"دی للن ٹاپ، سوروبھ دیویدی” اور ایک بنیادی سوال
از: عارف حسین، ایڈیٹر سیل رواں
برسوں سے یہ تاثر عام تھا کہ "دی للن ٹاپ” ایک آزاد ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہے، ایسا پلیٹ فارم جو روایتی کارپوریٹ میڈیا کے دباؤ، مفادات اور ایڈیٹوریل مجبوریوں سے الگ ہو کر اپنی بات رکھتا ہے۔ اس تاثر کی تشکیل میں اس کے نمایاں چہرے "سوروبھ دیویدی” کا بھی نمایاں کردار رہا۔ وہ اپنی بیشتر شوز میں متعدد بار [انڈیا ٹوڈے گروپ] کو ’’سہیوگی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے رہے، جس سے یہ سمجھا گیا کہ دونوں کے درمیان تعلق شراکت داری کا ہے، نہ کہ آجر و ملازم کا۔
اسی پس منظر میں جب سوروبھ دیویدی کو مختلف مواقع پر "آج تک” کے پلیٹ فارم پر پروگرام ہوسٹ کرتے دیکھا گیا تو یہ خیال مزید مضبوط ہوا کہ یہ محض ادارہ جاتی تعاون ہے۔ ایک ایسا انتظام جس میں صحافی اپنی شناخت اور آزادی برقرار رکھتے ہوئے بڑے میڈیا ہاؤس کے وسائل استعمال کر رہا ہے۔ یہی تاثر ناظرین کے ذہنوں میں جگہ بناتا چلا گیا۔
تاہم حالیہ اعلان، جس میں سوروبھ دیویدی نے انڈیا ٹوڈے گروپ سے علیحدگی اختیار کرنے کی بات کہی، نے اس پورے بیانیے کو نئے سوالات کے دائرے میں لا کھڑا کیا۔ اس موقع پر یہ بات واضح ہوئی کہ "دی للن ٹاپ کوئی ذاتی یا مکمل طور پر آزاد ادارہ نہیں بلکہ انڈیا ٹوڈے گروپ کا ایک ڈیجیٹل پروجیکٹ تھا” ۔ یعنی جس پلیٹ فارم کو آزادی کی علامت سمجھا جا رہا تھا، وہ دراصل اسی کارپوریٹ ڈھانچے کے اندر کام کر رہا تھا جس سے خود کو مختلف ظاہر کیا جاتا رہا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس تجزیے کا مقصد سوروبھ دیویدی کی محنت، صلاحیت یا صحافتی کردار کو مشکوک ٹھہرانا نہیں ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ "دی للن ٹاپ کو عوامی سطح پر مقبول بنانے، نوجوان طبقے میں جگہ دلانے اور ایک الگ شناخت قائم کرنے میں سوروبھ کا کردار اہم رہا ہے”۔ تاہم اصل مسئلہ فرد کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوام نے جس پلیٹ فارم پر اعتماد کیا، وہ اعتماد کن بنیادوں پر استوار تھا؟۔
یہی وہ مقام ہے جہاں "کارپوریٹ میڈیا اور عوامی اعتماد” آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔ کارپوریٹ میڈیا بخوبی جانتا ہے کہ عوام اب اداروں پر براہِ راست بھروسا نہیں کرتے، اسی لیے ادارے کے بجائے چہرے کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ صحافی کو برانڈ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، آزادانہ صحافت کا تاثر قائم کیا جاتا ہے، اور ناظرین اس چہرے پر اعتماد کر لیتے ہیں—جبکہ پسِ پردہ ایڈیٹوریل حدود، معاشی مفادات اور ادارہ جاتی فیصلے اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔
یہ معاملہ صرف دی للن ٹاپ تک محدود نہیں بلکہ "ڈیجیٹل میڈیا کے اس پورے رجحان” کی عکاسی کرتا ہے جہاں شفافیت کے مقابلے میں تاثر کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ناظرین کو اکثر یہ نہیں بتایا جاتا کہ پلیٹ فارم کی اصل ملکیت کیا ہے، فیصلے کہاں ہوتے ہیں اور آزادی کی سرحد کہاں ختم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً جس ’’آزاد صحافت‘‘ پر عوام اعتماد کرتے ہیں، وہ اکثر کارپوریٹ فلٹر سے گزر کر ہی ان تک پہنچتی ہے۔
سوروبھ دیویدی کی علیحدگی کو محض ایک ادارہ جاتی تبدیلی یا کیریئر شفٹ قرار دینا اس معاملے کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔ یہ واقعہ ایک بنیادی سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے:
کیا میڈیا میں آزادی کا تعین محض چہروں سے ہوگا، یا ادارہ جاتی ساخت اور شفافیت سے؟۔
جب تک کارپوریٹ میڈیا اپنی ملکیت، مفادات اور ایڈیٹوریل حدود کے بارے میں دیانت داری کے ساتھ عوام کو آگاہ نہیں کرتا، تب تک عوامی اعتماد ایک دعویٰ ہی رہے گا اور اعتماد اگر ایک بار مجروح ہو جائے تو محض نیا چہرہ سامنے لانے سے بحال نہیں ہوتا۔