از:- ڈاکٹر غلام زرقانی
چیئرمین حجاز فاؤنڈیشن ، امریکہ
دوچاردنوں پہلے براعظم افریقہ کے کنارے واقع ’صومالی لینڈ‘ کو ایک ملک کے طورپر اسرائیل نے تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ اعلان بھی کیا کہ جلد ہی دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے سفارت خانے کھولے جائیں گے۔ یہ خبر جوں ہی اسرائیلی دارالحکومت سے ذرائع ابلاغ کے حوالے ہوئی ، عالم اسلام میں سنسنی پھیل گئی ۔ اب تک کئی اسلامی ممالک سرکاری طورپر مذمتی قرار داد پاس کرچکے ہیں ۔ اس پس منظر میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ’صومالی لینڈ‘ اسرائیل سے ہزاروں میل دور ہے ، جہاں یہودی بھی برائے نام ہی ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ ’عنایت خسروانہ ‘ آخر ایک ایسے ملک کی طرف سے کیوں کر ہے ، جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھیانک جرائم ، سفاکانہ مظالم اور انسانیت سوز اقدامات کے حوالے سے روئے زمین پر اپنی نظیر نہیں رکھتا؟
آگے بڑھنے سے پہلے ذرا ’صومالی لینڈ ‘ سے متعارف تو ہولیں ۔ تاریخی وثائق بیان کرتے ہیں کہ۱۹۶۰ء میں صومالیہ کے دونوں حصے یعنی اطالوی صومالیہ اور برطانوی صومالیہ باہمی معاہدہ کے ذریعہ متحد ہوئے اور ’جمہوریہ صومالیہ ‘ کہلائے ۔۱۹۶۹ء میں جنرل محمد صیاد بری نے بغاوت کردی اور زمام اقتدار اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ بتایا جاتاہے کہ صیاد بری نہایت ہی سخت مزاج اور ظالم وجابرحکمراں تھا، جس نے اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف انسانیت سوز اقدامات کیے ۔ بالآخر ۱۹۸۱ء میں صیاد بری کے خلاف موجودہ صومالی لینڈ میں ’صومالی قومی تحریک‘ کے نام سے مزاحمت شروع ہوئی ۔دھیرے دھیرے اس تحریک کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور جب یہ صیاد بری کے دوام اقتدار کے لیے خطرہ بنتی ہوئی محسوس ہوئی، توحکومت کی سرپرستی میں سخت اقدامات کیے جانے لگے ۔ ایک محدوداندازے کے مطابق ۱۹۸۷ء۔۱۹۸۹ ء کے درمیان پرتشدد فوجی کاروائی میں دولاکھ لوگ لقمہ اجل بنے اور پانچ لاکھ افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ۔ اسی درمیان ۲۷؍جنوری ۱۹۹۱ء میں صیاد بری کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیااور ملک میں انارکی پھیل گئی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مقامی قبائل ایک بار پھر سے سر جوڑ کر بیٹھے اور انھوںنے ۱۸؍مئی ۱۹۹۱ء میں ’صومالی لینڈ‘ کے نام سے ’سابق برطانوی صومالیہ ‘ کی حدود کے دائرے میں ایک علیحدہ ملک کے قیام کا اعلان کردیا۔ انھوںنے اپنی ایک فوج بھی تشکیل دی اور خرید وفروخت کے لیے کرنسی بھی متعارف کرائی ۔ تاہم اس وقت سے لے کر آج تک اسے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔
ویسے لگے ہاتھوں ایک عینی مشاہدے کی جھلک بھی پیش نگاہ رہے ۔ صیاد بری حکومت کے خاتمے پر قتل وغارت گری اور لوٹ مارکی جو وباپھیلی ، اس سے ملک تباہی وبربادی کے راستے پر چل پڑا۔ اس کی ایک مثال تومیرے سامنے ہے ۔ ملک میں جب حالات نہایت ہی نا گفتہ بہ ہوگئے توبہت بڑی تعداد میں لوگ بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ۔انھیں میں ایک کساؤ خاندان بھی ہے ، جس کے زیادہ ترافراد ہیوسٹن ،امریکہ میں منتقل ہوئے ۔ ان کے چھوٹے صاحبزادے ہمارے ادارے میں معاون مدرس ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد گرامی صومالیہ کے مشہور ومعروف تاجر تھے ۔ سونے چاندی اور جواہرات کی کئی دکانیں شہر میں تھیں ۔لق ودق زمینیں اور کئی تجارتی مراکز کے مالک تھے ۔ ملک میں شہرت وعزت کا یہ عالم تھا کہ ایئر پورٹ پر اتر کر کسی بھی ٹیکسی والے کو اگر کہہ دیا جائے کہ اسے کساؤ خاندان کے یہاں پہنچادو، تومزید تفصیلات بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ تاہم جب ملک میں بدامنی پھیلی ، توہیرے جواہرت کی دکانیں لوٹ لی گئیں اور تجارتی مراکز پر مسلح جتھے قابض ہوگئے ۔ اس طرح ایک باوقار ، شہرت یافتہ اور مالدار خاندان آسمان سے زمین پر آگرا۔قرین قیاس یہ ہے کہ اِس طرح کی یہی کوئی ایک دوکہانیاں نہیں ہیں ، بلکہ تباہی وبربادی کی خونچکاں داستان سنانے والے اب بھی یورپ وامریکہ کے بیشتر شہروں میں آباد ہیں ۔
