے بجائے افتراق کو تقویت مل رہی ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو عوامی سطح پر تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے، جس کا نقصان کسی ایک فریق کو نہیں بلکہ پوری ملت کو اٹھانا پڑے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ذمہ دار شخصیات حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنے اختلافات کو اس حد تک محدود رکھیں جہاں تک وہ تعمیری رہیں۔ بصورت دیگر، وقتی سیاسی حکمت عملی طویل مدتی اجتماعی نقصان کا سبب بن سکتی ہےاور اس کی تلافی آسان نہیں ہوگی۔