بہر کیف، میں عرض کررہاتھا کہ ’صومالی لینڈ‘ نےگوشۂ تنہائی میں ایام گزارے ہیں ، اس لیے زمینی حقائق اور سیاسی حالات کی آزادانہ تحقیق سردست مشکل ہے ۔ میں نے بسیار کوشش کی کہ یہاں رہنے والوں کی تعداد اور مذہب معلوم ہوسکے ، لیکن جو بھی معلومات دستیاب ہیں ، وہ بہت حدتک تخمینے کے زمرے میں آتی ہیں ۔ بتایا جاتاہے کہ یہاں کی کل آبادی ساٹھ لاکھ سے زیادہ نہیں ہے ۔ ان میں نناوے فیصدی لوگ مذہب اسلام سے تعلق رکھتے ہیں ۔ حیرت یہ ہے کہ یہاں یہودی خاندان کے رہائش پذیر ہونے کے بارے میں حتمی طور پر کوئی شواہد موجود نہیں ہیں ۔ یہودی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہاں یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ یہودی خاندان ہوسکتے ہیں ، لیکن یقینی طورپر کچھ نہیں کہا جاسکتاہے۔
ٍ صاحبو! آپ محسوس کررہے ہیں کہ تقریبا پینتیس سالوں سے تنہائی کے ایام گزارنے والے ملک کے ساتھ اسرائیل کی ہمدردی آخر کیوں ہے؟ ایسا بھی نہیں ہےکہ یہاں زیر زمین پیٹرول کے کنوئیں ہوں یا معدنیا ت کے قیمتی ذخائر ہونے کی توقع ہو، جو اسرائیلی ہمدردی کی وجہ بن سکے ۔ اور اس پر تماشہ یہ ہےکہ یہاں کی نناوے فیصد آبادی مذہب اسلام کے ماننے والوں کی ہے اور یہودی قبائل کے وجود کے دور دور تک کوئی حتمی شواہد بھی نہیں ہیں ۔مزید یہ کہ متذکرہ ہمدردی کے جذبات انسانیت دوستی کی بنیادپرہونے کے امکانات تو معدوم ہی ٹھہرے ۔ اس لیے دے لے کے مجھے ایسا محسوس ہوتاہے کہ صومالی لینڈ کے حوالے سے اسرائیل کی حالیہ پالیسی چار ممکنہ اہداف تک پہنچنے کی کوشش ہوسکتی ہے ۔ پہلی یہ کہ اسرائیل براعظم افریقہ میں اپنے قدم جمانے کی تاک میں ہے ۔ اب جب کہ صومالی لینڈ پینتیس سالوں سے دنیا سے الگ تھلگ ہے ، تویہ موقع اسرائیل کے لیے بھی غنیمت ہے اور صومالی لینڈ کے ذمہ داروں کے لیے بھی کہ کسی طرح قید تنہائی سے نکلنے کی کوئی صورت تونکل آئی ۔ اب ہوگا یہ کہ اس عنایات خسرانہ کے بدلے اسرائیل صومالی لینڈ میں سفارت خانہ قائم کرے گا اور اطراف وجوانب کے ممالک میں اپناسیاسی اثرورسوخ بڑھانے کی خفیہ جدوجہد شروع کردے گا۔ اس طرح اسے عالمی نقشے پر ہاتھ پاؤں پھیلانے کے مواقع ہاتھ لگ جائیں گے۔ اور دوسرا ہدف یہ ہے کہ مزید ایک مسلم ملک ابراہیمی معاہدہ کی فہرست میں شامل ہوجائے گا، جس کی تصدیق صومالیہ لینڈ کے ذمہ داروں نے کردی ہے ۔ خیال رہے کہ’ ابراہیمی معاہدہ ‘سے اشارہ یہ ہے کہ مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب ہیں ، اس لیے دونوں کے ماننے والوں کے درمیان رقابت نہیں ہونی چاہیے ۔ لہذا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اسلامی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بہتر بنانے میں لگے ہوئے ہیں، جسے انھوں نے ابراہیمی معاہدہ سے موسوم کررکھاہے۔اور تیسرا ہدف تو خوب طشت از بام ہے اور وہ یہ کہ مسلم ممالک میں باہمی اختلافات کو فروغ دینے کی مذموم کوشش ، جس کی عملی تصویر سامنے دکھائی دینے لگی ہے ۔ ابھی حال ہی میں کئی عرب ممالک نے اسرائیلی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے صومالی لینڈ کے قیام کی مخالفت کی ہے ۔اور چوتھا ہدف یہ کہ دھیرے دھیرے غزہ کے مسلمانوں کو جبرا منتقل کرکے صومالی لینڈ میں بسانے کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ اِسے کہتے ہیں شاطر کی شاطرانہ چال ، جس کے ایک اقدام کے عوض چوطرفہ فائدے بہ آسانی ہاتھ آرہے ہیں۔